زمین کا مستقبل: فیصلہ آج ہوگا


یہ کوئی دور کی گھنٹی نہیں جو کہیں فاصلے میں بج رہی ہو۔ یہ عمل ابھی جاری ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے، اسی لمحے۔ انسان نے زمین کے درجہ حرارت میں جس رفتار سے اضافہ کیا ہے، وہ ریکارڈ شدہ تاریخ میں بے مثال ہے۔ قدرتی موسمی تبدیلیاں عموماً ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں میں وقوع پذیر ہوتی تھیں، مگر اب یہ تبدیلی چند دہائیوں میں دیکھی جا رہی ہے۔

زمین کا موسم ہمیشہ سے بدلتا رہا ہے۔ برفانی ادوار آئے اور گئے، درجہ حرارت میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ مگر ان سب تبدیلیوں میں ایک بات مشترک تھی: رفتار نسبتاً سست تھی، جس سے جانداروں اور ماحولیاتی نظام کو خود کو ڈھالنے کا وقت مل جاتا تھا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ صنعتی سرگرمیوں، ایندھن کے بے تحاشا استعمال اور جنگلات کی کٹائی نے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار اس حد تک بڑھا دی ہے کہ درجہ حرارت تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔

اس تیزی کے اثرات اب کسی سائنسی رپورٹ تک محدود نہیں رہے۔ شدید گرمی کی لہریں عام ہوتی جا رہی ہیں، بارشوں کا نظام غیر متوازن ہو چکا ہے، کہیں خشک سالی بڑھ رہی ہے تو کہیں سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہو رہی ہیں، برفانی تودے پگھل رہے ہیں اور ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

یہ تبدیلیاں صرف قدرتی مناظر کو نہیں بدل رہیں بلکہ انسانی زندگی پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ زرعی نظام دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ فصلیں غیر متوقع موسم کا سامنا کر رہی ہیں۔ پانی کی قلت کئی خطوں میں سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ کمزور اور غریب کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں اور وہ جلد بحالی کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

حیاتیاتی تنوع بھی خطرے میں ہے۔ بہت سی اقسام اپنے مسکن کھو رہی ہیں۔ کچھ جانور اور پودے بدلتے درجہ حرارت کے مطابق نئے علاقوں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، مگر ہر نوع ایسا کرنے کے قابل نہیں۔ جو رفتار انسان نے پیدا کی ہے، وہ قدرتی ارتقائی عمل سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کئی جانداروں کو مطابقت کا موقع ہی نہیں مل رہا۔

تاہم کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ مستقبل کسی ایک سمت میں طے نہیں ہو چکا۔ آج جو فیصلے کیے جا رہے ہیں، وہ آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کریں گے۔ توانائی کے ذرائع کا انتخاب، جنگلات کا تحفظ، سمندروں کی صفائی، اور ہماری روزمرہ کھپت کے انداز سب اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت کس حد تک بڑھے گا۔

قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ سورج، ہوا اور پانی سے حاصل ہونے والی توانائی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کر سکتی ہے۔ اسی طرح جنگلات کا تحفظ اور نئی شجرکاری کاربن کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سمندری ماحولیاتی نظام کو بچانا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ ذمہ داری صرف حکومتوں یا بڑی صنعتوں تک محدود نہیں۔ انفرادی سطح پر بھی تبدیلی ممکن ہے۔ توانائی کا محتاط استعمال، غیر ضروری اشیا کی خریداری میں کمی، مقامی اور پائیدار مصنوعات کو ترجیح دینا، یہ سب چھوٹے مگر معنی خیز اقدامات ہیں۔ جب کروڑوں لوگ مل کر ایسے فیصلے کرتے ہیں تو مجموعی اثر نمایاں ہوتا ہے۔

انسان نے جس رفتار سے زمین کو گرم کیا ہے، اسی انسان کے پاس اسے سست کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عالمی سطح پر ارادہ مضبوط ہو تو بڑی تبدیلیاں ممکن ہو جاتی ہیں۔ ماحولیاتی معاہدے، سائنسی ترقی اور عوامی شعور اس بات کی مثال ہیں کہ اجتماعی کوشش نتائج لا سکتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ہو رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کا جواب کیسے دیتے ہیں۔ اگر ہم موجودہ رجحان کو نظر انداز کریں گے تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ مستحکم اور محفوظ دنیا ممکن ہے۔

زمین کا مستقبل پتھر پر لکھی تحریر نہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا ہر باب ہمارے فیصلوں سے ترتیب پاتا ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جس کے پاس خطرے کو سمجھنے کا علم بھی ہے اور راستہ بدلنے کی طاقت بھی۔ اب انتخاب ہمارا ہے کہ ہم اس طاقت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.