سویڈن کی تعلیمی یوٹرن: اسکرین سے کتاب کی طرف واپسی


سویڈن نے تعلیمی پالیسی کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔ برسوں تک جدید ڈیجیٹل تعلیم کا علمبردار رہنے کے بعد اب سویڈن اپنی ہی پالیسی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے اور دوبارہ روایتی تعلیمی طریقوں کی طرف لوٹ رہا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب اسکولوں میں چھپی ہوئی درسی کتابوں، کاپیوں اور ہاتھ سے لکھنے کی مشق کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سویڈن کی حکومت ایک سو ملین یورو سے زائد رقم مختص کر رہی ہے تاکہ ہر طالب علم کو فزیکل کتابیں فراہم کی جا سکیں۔

تقریباً پندرہ برس تک سویڈن کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ وہ کلاس روم ٹیکنالوجی میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سب سے آگے تھا۔ ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور ڈیجیٹل اسکرینز کو تعلیم کا لازمی حصہ بنا دیا گیا تھا۔ کئی اسکول ایسے تھے جہاں کتابیں تقریباً ناپید ہو چکی تھیں اور بچے زیادہ تر اسکرین کے ذریعے ہی سیکھ رہے تھے۔ ابتدا میں اس ماڈل کو مستقبل کی تعلیم قرار دیا گیا، مگر وقت کے ساتھ اس کے منفی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے۔

اس پالیسی میں تبدیلی کا سب سے بڑا کردار سویڈن کی وزیرِ تعلیم لوٹا ایڈہولم کا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل آلات کو بلا سوچے سمجھے اپنانے کی قیمت بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کی کمزوری کی صورت میں ادا کرنی پڑی ہے۔ ان کے مطابق پڑھنے، لکھنے اور توجہ مرکوز رکھنے جیسی بنیادی مہارتیں متاثر ہوئیں، جنہیں کسی بھی جدید معاشرے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ سویڈن کے طلبہ اب بھی یورپ کے اوسط سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، مگر بین الاقوامی تعلیمی جائزوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ PIRLS نامی عالمی مطالعے کے مطابق 2016 سے 2021 کے درمیان چوتھی جماعت کے طلبہ میں پڑھنے کی سمجھ بوجھ میں واضح کمی دیکھی گئی۔ یہ رپورٹ حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ بن گئی، کیونکہ سویڈن ہمیشہ تعلیمی معیار میں مثال سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے ماہرینِ دماغ اور نفسیات نے بھی خبردار کیا کہ حد سے زیادہ ڈیجیٹل تعلیم بچوں کی توجہ متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسکرین پر پڑھنے سے معلومات کو گہرائی سے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ کاغذ پر لکھنے اور پڑھنے سے دماغ زیادہ فعال انداز میں کام کرتا ہے۔ ہاتھ سے لکھنے کا عمل یادداشت کو مضبوط کرتا ہے اور سیکھنے کے عمل کو دیرپا بناتا ہے، جو ڈیجیٹل ٹائپنگ سے ممکن نہیں ہو پاتا۔

نئی پالیسی میں خاص طور پر کم عمر بچوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کا فیصلہ ہے کہ چھ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ڈیجیٹل تعلیم مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس عمر میں بچوں کے لیے قلم، کاغذ اور کتاب کے ساتھ براہِ راست تعلق نہایت ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وہ دور ہوتا ہے جب دماغ کی بنیادی نشوونما ہوتی ہے اور باریک حرکاتی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں، جو ہاتھ سے لکھنے اور ڈرائنگ جیسی سرگرمیوں سے بہتر طور پر پروان چڑھتی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد سویڈن کے کئی اسکولوں میں خاموش مطالعے کے اوقات دوبارہ متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ بچوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ موبائل یا ٹیبلٹ کے بجائے کتاب کے ساتھ وقت گزاریں، الفاظ کو آہستہ آہستہ سمجھیں اور توجہ کے ساتھ پڑھیں۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے لکھنے کی مشقیں بھی بڑھائی جا رہی ہیں تاکہ املا، جملہ سازی اور اظہار کی صلاحیت بہتر ہو سکے۔

یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی نہیں لگائی جا رہی۔ سویڈن کا نیا مؤقف یہ ہے کہ اسکرینز کو تعلیم کا مددگار بنایا جائے، متبادل نہیں۔ جہاں ڈیجیٹل ذرائع سیکھنے کو آسان بنائیں، وہاں انہیں استعمال کیا جائے، مگر بنیادی تعلیم کی جگہ نہ دی جائے۔ یعنی توازن کو اصل کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔

دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس فیصلے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے ممالک جو تیزی سے ڈیجیٹل تعلیم کی طرف بڑھ رہے ہیں، اب سویڈن کی مثال سے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پالیسی اس بات کا ثبوت بن رہی ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی فائدہ مند ضرور ہو سکتی ہے، مگر اندھا دھند اپنانا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔

سویڈن کا یہ قدم ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تعلیم صرف اسکرین کا نام نہیں۔ کتاب کی خوشبو، قلم کی گرفت اور خاموش مطالعے کا سکون آج بھی سیکھنے کے عمل میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو کوئی ڈیجیٹل ڈیوائس مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.