دنیا کی معیشت میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب کسی ملک کی معاشی قوت کا اندازہ اس کے قدرتی وسائل، صنعتوں اور برآمدات سے لگایا جاتا تھا۔ مگر اب منظر کچھ مختلف ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی ایسی سطح تک پہنچ چکی ہے کہ اس کی مارکیٹ ویلیو ایک ترقی یافتہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے برابر جا پہنچی ہے۔ یہ کمپنی ہے Nvidia، اور جس ملک سے اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے وہ ہے Canada۔
یہ موازنہ محض ایک علامتی جملہ نہیں بلکہ حقیقی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ Nvidia کی مارکیٹ قدر اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ کینیڈا کی مجموعی جی ڈی پی کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ایک طرف ایک مکمل خودمختار ملک ہے جس کی معیشت میں زراعت، توانائی، مینوفیکچرنگ، سروسز اور قدرتی وسائل شامل ہیں۔ دوسری طرف ایک نجی کمپنی ہے جو بنیادی طور پر سیمی کنڈکٹر چپس تیار کرتی ہے۔ یہ فرق خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیشت کا رخ کس سمت جا رہا ہے۔
Nvidia کی غیر معمولی ترقی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ آج دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز اور اے آئی ماڈلز کو طاقتور گرافکس پروسیسنگ یونٹس یعنی جی پی یوز کی ضرورت ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں Nvidia سب سے آگے کھڑی ہے۔ اس کے تیار کردہ جدید چپس مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ اور بڑے زبان ماڈلز کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
چند سال پہلے تک جی پی یوز کو زیادہ تر گیمنگ یا گرافکس کے لیے جانا جاتا تھا۔ مگر اب یہی چپس مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے ڈیٹا سینٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں Nvidia کے چپس نصب کر رہی ہیں تاکہ وہ پیچیدہ الگورتھمز چلا سکیں۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے کمپنی کی آمدنی اور حصص کی قیمت کو غیر معمولی حد تک اوپر پہنچا دیا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اب اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنا کبھی تیل، گیس یا معدنیات ہوا کرتے تھے۔ ماضی میں قدرتی وسائل کسی ملک کی طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ آج سیلیکون چپس اور ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیت عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تبدیلی نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نئی معاشی طاقت عطا کی ہے۔
Nvidia نہ صرف جدید جی پی یوز کی سب سے بڑی پیداوار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے بلکہ عالمی اے آئی نظام کا مرکزی ستون بھی بن چکی ہے۔ بہت سی نئی ایجادات اور تحقیقی منصوبے اس کے ہارڈویئر پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اسے مستقبل کی معیشت کا اہم کھلاڑی سمجھتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ Nvidia نے کئی روایتی اور پرانی کارپوریشنز کو مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ کمپنیاں جو دہائیوں سے صنعت، توانائی یا آٹو موبائل کے شعبے میں نمایاں تھیں، اب ایک سیمی کنڈکٹر کمپنی کے مقابلے میں کم مالیت رکھتی ہیں۔ یہ فرق صرف کاروباری کامیابی نہیں بلکہ معاشی ترجیحات کی تبدیلی کی علامت ہے۔
البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مارکیٹ ویلیو اور جی ڈی پی دو مختلف پیمانے ہیں۔ ایک کمپنی کی قدر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستقبل کی توقعات پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ کسی ملک کی جی ڈی پی اس کی سالانہ پیداوار اور خدمات کی مجموعی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے باوجود یہ تقابل ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر اب عالمی معیشت میں غیر معمولی اثر رکھتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں سیلیکون واقعی خودمختار معیشتوں کا مقابلہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک چپ ساز کمپنی کا کسی جی سیون ملک کے برابر جا پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے برسوں میں معاشی طاقت کا مرکز مزید ڈیجیٹل ہوتا جائے گا۔ یہ صرف ایک کمپنی کی کہانی نہیں بلکہ اس نئے عہد کی جھلک ہے جہاں ڈیٹا، الگورتھم اور کمپیوٹنگ طاقت مستقبل کا تعین کریں گے۔
