دنیا بھر میں تعمیرات کا شعبہ عموماً سست رفتار اور طویل منصوبہ بندی سے جڑا سمجھا جاتا ہے۔ ایک عمارت کی بنیاد رکھنے سے لے کر اس کی تکمیل تک مہینے بلکہ سال لگ جاتے ہیں۔ مگر چین میں ایک تعمیراتی کمپنی نے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے اس روایتی تصور کو چیلنج کر دیا۔ انہوں نے دس منزلہ رہائشی عمارت کو صرف اٹھائیس گھنٹوں میں کھڑا کر کے سب کو حیران کر دیا۔
یہ منصوبہ عام تعمیراتی طریقے سے مختلف تھا۔ یہاں اینٹ پر اینٹ رکھ کر عمارت نہیں بنائی گئی بلکہ پہلے سے تیار شدہ حصوں کو جوڑ کر مکمل ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔ ان حصوں کو فیکٹریوں میں تیار کیا گیا، جہاں ہر ماڈیول کو مکمل سہولیات کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔ جب یہ یونٹس تیار ہو گئے تو انہیں تعمیراتی مقام پر لا کر کرینوں کی مدد سے ترتیب وار نصب کیا گیا۔
اس طریقے کو ماڈیولر کنسٹرکشن کہا جاتا ہے۔ اس میں عمارت کے مختلف حصے الگ الگ تیار کیے جاتے ہیں، جن میں دیواریں، فرش، بجلی کا نظام اور پلمبنگ تک شامل ہو سکتی ہے۔ پھر ان حصوں کو ایک مضبوط فولادی فریم کے ساتھ بولٹ کے ذریعے جوڑ دیا جاتا ہے۔ چونکہ زیادہ تر کام فیکٹری میں ہوتا ہے، اس لیے سائٹ پر وقت بہت کم درکار ہوتا ہے۔
اٹھائیس گھنٹوں میں دس منزلہ عمارت کی تکمیل سننے میں ناممکن سی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ درست منصوبہ بندی، تربیت یافتہ عملے اور جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ تھا۔ ہر مرحلہ پہلے سے طے شدہ تھا، اور ٹیم نے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے کام مکمل کیا۔
اس تیز رفتار تعمیر کا ایک بڑا فائدہ لاگت میں کمی ہے۔ چونکہ سائٹ پر کم وقت گزارنا پڑتا ہے، اس لیے مزدوری کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ فیکٹری میں تیار شدہ یونٹس کے باعث مواد کا ضیاع بھی کم ہوتا ہے۔ روایتی تعمیر میں اکثر اضافی سیمنٹ، اینٹیں یا دیگر سامان ضائع ہو جاتا ہے، مگر ماڈیولر نظام میں ہر چیز ناپ تول کر تیار کی جاتی ہے۔
ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی یہ طریقہ زیادہ مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔ کم فضلہ پیدا ہونے اور کم مشینری کے استعمال کی وجہ سے کاربن اخراج میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ شور اور گرد و غبار بھی کم ہوتا ہے، جو شہری علاقوں میں ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ کیا اتنی تیزی سے بننے والی عمارت مضبوط بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈھانچہ زلزلہ مزاحم ڈیزائن پر مبنی ہے۔ فولادی فریم اور بولٹ پر مبنی جوڑ اسے لچکدار بناتے ہیں، جو جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح رفتار کے ساتھ معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
یہ منصوبہ مستقبل کے شہری رہائش کے تصور کی جھلک بھی پیش کرتا ہے۔ دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شہروں میں رہائش کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر عمارتیں اتنی تیزی سے تیار کی جا سکیں تو ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یقیناً ہر جگہ اس طریقے کو فوری طور پر اپنانا ممکن نہیں ہوگا۔ قوانین، موسمی حالات اور مقامی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ مثال دکھاتی ہے کہ تعمیرات کا روایتی طریقہ واحد راستہ نہیں۔ اگر ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی درست ہو تو شہروں کی شکل بدل سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ چین میں بننے والی یہ دس منزلہ عمارت صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی کی علامت ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں ہم عمارتوں کو روایتی انداز میں بنتے کم اور اسمبل ہوتے زیادہ دیکھیں۔ مستقبل کے شہر ممکن ہے تعمیر نہ کیے جائیں بلکہ جوڑے جائیں۔
