زوئی ایک ایسی زیبرا تھی جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ وہ واحد زیبرا تھی جس کے جسم پر سنہری اور سفید دھاریاں تھیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسے قدرت کا ایک نایاب معجزہ کہا جاتا تھا۔ اگست 2017 میں، 19 برس کی عمر میں، زوئی نے ہوائی کے Three Ring Ranch Exotic Animal Sanctuary میں خاموشی اور سکون کے ساتھ دنیا کو الوداع کہا۔ اس کی موت اگرچہ قدرتی تھی، مگر اس کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
زوئی کی پیدائش 1998 میں ہوئی تھی، اور شروع سے ہی وہ باقی تمام زیبراز سے مختلف نظر آتی تھی۔ عام زیبرا کی سیاہ اور سفید دھاریوں کے بجائے زوئی کے جسم پر ہلکی سنہری اور سفید دھاریاں تھیں، جو دیکھنے میں نہایت نرم اور دلکش لگتی تھیں۔ اس کے علاوہ اس کی آنکھیں نیلی تھیں، جو زیبراز میں انتہائی نایاب سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ سب ایک نہایت ہی کم پائی جانے والی جینیاتی حالت کی وجہ سے تھا جسے “امیلی نوسس” کہا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ حالت تقریباً 35 لاکھ پیدائشوں میں کسی ایک میں پائی جاتی ہے، جس سے زوئی کی نایابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لوگ اکثر زوئی کو حقیقی زندگی کی “یونیکورن” کہا کرتے تھے، کیونکہ وہ کسی افسانوی مخلوق کی طرح لگتی تھی۔ مگر زوئی صرف خوبصورت ہی نہیں تھی، اس کی فطرت بھی بے حد نرم اور پُرسکون تھی۔ وہ انسانوں کے قریب رہنے میں گھبراتی نہیں تھی اور اپنے اردگرد کے ماحول میں خاموشی سے گھومتی رہتی تھی۔ جو بھی اسے ایک بار دیکھ لیتا، وہ اسے بھول نہیں پاتا تھا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ اس کے بارے میں جاننے لگے، اور آہستہ آہستہ زوئی قدرتی تنوع کی ایک زندہ مثال بن گئی۔
زوئی کی نایابی کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس کے لیے حیران کن حد تک بڑی رقم کی پیشکش بھی کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی کھال کے لیے دس لاکھ ڈالر تک کی آفر دی گئی، مگر Three Ring Ranch کے منتظمین نے ان تمام پیشکشوں کو بغیر کسی تذبذب کے ٹھکرا دیا۔ ان کے لیے زوئی ایک قیمتی شے نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی جان تھی جس کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے منافع کے بجائے ہمدردی، اخلاق اور انسانیت کو ترجیح دی، اور یہی فیصلہ انہیں دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔
زوئی نے اپنی زندگی کے آخری دن بھی اسی تحفظ اور محبت کے ماحول میں گزارے۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے آخری لمحات میں وہ پرسکون انداز میں گھاس چر رہی تھی اور اس کے قریب اس کا ایک ساتھی جانور موجود تھا۔ نہ کوئی خوف تھا، نہ کوئی تکلیف۔ وہ محفوظ تھی، اور سب سے بڑھ کر، وہ تنہا نہیں تھی۔ یہ جاننا کہ ایک نایاب مخلوق نے اپنی زندگی احترام اور سکون کے ساتھ مکمل کی، کسی حد تک دل کو تسلی دیتا ہے۔
اگرچہ زوئی کو دنیا سے گئے ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، مگر اس کی کہانی آج بھی زندہ ہے۔ وہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ قدرت میں موجود ہر نایاب جینیاتی تبدیلی کتنی قیمتی اور نازک ہوتی ہے۔ ایسی مخلوقات کو اگر تحفظ نہ دیا جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں، اور پھر انہیں واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔
زوئی کی زندگی اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ کچھ وجود اس دنیا میں بار بار پیدا ہونے کے لیے نہیں آتے، بلکہ اس لیے آتے ہیں کہ وہ یاد رکھے جائیں۔ وہ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قدرت کو صرف دیکھنے یا استعمال کرنے کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
قدرت شاید دوبارہ کبھی زوئی جیسی زیبرا نہ بنائے۔ اس کی خوبصورتی، اس کی نایابی، اور اس کی خاموش موجودگی ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔ زوئی اب اس دنیا میں نہیں، مگر اس کی یاد ہمیں یہ سکھاتی رہے گی کہ قدرت کے نایاب تحفے کتنے انمول ہوتے ہیں، اور انہیں کھونے کے بعد صرف افسوس ہی باقی رہ جاتا ہے۔
