برازیل کا دو ٹوک فیصلہ: جانوروں پر ظلم اب جرم ہے


برازیل نے جانوروں پر ظلم کے خلاف ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ سوچ، رویے اور سماجی اقدار میں ایک واضح تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ برازیل کی حکومت نے کھلے الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ جانوروں کے ساتھ بے رحمی اب کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

2020 میں نافذ ہونے والا قانون، جسے Lei Sansão کہا جاتا ہے، آج بھی پوری سختی کے ساتھ لاگو ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی شخص کتے یا بلی پر تشدد کرتا ہے، اسے تکلیف پہنچاتا ہے یا اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتا ہے، تو اسے دو سے پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے، اور بعض صورتوں میں اس شخص پر عمر بھر کے لیے جانور رکھنے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ یہ سزائیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ ریاست اب ایسے جرائم کو معمولی نہیں سمجھتی۔

یہ قانون اچانک وجود میں نہیں آیا۔ اس کے پیچھے ایک ایسا افسوسناک واقعہ تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ جانوروں پر ہونے والے ایک سفاکانہ تشدد کی ویڈیو اور خبریں سامنے آئیں، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک، ہر جگہ انصاف کا مطالبہ ہونے لگا۔ عوامی دباؤ نے قانون سازوں کو مجبور کیا کہ وہ موجودہ قوانین پر نظرثانی کریں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے زیادہ سخت اور واضح قانون متعارف کروائیں۔

اس سے پہلے برازیل میں جانوروں پر تشدد کو اکثر ایک معمولی جرم سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ جرمانہ یا ہلکی سزا دی جاتی تھی، جس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ تھا کہ ایسے واقعات بار بار سامنے آتے رہے۔ لیکن Lei Sansão کے بعد صورت حال بدل گئی۔ اب جانوروں پر ظلم کو ایک سنجیدہ فوجداری جرم تسلیم کیا جاتا ہے، اور مجرم جانتے ہیں کہ انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں اس قانون کو ایک بڑی سماجی تبدیلی قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ جانور محض ملکیت یا چیز نہیں بلکہ زندہ محسوس کرنے والی مخلوق ہیں۔ وہ درد، خوف اور تکلیف کو محسوس کرتے ہیں، اور اسی لیے انہیں قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ یہ تصور بہت سے معاشروں میں ابھی تک مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، مگر برازیل نے اس حوالے سے واضح قدم اٹھایا ہے۔

اس قانون کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ صرف سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی دیتا ہے۔ یہ پیغام عوام، اداروں اور مستقبل کی نسلوں تک پہنچتا ہے کہ ہمدردی، ذمہ داری اور احترام صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر جاندار کے لیے ہونا چاہیے۔ جب ریاست خود جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو معاشرے میں مجموعی طور پر رحم دلی اور اخلاقی شعور بڑھتا ہے۔

Lei Sansão نے پولیس، عدالتوں اور متعلقہ اداروں کو بھی واضح اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے کیسز کو سنجیدگی سے لیں۔ اب شکایات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا، اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا پہلے سے زیادہ ممکن ہو گیا ہے۔ اس سے متاثرین یعنی بے زبان جانوروں کے لیے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو برازیل کا یہ اقدام دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ بہت سے ممالک میں اب بھی جانوروں پر تشدد کے قوانین کمزور ہیں یا ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ برازیل نے ثابت کیا ہے کہ اگر عوامی شعور بیدار ہو اور حکومت سنجیدہ ہو تو حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قانون ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ جانور اشیاء نہیں ہیں۔ وہ سانس لیتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، اور زندگی کا حق رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ رحم اور انصاف کا سلوک کسی مہربانی کا کام نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔

برازیل کا پیغام بالکل واضح ہے:
جانور خاموش ہیں، مگر ان کی زندگی کی قدر خاموش نہیں ہونی چاہیے۔
ان کی حفاظت کرنا صرف قانون کی بات نہیں، انسانیت کی بات ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.