ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین ایک مضبوط اور ساکت گولہ ہے جو بس خاموشی سے خلا میں گردش کر رہا ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ زمین کے اندر مسلسل حرکت جاری رہتی ہے، اور یہی اندرونی بے چینی اب ایک دلچسپ تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق مقناطیسی شمالی قطب پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنی جگہ بدل رہا ہے، اور اب ہمیں اس کی ممکنہ وجہ بھی سمجھ آنے لگی ہے۔
مقناطیسی شمالی قطب وہ مقام ہے جس کی طرف قطب نما اشارہ کرتا ہے۔ یہ جغرافیائی شمال سے مختلف ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پوزیشن بدلتا رہتا ہے۔ صدیوں سے اس کی حرکت ریکارڈ کی جاتی رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر یہ قطب کینیڈا سے سرک کر سائبیریا کی سمت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
سائنس دانوں نے زمین کے گہرے حصے کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ بڑے اور پہلے نامعلوم ڈھانچے دریافت کیے ہیں۔ یہ دیوہیکل “بلابز” یا مادّے کے بڑے ذخیرے زمین کے مرکز کے قریب موجود ہیں۔ زمین کا بیرونی کور پگھلے ہوئے لوہے اور دیگر دھاتوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہی حرکت کرتا ہوا مادہ زمین کا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔ اگر اس بہاؤ میں تبدیلی آئے تو مقناطیسی میدان بھی متاثر ہوتا ہے۔
تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بڑے ذخیرے اپنی جگہ تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کی حرکت سے زمین کے اندر موجود پگھلے ہوئے مادّے کے بہاؤ میں ردوبدل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مقناطیسی میدان میں مقامی سطح پر اتار چڑھاؤ پیدا ہو رہے ہیں۔ یہی تبدیلیاں شمالی مقناطیسی قطب کی رفتار کو تیز کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زمین کا مقناطیسی میدان ہمارے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے۔ یہ سورج سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں اور ذرات کو بڑی حد تک روک لیتا ہے۔ اگر یہ میدان کمزور ہو جائے یا اس کی ساخت میں بڑی تبدیلی آئے تو سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام اور حتیٰ کہ بجلی کے گرڈ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے مقناطیسی قطب کی حرکت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
اگرچہ قطب کی پوزیشن بدلنا کوئی نئی بات نہیں، مگر اس کی رفتار میں اضافہ سائنس دانوں کے لیے خاص دلچسپی کا باعث ہے۔ ماضی میں بھی مقناطیسی قطبین نے اپنی جگہ بدلی ہے، اور بعض اوقات مکمل الٹ بھی گئے ہیں، جسے پول ریورسل کہا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال مکمل الٹ پھیر کی طرف اشارہ نہیں کرتی، بلکہ اندرونی حرکیات میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔
زمین کے اندر ہونے والی یہ حرکات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمارا سیارہ ایک زندہ نظام کی طرح ہے۔ اس کی سطح پر بظاہر سکون ہو سکتا ہے، مگر ہزاروں کلومیٹر نیچے پگھلا ہوا مادہ مسلسل حرکت میں ہے۔ یہی حرکت زلزلوں، آتش فشانی سرگرمیوں اور مقناطیسی میدان جیسے مظاہر سے جڑی ہوئی ہے۔
مقناطیسی شمالی قطب کی نئی رفتار نے نیویگیشن کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ جدید جہاز رانی اور ہوابازی کے نظام مقناطیسی ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے نقشوں اور سافٹ ویئر کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ اپ ڈیٹس معمول سے زیادہ تیزی سے کرنے پڑے ہیں، کیونکہ قطب کی پوزیشن میں تبدیلی تیز ہو گئی ہے۔
یہ دریافت ہمیں زمین کی گہرائیوں کے بارے میں مزید سوالات کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر بڑے ذخیرے واقعی حرکت کر رہے ہیں، تو کیا یہ عمل عارضی ہے یا طویل مدتی؟ کیا مستقبل میں رفتار مزید بڑھے گی یا دوبارہ سست ہو جائے گی؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین باہر سے جتنی مستحکم دکھائی دیتی ہے، اندر سے اتنی ہی متحرک ہے۔ مقناطیسی شمالی قطب کا تیزی سے سائبیریا کی جانب بڑھنا اس اندرونی بے چینی کی ایک جھلک ہے۔ ہمارا سیارہ خاموش نہیں، بلکہ اپنے اندر مسلسل تبدیلیوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی تبدیلیاں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ زمین ایک ساکت پتھر نہیں بلکہ ایک متحرک اور زندہ نظام ہے۔
