جب قیدیوں نے آزادی سے بڑھ کر انسانیت کو چُن لیا


یہ تصویر امریکا کی ریاست جارجیا کے پولک کاؤنٹی میں پیش آنے والے ایک ایسے واقعے کو محفوظ کرتی ہے جو انسانیت، ہمدردی اور بے لوث جرات کی ایک شاندار مثال بن چکا ہے۔ اس واقعے میں چھ قیدیوں نے اپنی آزادی کے ممکنہ موقع کو پسِ پشت ڈال کر ایک ڈپٹی شیرف کی جان بچانے کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ نہ کسی مجبوری کا نتیجہ تھا اور نہ کسی فائدے کی امید پر کیا گیا، بلکہ یہ خالص انسانی جذبے کا اظہار تھا۔

واقعہ ایک شدید گرم اور حبس زدہ دن پیش آیا، جب یہ قیدی ایک سرکاری کام کے سلسلے میں باہر موجود تھے۔ ان کی نگرانی ایک مسلح ڈپٹی شیرف کر رہا تھا، جو اچانک ایک طبی ہنگامی صورتِ حال کا شکار ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین پر گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا۔ اس لمحے صورتحال نہایت نازک تھی۔ تیز گرمی، بھاری حفاظتی لباس اور فوری طبی مدد کی عدم موجودگی اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔

اس وقت حالات نے قیدیوں کو ایک ایسا موقع فراہم کیا جو شاید بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ قریب ہی کام کی وین کھڑی تھی، نگران افسر بے ہوش تھا اور اسلحہ بھی اس کے پاس موجود تھا۔ اگر وہ چاہتے تو فرار ہو سکتے تھے۔ مگر ان چھ افراد نے وہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر انسانیت کا انتخاب کیا۔

قیدی فوراً ڈپٹی شیرف کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے اس کا موبائل فون اٹھایا اور فوراً ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے مدد طلب کی۔ اس کے بعد انہوں نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افسر کی بُلٹ پروف جیکٹ اور شرٹ اتار دی، تاکہ اس کے جسم کا درجہ حرارت کم کیا جا سکے۔ شدید گرمی میں بھاری لباس کسی بھی انسان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اور قیدی اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے۔

جب تک ایمبولینس اور طبی عملہ موقع پر نہیں پہنچا، قیدی پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ ڈپٹی شیرف کی حالت پر نظر رکھتے رہے۔ ان کے فوری فیصلوں اور بروقت اقدامات نے اس بات کو یقینی بنایا کہ افسر کو وقت پر طبی امداد مل سکے۔ بعد میں ڈاکٹروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اگر چند منٹ کی تاخیر ہو جاتی تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔

یہ واقعہ اس عام تاثر کو چیلنج کرتا ہے کہ قیدی ہمیشہ بے حس یا غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان چھ افراد نے ثابت کیا کہ انسانیت کسی قید، وردی یا حیثیت کی محتاج نہیں ہوتی۔ مشکل وقت میں صحیح فیصلہ وہی ہوتا ہے جو جان بچانے کے لیے کیا جائے، چاہے اس کے بدلے میں کوئی ذاتی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو۔

پولک کاؤنٹی شیرف آفس نے بھی اس عمل کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان قیدیوں کے غیر معمولی رویے اور ہمدردی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک پیزا پارٹی دی گئی، جو بظاہر ایک سادہ انعام لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک گہرا پیغام تھا۔ اس کے علاوہ حکام نے ان قیدیوں کی سزاؤں میں تقریباً ایک چوتھائی کمی کی حمایت بھی کی۔ یہ فیصلہ اس بات کا اعتراف تھا کہ اچھے عمل کو تسلیم کرنا اور اس کی قدر کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، انسان کے اندر اچھائی موجود رہتی ہے۔ بعض اوقات وہ لوگ، جنہیں معاشرہ نظرانداز کر دیتا ہے یا صرف ان کے ماضی کی بنیاد پر پرکھتا ہے، وہی لوگ سب سے زیادہ غیر متوقع مگر بہترین فیصلے کر جاتے ہیں۔

یہ کہانی صرف ایک جان بچانے کی نہیں، بلکہ یہ اس امید کی علامت ہے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ رحم، ہمدردی اور اخلاقی جرات کسی قانون یا انعام کے محتاج نہیں ہوتے۔ جب انسان دل سے صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے، تو وہ قیدی ہو یا آزاد، اس کا عمل قابلِ احترام ہوتا ہے۔

پولک کاؤنٹی کا یہ واقعہ ایک خاموش مگر طاقتور پیغام چھوڑ گیا ہے:
انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور اچھائی ہمیشہ موقع تلاش کر لیتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.