پاکستان میں کتنے قسم کے مارخور پائے جاتے ہیں؟ اور یہ کہا کہا مل سکتے ہیں؟


پاکستان قدرتی حسن اور جنگلی حیات کے اعتبار سے ایک بے حد مالا مال ملک ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، خشک پہاڑی سلسلے، برف پوش چوٹیاں اور دشوار گزار وادیاں یہاں کے جانوروں کو ایک محفوظ مسکن فراہم کرتی ہیں۔ انہی میں دو نمایاں نام مارخور اور ابیکس کے ہیں۔ دونوں بظاہر جنگلی بکریوں سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ان کی اقسام، رہائش گاہیں اور جسمانی خصوصیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

مارخور کی اقسام

مارخور کا سائنسی نام Capra falconeri ہے، اور یہ پاکستان کا قومی جانور بھی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں پہچان اس کے گھومتے ہوئے پیچ دار سینگ ہیں جو اسے دنیا کے دیگر جنگلی جانوروں سے منفرد بناتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں مارخور کی چند ذیلی اقسام پائی جاتی ہیں۔

1. Astor Markhor (Capra f. falconeri)
یہ قسم زیادہ تر گلگت بلتستان کے علاقوں میں دیکھی جاتی ہے۔ اس کے سینگ نسبتاً زیادہ پیچ دار اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ بلندی والے سرد علاقوں میں رہنے کی وجہ سے اس کا جسم مضبوط اور گھنے بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔

2. Bukharan یا Tadjik Markhor (Capra f. heptneri)
یہ ذیلی قسم شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں ملتی ہے، خاص طور پر سرحدی پہاڑی خطوں میں۔ اس کے سینگ لمبے اور قدرے کھلے انداز میں مڑے ہوتے ہیں۔

3. Kabul Markhor (Capra f. megaceros)
یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا کے بعض پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے سینگ نسبتاً چوڑے گھوماؤ کے حامل ہوتے ہیں اور یہی اس کی خاص پہچان ہے۔

4. Kashmir یا Pir Panjal Markhor (Capra f. cashmiriensis)
یہ کشمیر کے پہاڑی علاقوں سے منسلک ہے اور بعض اوقات آزاد کشمیر کے خطوں میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کی جسامت درمیانی ہوتی ہے اور سینگ خوبصورت خم رکھتے ہیں۔

5. Sulaiman Markhor (Capra f. jerdoni)
یہ بلوچستان اور سلیمان رینج کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے سینگ نسبتاً سیدھے انداز میں اوپر کو مڑے ہوتے ہیں اور اس کی رنگت قدرے ہلکی ہوتی ہے۔

یہ تمام اقسام مجموعی طور پر Markhor کی نمائندگی کرتی ہیں، اگرچہ مختلف ماہرین کے درمیان درجہ بندی میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔


ابیکس یا جنگلی بکریوں کی اقسام

ابیکس دراصل جنگلی بکریوں کے ایک گروہ کو کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ابیکس کی چند اہم اقسام پائی جاتی ہیں جو مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔

1. Himalayan Ibex (Capra sibirica)
یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ یہ زیادہ تر قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے بلند پہاڑی سلسلوں میں ملتی ہے۔ اس کے سینگ لمبے اور پیچھے کی طرف خوبصورت انداز میں مڑے ہوتے ہیں۔ یہ سخت سردی اور برفانی ماحول میں بھی باآسانی زندہ رہتا ہے۔

2. Sindh Ibex (Capra aegagrus blythi)
یہ جنوبی اور جنوب مغربی پاکستان، خاص طور پر کیرتھر رینج میں پایا جاتا ہے۔ اس کی جسامت نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے اور یہ خشک اور پتھریلے علاقوں میں زندگی گزارنے کا عادی ہے۔

3. Chiltan Ibex (Capra aegagrus chialtanensis)
یہ بلوچستان کے Hazarganji-Chiltan National Park میں محدود تعداد میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب قسم سمجھی جاتی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔


اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں مارخور کی تقریباً پانچ ذیلی اقسام بیان کی جاتی ہیں، جبکہ ابیکس یا جنگلی بکریوں کی تین نمایاں اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ جانور نہ صرف ہمارے پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں بلکہ ملکی شناخت اور قدرتی ورثے کی علامت بھی ہیں۔

ان کے تحفظ کے لیے حکومتی اور غیر سرکاری ادارے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ غیر قانونی شکار اور رہائشی علاقوں کی کمی ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بعض علاقوں میں کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن پروگرامز کے باعث ان کی تعداد میں بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان کے پہاڑ صرف خوبصورت مناظر ہی نہیں رکھتے، بلکہ ان میں ایسے نایاب جانور بھی بستے ہیں جو دنیا بھر میں ہماری پہچان بن چکے ہیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.