برطانیہ کے کلاس رومز میں ایک خاموش مگر طاقتور تبدیلی
سوچیے اگر اسکول کی تعلیم صرف کتابوں اور امتحانوں تک محدود نہ رہے، بلکہ بچوں کو یہ بھی سکھائے کہ عزت کیا ہوتی ہے، تعلق کیسے بنایا جاتا ہے، اور کسی کی حدوں کا احترام کیوں ضروری ہے۔ برطانیہ میں آج کل کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وہاں کے اسکولوں میں ایک نئی سمت اختیار کی جا رہی ہے جس کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ سوچ بدلنا ہے۔
پورے برطانیہ میں تعلیمی ادارے ایسے اسباق شامل کر رہے ہیں جن میں رضامندی، باہمی احترام اور صحت مند تعلقات کی بنیادوں پر بات کی جاتی ہے۔ یہ سبق محض رسمی نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے پر مبنی ہیں۔ بچوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ “نہیں” کا مطلب کیا ہوتا ہے، دوسروں کی بات سننا کیوں ضروری ہے، اور جذبات کو سمجھنا کیسے سیکھا جا سکتا ہے۔
یہ قدم اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ معاشرتی رویے اچانک تبدیل نہیں ہوتے۔ وہ بچپن میں پروان چڑھتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں منفی خیالات موجود ہوں تو ان کا علاج بھی وہیں سے شروع ہونا چاہیے جہاں سوچ بنتی ہے، یعنی کلاس روم سے۔
ان اسباق کا مقصد کسی ایک جنس کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ سب کو ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار بنانا ہے۔ طلبہ کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں تعلقات طاقت کے بجائے احترام پر قائم ہوں۔ انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذاق، دباؤ یا خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ اس طرح کے موضوعات پہلے عموماً نظر انداز کر دیے جاتے تھے، مگر اب انہیں بنیادی تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
کئی اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب بچے کم عمری میں ہی ہمدردی اور ذمہ داری کا مطلب سمجھ لیتے ہیں تو وہ بڑے ہو کر بہتر شہری بنتے ہیں۔ کلاس روم صرف ریاضی یا سائنس سیکھنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی فضا بن جاتا ہے جہاں گفتگو کے ذریعے شعور پیدا ہوتا ہے۔ یہاں سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ کھل کر بات کر سکیں۔
یہ تبدیلی بظاہر خاموش ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک پوری نسل یہ سیکھ لے کہ تعلقات میں عزت اور رضامندی بنیادی اصول ہیں، تو مستقبل کا معاشرہ کہیں زیادہ محفوظ اور متوازن ہو سکتا ہے۔ یہ اقدام اس خیال پر مبنی ہے کہ بڑے مسائل کا حل چھوٹے مگر مستقل اقدامات سے نکلتا ہے۔
تعلیم کو اس انداز میں ڈھالنا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب صرف ڈگری کافی نہیں سمجھی جاتی، بلکہ کردار سازی کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود عزت برقرار رکھی جا سکتی ہے، اور مضبوط رشتے وہی ہوتے ہیں جو اعتماد پر کھڑے ہوں۔
حقیقی ترقی ہمیشہ شور سے نہیں آتی۔ بعض اوقات وہ آہستہ آہستہ، سادہ بات چیت اور سنجیدہ تدریس کے ذریعے جنم لیتی ہے۔ برطانیہ کے یہ کلاس روم اسی سمت میں ایک قدم ہیں، جہاں امید کی جا رہی ہے کہ اگلی نسل نہ صرف علم میں آگے ہوگی بلکہ اخلاق اور رویے میں بھی بہتر مثال قائم کرے گی۔
آخرکار، اگر بچوں کو شروع ہی سے یہ سکھا دیا جائے کہ احترام کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے، تو شاید ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکیں جہاں ہر فرد خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔
