جاپان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر زندگی ایک بالکل مختلف رفتار سے چلتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت جیسے تھم سا گیا ہو، اور عمر صرف ایک عدد بن کر رہ گئی ہو۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس جزیرے پر 400 سے زیادہ ایسے افراد رہتے ہیں جن کی عمر سو سال یا اس سے بھی زیادہ ہے، اور ان میں سے بہت سے لوگ آج بھی اپنی روزمرہ زندگی خود سنبھالتے ہیں۔ وہ نہ صرف چل پھر سکتے ہیں بلکہ باغبانی، کھانا پکانے اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
دنیا بھر کے سائنس دان اور عمر رسیدگی پر تحقیق کرنے والے ماہرین اس جزیرے کو خاص دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی طویل عمر کا راز کسی ایک دوا، علاج یا جدید ٹیکنالوجی میں نہیں، بلکہ اس طرزِ زندگی میں چھپا ہے جو یہاں کے لوگ نسلوں سے اپناتے آ رہے ہیں۔ یہ جزیرہ گویا صحت مند بڑھاپے کی ایک جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہاں کے لوگوں کی خوراک سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کی غذا زیادہ تر سبزیوں، دالوں، مقامی فصلوں اور سادہ قدرتی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔ گوشت کم مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ فاسٹ فوڈ اور مصنوعی غذائیں تقریباً ناپید ہیں۔ یہاں کے بزرگ اعتدال کے ساتھ کھاتے ہیں، پیٹ بھر کر نہیں بلکہ اتنا کہ جسم کو توانائی مل جائے۔ ان کے نزدیک کھانا صرف ذائقے کے لیے نہیں بلکہ صحت کے لیے ہوتا ہے۔
Read This Also
جب سڑک مڑ گئی مگر فطرت بچا لی گئی: آئس لینڈ کا حیران کن فیصلہ
اس جزیرے کی ایک اور خاص بات روزمرہ کی جسمانی سرگرمی ہے۔ یہاں کے لوگ باقاعدہ ورزش کے لیے جم نہیں جاتے، بلکہ ان کی روزانہ کی زندگی ہی انہیں متحرک رکھتی ہے۔ کوئی اپنے باغ میں کام کرتا ہے، کوئی لمبی سیر کو جاتا ہے، اور کوئی گھر کے کام خود انجام دیتا ہے۔ یہ مسلسل ہلکی پھلکی حرکت ان کے جسم کو فعال رکھتی ہے اور بڑھاپے میں بھی کمزوری کو قریب نہیں آنے دیتی۔
سماجی تعلقات اس جزیرے کی زندگی کا ایک اور مضبوط ستون ہیں۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور تنہائی کا تصور تقریباً ناپید ہے۔ بزرگ افراد کو معاشرے سے الگ نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں عزت، اہمیت اور مصروفیت دی جاتی ہے۔ روزانہ ملاقاتیں، مشترکہ تقریبات اور باہمی گفتگو ان کے ذہن کو تازہ رکھتی ہے اور دل کو مطمئن کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم ذہنی دباؤ بھی یہاں کی طویل عمر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جدید شہروں کی طرح یہاں نہ ٹریفک کا شور ہے، نہ کام کا حد سے زیادہ دباؤ، اور نہ ہی مسلسل مقابلے کی فضا۔ لوگ سادہ زندگی گزارتے ہیں، چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں سکون تلاش کرتے ہیں اور فطرت کے قریب رہتے ہیں۔ یہی سکون اور اطمینان ان کے دل و دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنس دان اس جزیرے کو ایک قدرتی لیبارٹری قرار دیتے ہیں، جہاں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ انسان کس طرح صحت مند انداز میں عمر رسیدہ ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ جدید طب نے انسانی عمر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اصل فرق زندگی گزارنے کے انداز سے پڑتا ہے۔ صرف زیادہ سال جینا ہی کافی نہیں، بلکہ ان سالوں کو صحت، خوشی اور خودمختاری کے ساتھ جینا اصل کامیابی ہے۔
یہ جزیرہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طویل عمر کسی ایک راز کا نتیجہ نہیں، بلکہ کئی چھوٹے مگر مستقل عادات کا مجموعہ ہے۔ متوازن خوراک، روزمرہ کی سرگرمی، مضبوط سماجی تعلقات اور ذہنی سکون مل کر وہ بنیاد بناتے ہیں جس پر ایک صحت مند بڑھاپا کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں کے بزرگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انسان اپنے جسم اور دل کا خیال رکھے تو عمر اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
آخرکار، جاپان کا یہ چھوٹا سا جزیرہ پوری دنیا کے لیے ایک خاموش پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لمبی زندگی صرف ہسپتالوں اور دواؤں کی محتاج نہیں، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم روزانہ کیسے جیتے ہیں، کن لوگوں کے ساتھ جیتے ہیں اور زندگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
.png)