خلا سے بجلی: کیا توانائی کا مستقبل زمین سے باہر ہے؟


صاف توانائی کی دوڑ اب شاید زمین تک محدود نہ رہے۔ دنیا کے مختلف ممالک قابلِ تجدید ذرائع پر کام کر رہے ہیں، مگر اب ایک ایسا تصور سامنے آیا ہے جو اس مقابلے کو خلا تک لے جا سکتا ہے۔ چین ایک بڑے پیمانے کے خلائی شمسی نظام پر تحقیق کر رہا ہے جس کا مقصد مدار میں سورج کی روشنی جمع کرنا اور پھر اسے بغیر تاروں کے زمین تک منتقل کرنا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی خیال سادہ مگر غیر معمولی ہے۔ خلا میں سورج کی روشنی زمین کے مقابلے میں زیادہ مسلسل اور طاقتور ہوتی ہے، کیونکہ وہاں بادل، رات دن کا فرق اور موسمی رکاوٹیں موجود نہیں ہوتیں۔ اگر شمسی پینل زمین کے گرد مدار میں نصب کر دیے جائیں تو وہ تقریباً چوبیس گھنٹے توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس توانائی کو مائیکروویو یا لیزر شعاعوں کے ذریعے زمین پر موجود اسٹیشنوں تک بھیجا جا سکتا ہے، جہاں اسے دوبارہ بجلی میں تبدیل کیا جائے گا۔

تحقیق کے مطابق زیرِ غور نظام کا سائز ایک کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ یہ پیمانہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منصوبہ کتنا وسیع ہے۔ خلا میں اتنے بڑے ڈھانچے کی تیاری، اس کی تنصیب اور اسے مستحکم رکھنا ایک بڑی تکنیکی آزمائش ہوگی۔ مگر اگر یہ کامیاب ہو جائے تو اس کے نتائج توانائی کے شعبے میں نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

زمین پر موجود شمسی توانائی کے نظام موسم اور جغرافیے کے محتاج ہوتے ہیں۔ بادلوں، دھند یا رات کے وقت بجلی کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، خلا میں نصب نظام ان مسائل سے تقریباً آزاد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کی فراہمی زیادہ مستقل اور قابلِ پیش گوئی ہو سکتی ہے۔ ایسی بجلی جو نہ کوئلے پر انحصار کرے اور نہ ہی تیل و گیس پر، ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنا آسان نہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں توانائی کو محفوظ طریقے سے زمین تک کیسے پہنچایا جائے۔ مائیکروویو یا لیزر کے ذریعے ترسیل کا نظریہ موجود ہے، مگر اس کی کارکردگی، حفاظت اور لاگت پر مزید تحقیق درکار ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ عملی طور پر حاصل ہونے والی بجلی کتنی ہوگی اور آیا وہ معاشی طور پر قابلِ عمل ثابت ہو گی یا نہیں۔

ایک اور چیلنج لاگت کا ہے۔ خلا میں سامان بھیجنا اب بھی مہنگا عمل ہے، اگرچہ راکٹ ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے اخراجات میں کچھ کمی ضرور کی ہے۔ اتنے بڑے ڈھانچے کی تعمیر کے لیے بار بار مشنز درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ خلا میں مرمت اور دیکھ بھال کا مسئلہ بھی ہوگا، کیونکہ وہاں کسی خرابی کو درست کرنا زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

اس کے باوجود، اس تحقیق کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ انسان توانائی کے صاف اور پائیدار ذرائع کی تلاش میں کس حد تک آگے بڑھنے کو تیار ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ضروریات کے باعث بجلی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم کاربن کے اخراج کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں روایتی ذرائع کے متبادل تلاش کرنا ہوں گے۔

خلائی شمسی توانائی کا تصور نیا نہیں، مگر اب ٹیکنالوجی اس مقام پر پہنچ رہی ہے جہاں اسے سنجیدگی سے آزمایا جا سکتا ہے۔ مصنوعی سیاروں کی تیاری، روبوٹکس اور وائرلیس توانائی کی منتقلی میں ترقی نے اس خیال کو نسبتاً زیادہ حقیقت پسندانہ بنا دیا ہے۔ اگر یہ نظام کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

اس منصوبے کو ایک علامت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے ہمیں روایتی حدود سے باہر سوچنا ہوگا۔ زمین پر توانائی کے وسائل محدود ہیں اور ان کے استعمال کے ماحولیاتی نتائج واضح ہیں۔ خلا میں توانائی جمع کرنے کا تصور ہمیں ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

یقیناً ابھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔ عملی پیداوار کتنی ہوگی؟ کیا یہ نظام محفوظ ہوگا؟ کیا اس کی لاگت برداشت کی جا سکے گی؟ ان سب پہلوؤں پر تحقیق جاری ہے۔ مگر یہ حقیقت اہم ہے کہ انسان اب صرف زمین کے اندر نہیں بلکہ زمین کے باہر بھی حل تلاش کر رہا ہے۔

شاید آنے والے برسوں میں توانائی کی بحث صرف کوئلے، گیس یا زمینی شمسی فارم تک محدود نہ رہے۔ ممکن ہے ہم آسمان کی طرف دیکھ کر بھی بجلی حاصل کریں۔ یہ خیال ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے، مگر اس میں وہ صلاحیت موجود ہے جو عالمی توانائی کے نقشے کو بدل سکتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.