کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ شہد کی مکھی کا ڈنک عام طبی سوئی کے مقابلے میں زیادہ تکلیف دہ کیوں ہوتا ہے؟ بظاہر تو دونوں باریک اور نوکیلے ہوتے ہیں، مگر درد کی شدت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کے پیچھے ایک حیرت انگیز سائنسی راز چھپا ہے، جو اس کے نہایت باریک مگر چالاک ڈیزائن میں موجود ہے۔
طبی سوئی کو خاص طور پر اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ جلد میں داخل ہوتے وقت کم سے کم رگڑ پیدا کرے۔ اس کی سطح ہموار ہوتی ہے اور نوک ایسی بنائی جاتی ہے کہ وہ بغیر زیادہ نقصان پہنچائے اندر چلی جائے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کو کم سے کم درد ہو اور جلد یا بافتوں کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔ اسی لیے جب ہمیں انجیکشن لگتا ہے تو ہلکی سی چبھن محسوس ہوتی ہے، مگر وہ برداشت کے قابل ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، شہد کی مکھی کا ڈنک محض ایک سادہ کانٹا نہیں ہوتا۔ قدرت نے اسے ایک دفاعی ہتھیار کے طور پر بنایا ہے۔ اس کے سرے پر نہایت باریک مگر پیچھے کی طرف مڑے ہوئے ننھے ننھے کانٹے موجود ہوتے ہیں۔ جب مکھی اپنا ڈنک جلد میں داخل کرتی ہے تو یہ بارب نما کانٹے اندر جا کر گوشت کو مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔ یوں ڈنک صرف اندر نہیں جاتا بلکہ جلد کے اندر جم سا جاتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں تیز اور اچانک درد محسوس ہوتا ہے۔ چونکہ ڈنک کے باریک کانٹے بافتوں کو ہلکا سا چیر دیتے ہیں، اس لیے نکالتے وقت مزید تکلیف ہوتی ہے۔ دراصل جلد کے اندر معمولی سطح پر پھٹاؤ پیدا ہوتا ہے جو سوئی کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ سوئی سیدھی اور ہموار ہونے کی وجہ سے آسانی سے اندر جاتی اور باہر آ جاتی ہے، جبکہ مکھی کا ڈنک پھنس جاتا ہے۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جب ڈنک جلد میں پیوست ہو جاتا ہے تو مکھی اس کے ذریعے زہر بھی داخل کرتی ہے۔ یہ زہر خاص طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ ہمارے جسم کے درد محسوس کرنے والے اعصاب کو فوراً متحرک کر دے۔ ساتھ ہی یہ سوجن اور جلن پیدا کرتا ہے۔ اس کیمیائی اثر کی وجہ سے ڈنک والی جگہ سرخ ہو جاتی ہے، سوج جاتی ہے اور کچھ دیر تک جلتی رہتی ہے۔
یعنی شہد کی مکھی کے ڈنک میں دو طرح کا اثر ایک ساتھ کام کرتا ہے۔ پہلا اثر جسمانی ہوتا ہے، جب ننھے کانٹے جلد کو چیرتے ہیں۔ دوسرا اثر کیمیائی ہوتا ہے، جب زہر اعصاب کو چھیڑ کر درد اور سوزش پیدا کرتا ہے۔ یہی دوہرا حملہ ایک معمولی سے کیڑے کے ڈنک کو حیرت انگیز طور پر زیادہ تکلیف دہ بنا دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مکھی کے لیے یہ ڈنک اس کی زندگی کی آخری کوشش بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ڈنک پھنس جانے کے بعد اکثر مکھی مر جاتی ہے۔ اس لیے وہ اسے صرف انتہائی خطرے کے وقت استعمال کرتی ہے۔ قدرت نے اسے ایسا دفاعی نظام دیا ہے جو چھوٹا ہونے کے باوجود مؤثر ہے۔
اگلی بار جب آپ کو مکھی ڈنک مارے تو یاد رکھیں کہ یہ محض ایک چھوٹا سا کانٹا نہیں بلکہ ایک نہایت سوچا سمجھا قدرتی ڈیزائن ہے، جس میں باریک ساخت اور زہریلا اثر مل کر درد کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
