زمین کا بلیک باکس: کیا ہم اپنی کہانی خود محفوظ کر رہے ہیں؟


دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اس تبدیلی کی رفتار نے بہت سے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر کبھی انسانی تہذیب کو شدید بحران کا سامنا ہوا تو آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں کیا جان سکیں گی۔ اسی خیال کے تحت آسٹریلیا میں ایک غیر معمولی منصوبے پر کام جاری ہے۔ یہاں ایک دیوہیکل فولادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے جسے غیر رسمی طور پر “ارتھز بلیک باکس” کہا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ہماری موجودہ دنیا کا ریکارڈ محفوظ کرنا ہے۔

یہ منفرد ساخت آسٹریلیا کے جزیرے تسمانیہ میں قائم کی جا رہی ہے۔ جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ علاقہ نسبتاً محفوظ اور جغرافیائی لحاظ سے مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ اس ڈھانچے کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ سخت موسمی حالات، طوفانوں اور ممکنہ قدرتی آفات کو برداشت کر سکے۔ مضبوط اسٹیل پلیٹوں سے تیار کیا جانے والا یہ مونولِتھ مستقبل کے لیے ایک خاموش گواہ ہوگا۔

اس منصوبے کی بنیاد ایک سادہ مگر گہری سوچ پر ہے۔ جیسے ہوائی جہازوں میں بلیک باکس حادثے کے بعد اصل حقائق محفوظ رکھتا ہے، اسی طرح یہ زمینی بلیک باکس ہماری اجتماعی سرگرمیوں اور فیصلوں کا ڈیٹا محفوظ کرے گا۔ اس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق معلومات، کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح، درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، حیاتیاتی تنوع میں کمی، اور دیگر ماحولیاتی اشاریے ریکارڈ کیے جائیں گے۔

یہ ڈھانچہ شمسی توانائی سے چلنے والا ہوگا اور انٹرنیٹ سے منسلک رہے گا۔ عالمی سطح پر جاری اہم واقعات، پالیسی فیصلے، ماحولیاتی رپورٹس اور سائنسی اعداد و شمار خودکار طریقے سے اس میں محفوظ ہوتے رہیں گے۔ گویا یہ ایک مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والا آرکائیو ہوگا، جو انسانیت کی موجودہ سمت کو دستاویزی شکل دیتا رہے گا۔

اس منصوبے کا ایک پہلو احتساب بھی ہے۔ جب فیصلے کرنے والے یہ جانتے ہوں کہ ان کے اقدامات تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں، تو شاید وہ زیادہ ذمہ داری سے کام لیں۔ یہ ڈھانچہ کسی کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ یاد دہانی کے طور پر بنایا جا رہا ہے کہ ہمارے اعمال کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کبھی انسانی نظام درہم برہم ہو جائے، یا عالمی سطح پر شدید بحران پیدا ہو جائے، تو یہ فولادی یادگار آنے والی نسلوں یا کسی اور باشعور مخلوق کے لیے معلومات کا خزانہ بن سکتی ہے۔ وہ اس میں محفوظ ڈیٹا کی مدد سے سمجھ سکیں گے کہ ہم نے کن حالات میں کیا فیصلے کیے اور ان کے نتائج کیا نکلے۔

یہ منصوبہ صرف خوف کی بنیاد پر نہیں بلکہ شعور کی علامت بھی ہے۔ اسے عہدِ انسانی یا انتھروپوسین کا ایک طرح کا ٹائم کیپسول سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسانی سرگرمیوں نے زمین کے قدرتی نظام پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ گلیشیئر پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے، اور کئی انواع معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے میں یہ بلیک باکس ہماری اجتماعی کہانی کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔

ڈھانچے کی تعمیر میں پائیداری کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اسٹیل کی موٹی پلیٹیں اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھیں گی۔ اس کا ڈیزائن سادہ مگر مضبوط ہے، تاکہ کم سے کم دیکھ بھال میں بھی یہ اپنا کام جاری رکھ سکے۔ شمسی پینلز اسے توانائی فراہم کریں گے، جس سے یہ خود کفیل نظام بن جائے گا۔

یہ خیال کسی سائنسی افسانے جیسا محسوس ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری موجودہ دنیا کی سنجیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم جو کچھ آج کر رہے ہیں، وہ کل کی تاریخ بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ وہ تاریخ کیسی ہوگی۔

آخرکار، یہ فولادی یادگار ایک خاموش سوال بھی ہے۔ کیا ہم اپنے اعمال کو بہتر بنا سکتے ہیں تاکہ یہ بلیک باکس صرف انتباہ نہ رہے بلکہ اس بات کی علامت ہو کہ ہم نے وقت رہتے سمت درست کر لی تھی؟ یہ منصوبہ ہمیں اپنے حال پر غور کرنے اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.