ایک غلط پرزہ، لاکھوں دھڑکنیں — پیس میکر کی حیران کن کہانی

 

ایک غلط پرزہ، لاکھوں دھڑکنیں — پیس میکر کی حیران کن کہانی

کبھی کبھی تاریخ کا دھارا کسی منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ ایک معمولی سی غلطی سے بدل جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک غلطی نے دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچا لیں۔ یہ کہانی کسی عظیم لیبارٹری، بڑے بجٹ یا حکومتی منصوبے سے نہیں، بلکہ ایک تھکے ہوئے انجینئر کے ہاتھ سے شروع ہوئی۔

سن 1956 کی بات ہے۔ ولسن گریٹ بیچ نامی ایک الیکٹرانکس انجینئر امریکہ کی بفیلو یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے۔ وہ ایک سادہ سا طبی آلہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ انسانی دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کیا جا سکے تاکہ ڈاکٹر دل کے اندرونی نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ان کا ارادہ کسی انقلاب کا نہیں تھا، بس ایک مددگار مشین تیار کرنا چاہتے تھے۔

ایک دن وہ مسلسل کئی گھنٹوں سے کام کر رہے تھے۔ آنکھیں تھکن سے بوجھل تھیں اور روشنی بھی پوری نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے سامنے رکھی پرزوں کی ڈبیا میں ہاتھ ڈالا۔ انہیں ایک خاص قسم کے ریزسٹر کی ضرورت تھی، جس کی مزاحمت 10 کلو اوہم ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے بغیر غور کیے ایک پرزہ اٹھایا، جس پر بنی رنگین دھاریاں انہیں ٹھیک لگیں۔

لیکن وہ پرزہ غلط تھا۔

اصل میں وہ 1 میگا اوہم کا ریزسٹر تھا، جو مطلوبہ پرزے سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ ولسن نے وہی پرزہ آلے میں جوڑ دیا اور سوئچ آن کر دیا۔ انہیں امید تھی کہ مشین دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کرے گی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بجائے، مشین نے ایک عجیب مگر باقاعدہ آواز پیدا کرنا شروع کر دی۔

“بلپ… ایک لمحے کی خاموشی… بلپ… ایک لمحے کی خاموشی…”

ولسن حیران ہو کر اسکرین پر چلتی سبز لکیر کو دیکھنے لگے۔ یہ کوئی بے ترتیب سگنل نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل اور متوازن ردھم تھا، بالکل ویسا جیسا انسانی دل کا ہوتا ہے۔ اس لمحے ولسن کو احساس ہوا کہ وہ کسی ناکام تجربے کے سامنے نہیں کھڑے، بلکہ ایک نئی دریافت ان کے سامنے سانس لے رہی ہے۔

بعد میں ولسن نے لکھا کہ اس لمحے انہیں شدت سے احساس ہوا کہ یہ آلہ صرف ریکارڈ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دل کو دھڑکانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک ایسا نظام جو دل کی رفتار کو قابو میں رکھ سکے۔

اس زمانے میں دل کی دھڑکن رک جانے کا علاج نہایت مشکل اور تکلیف دہ تھا۔ مریضوں کو بہت بڑی مشینوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا تھا، جو بجلی کے جھٹکوں سے دل کو چلانے کی کوشش کرتی تھیں۔ یہ مشینیں دیوار کے ساکٹ سے منسلک ہوتیں، جس کا مطلب تھا کہ مریض حرکت نہیں کر سکتے تھے، اور اگر بجلی چلی جائے تو زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی تھی۔

ولسن نے اپنی بنائی ہوئی چھوٹی سی مشین کو دیکھا، جو ان کی ہتھیلی میں سما سکتی تھی۔ اسی لمحے ان کے ذہن میں ایک انقلابی خیال آیا: اگر یہ مشین جسم کے باہر کام کر سکتی ہے، تو کیوں نہ اسے جسم کے اندر رکھا جائے؟

یہ خیال اس وقت کی میڈیکل دنیا کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ ماہرین کا ماننا تھا کہ انسانی جسم کے اندر الیکٹرانک آلات نہیں رکھے جا سکتے، کیونکہ جسم میں موجود نمک اور نمی دھات کو خراب کر دیتی ہے۔ مگر ولسن نے ہار نہیں مانی۔

انہوں نے اپنی جمع پونجی، جو تقریباً دو ہزار ڈالر تھی، نکالی۔ اپنی نوکری چھوڑ دی اور اپنے گھر کے اصطبل کو ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں بدل دیا۔ دن رات تجربات شروع ہو گئے۔ بار بار ناکامیاں ہوئیں، کئی ماڈل ناکارہ ثابت ہوئے، مگر ولسن نے ہمت نہیں چھوڑی۔

دو سال کی مسلسل محنت کے بعد وہ ایک ایسا آلہ بنانے میں کامیاب ہو گئے جو انسانی جسم کے اندر محفوظ طریقے سے کام کر سکتا تھا۔ سن 1960 میں پہلی بار یہ آلہ ایک 77 سالہ مریض کے جسم میں نصب کیا گیا، جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔

آپریشن مکمل ہونے کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر اچانک وہ آواز سنائی دی جس نے طب کی تاریخ بدل دی:

“لب-ڈب… لب-ڈب…”

یہ پہلا موقع تھا جب ایک مشین انسان کے جسم کے اندر رہ کر اس کی زندگی کو سہارا دے رہی تھی۔ وہ مریض نہ صرف زندہ بچ گیا بلکہ مزید ڈیڑھ سال تک ایک نسبتاً بہتر زندگی گزارتا رہا۔

آج دنیا بھر میں ہر سال تقریباً دس لاکھ پیس میکر لگائے جاتے ہیں، اور اندازہ ہے کہ اب تک اسی لاکھ سے زائد جانیں اس ایجاد کی بدولت بچائی جا چکی ہیں۔ یہ سب ایک ایسی غلطی سے ممکن ہوا جس میں ایک انجینئر نے غلط پرزہ اٹھایا، مگر اس غلطی میں انسانیت کا مستقبل دیکھ لیا۔


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.