پہاڑوں کا بھید: پلاس کی بلی، فطرت کا خاموش معمہ


وسطی ایشیا کے دور افتادہ اور بلند و بالا میدانوں میں ایک چھوٹی مگر نہایت پراسرار جنگلی بلی پائی جاتی ہے جسے پلاس کی بلی یا منول کہا جاتا ہے۔ یہ بلی دیکھنے میں بظاہر عام گھریلو بلی کے برابر لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ دنیا کے سب سے انوکھے اور کم نظر آنے والے جانوروں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی زندگی، عادات اور ماحول آج بھی جدید سائنس کے لیے ایک معمہ ہیں۔

پلاس کی بلی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی انتہائی گھنی اور موٹی کھال ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی بلی کی نسل میں اتنی زیادہ گھنی کھال نہیں پائی جاتی۔ یہ کھال اسے منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک کے شدید سرد موسم میں زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کا رنگ چاندی مائل ہوتا ہے جو اسے پتھریلے اور برف پوش علاقوں میں اس طرح چھپا دیتا ہے کہ وہ ماحول کا حصہ لگنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے بعض لوگ “کھال میں لپٹا ہوا بھوت” بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ پلک جھپکتے ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

یہ بلی فطرتاً تنہا رہنے کو پسند کرتی ہے۔ یہ جھنڈ یا گروہ میں نہیں رہتی بلکہ زیادہ تر اکیلی زندگی گزارتی ہے۔ دن کے وقت یہ اکثر ترک شدہ بلوں، چٹانوں کی دراڑوں یا پتھریلے سوراخوں میں چھپی رہتی ہے۔ شکار کے لیے یہ عموماً صبح سویرے یا شام کے وقت باہر نکلتی ہے، جب روشنی مدھم ہوتی ہے اور اس کے لیے چھپ کر حرکت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کی خوراک میں زیادہ تر چھوٹے چوہے، پیکاز اور دیگر ننھے جانور شامل ہوتے ہیں۔

پلاس کی بلی کی جسمانی ساخت بھی اسے دوسری بلیوں سے بالکل مختلف بناتی ہے۔ اس کا چہرہ چپٹا ہوتا ہے، آنکھوں کے پُتلے گول ہوتے ہیں، جبکہ زیادہ تر چھوٹی بلیوں کی آنکھوں میں لمبے اور سیدھے پُتلے ہوتے ہیں۔ اس کے کان بھی سر کے اوپر کے بجائے اطراف میں نیچے کی طرف لگے ہوتے ہیں۔ اس خاص ترتیب کی بدولت یہ بلی چٹانوں کے پیچھے چھپ کر اردگرد کا جائزہ لے سکتی ہے، بغیر اس کے کہ اس کا سر نمایاں ہو۔ یہ ایک نہایت کارآمد صلاحیت ہے، جو اسے شکار سے بچنے اور شکار کرنے دونوں میں مدد دیتی ہے۔

اس بلی کے بارے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس کی زندگی کے کئی پہلو آج بھی پوشیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ستمبر 2025 میں بھارت کی ریاست اروناچل پردیش میں پہلی بار پلاس کی بلی کی واضح تصویری شہادت سامنے آئی، تو اسے جنگلی حیات کی تحقیق میں ایک تاریخی لمحہ قرار دیا گیا۔ یہ تصویر تقریباً پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر لی گئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بلی انسانوں کی پہنچ سے کہیں زیادہ سخت اور دشوار گزار علاقوں میں بھی زندگی گزار سکتی ہے۔

اس دریافت نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ پلاس کی بلی کا پھیلاؤ شاید پہلے سمجھے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قدرت میں اب بھی ایسے گوشے موجود ہیں جہاں نایاب جانور خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں، بغیر اس کے کہ انسان ان کے وجود سے پوری طرح واقف ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پلاس کی بلی سوشل میڈیا پر بھی خاصی مشہور ہوئی ہے۔ اس کے چہرے کے تاثرات اکثر غصے یا ناگواری والے دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اسے “غصہ ور بلی” کہنے لگے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ تاثرات اس کے قدرتی چہرے کی بناوٹ کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی جذباتی کیفیت کا اظہار۔ اس کے باوجود، اس انٹرنیٹ شہرت نے لوگوں کی توجہ اس نایاب جانور کی طرف ضرور مبذول کروائی ہے۔

اگرچہ دنیا اسے اب زیادہ جاننے لگی ہے، مگر پلاس کی بلی آج بھی پہاڑوں کی خاموش ملکہ بنی ہوئی ہے۔ یہ ان علاقوں میں رہتی ہے جہاں بہت کم انسان کبھی قدم رکھتے ہیں۔ اس کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ قدرت کے کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جو مکمل طور پر کبھی بے نقاب نہیں ہوتے۔ شاید یہی ان کی خوبصورتی ہے۔

پلاس کی بلی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بقا صرف طاقت یا جسامت سے نہیں ہوتی، بلکہ ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہی اصل کامیابی ہے۔ شدید سردی، تنہائی اور دشوار گزار زمین کے باوجود، یہ بلی صدیوں سے خاموشی سے اپنی بقا کی جنگ لڑتی آ رہی ہے، اور شاید آئندہ بھی اسی طرح نظروں سے دور، مگر فطرت کے قریب، اپنی زندگی گزارتی رہے گی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.