آتش فشاں کے دل میں شارک: وہ دریافت جس نے سائنس کو حیران کر دیا

آتش فشاں کے دل میں شارک: وہ دریافت جس نے سائنس کو حیران کر دیا

سائنس کی دنیا میں ایک حیران کن انکشاف نے ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ محققین نے یہ دریافت کیا ہے کہ شارک مچھلیاں ایک ایسے زیرِ سمندر آتش فشاں کے گڑھے کے اندر رہ رہی ہیں جو اب بھی فعال ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی یہ تصور بھی ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بڑی سمندری شکاری مخلوق زندہ رہ سکتی ہے۔ عام خیال یہ تھا کہ آتش فشانی سرگرمی، شدید حرارت اور زہریلے کیمیکل کسی بھی پیچیدہ جاندار کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں، لیکن اس دریافت نے ان تمام مفروضوں کو چیلنج کر دیا ہے۔

یہ زیرِ سمندر آتش فشاں انتہائی گرم پانی خارج کرتا ہے، جس کا درجہ حرارت بعض حصوں میں 400 فارن ہائیٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ماحول زندگی کے لیے ناممکن دکھائی دیتا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر شارک مچھلیاں اسی آتش فشانی گڑھے، یعنی کیلڈیرا، کے اندر تیرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شارک براہِ راست ان مقامات پر نہیں جاتیں جہاں حرارت جان لیوا حد تک زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آتش فشاں کے اندر کچھ مخصوص علاقے ایسے ہیں جہاں انتہائی گرم آتش فشانی پانی اور نسبتاً ٹھنڈا سمندری پانی آپس میں مل جاتا ہے۔ اس ملاپ کے نتیجے میں ایسے چھوٹے مگر قابلِ رہائش ماحول بنتے ہیں جنہیں مائیکرو انوائرنمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہاں درجہ حرارت گرم تو ہوتا ہے، مگر اتنا نہیں کہ زندگی ناممکن ہو جائے۔ شارک انہی حصوں میں رہائش اختیار کرتی ہیں، جہاں وہ خود کو محفوظ بھی رکھ سکتی ہیں اور خوراک بھی حاصل کر سکتی ہیں۔


Read This Also

سو سال سے زیادہ جینے کا راز: جاپان کا وہ جزیرہ جہاں عمر ہار مان لیتی ہے

ماہرین کا خیال ہے کہ اس غیر معمولی ماحول میں شارک کو کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ مقابلے کی کمی ہے۔ چونکہ زیادہ تر بڑی مچھلیاں اور شکاری ایسے خطرناک علاقوں سے دور رہتی ہیں، اس لیے یہاں شارک کو خوراک کے لیے زیادہ مقابلہ نہیں کرنا پڑتا۔ یہ جگہ گویا ان کے لیے ایک قدرتی پناہ گاہ بن جاتی ہے، جہاں خطرات کم اور وسائل نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آتش فشانی ماحول میں خاص قسم کی خوردبینی حیات بھی پائی جاتی ہے۔ یہ مائیکروبس آتش فشانی کیمیکلز سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور ایک منفرد غذائی سلسلے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہی خوردبینی حیات چھوٹی مچھلیوں اور دیگر جانداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، جو آگے چل کر بڑی مچھلیوں اور آخرکار شارک کے لیے خوراک کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس طرح ایک ایسا مکمل ماحولیاتی نظام وجود میں آتا ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں بخوبی کام کر رہا ہے۔

یہ دریافت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ زندگی کی حدود دراصل ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ شارک پہلے ہی اپنی مضبوط جسمانی ساخت، تیز حِسّات اور غیر معمولی بقا کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں، مگر آتش فشاں کے اندر ان کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ انتہائی سخت اور غیر متوقع حالات میں بھی خود کو ڈھال سکتی ہیں۔ یہ صرف شارک کی کہانی نہیں بلکہ زندگی کی مجموعی لچک اور ارتقائی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

اس انکشاف کے اثرات صرف سمندری حیاتیات تک محدود نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انتہائی ماحول میں زندگی کا مطالعہ ہمیں زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ اگر زمین پر جاندار آتش فشانی، انتہائی گرم اور کیمیائی طور پر سخت ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں، تو ممکن ہے کہ دوسرے سیاروں یا چاندوں پر بھی زندگی کی کوئی شکل موجود ہو۔ مثال کے طور پر مریخ، یوروپا یا اینسیلاڈس جیسے مقامات پر بھی سخت حالات پائے جاتے ہیں، مگر وہاں زیرِ سطح پانی یا آتش فشانی سرگرمی کے امکانات موجود ہیں۔

اسی لیے ماہرین فلکیات اور حیاتیات اس دریافت کو زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے تناظر میں بھی انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ زیرِ سمندر آتش فشاں میں بسنے والی شارک ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ زندگی صرف ہرے بھرے میدانوں یا معتدل ماحول تک محدود نہیں۔ یہ وہاں بھی پنپ سکتی ہے جہاں ہم نے کبھی اس کا تصور تک نہیں کیا تھا۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ دریافت قدرت کے ان رازوں میں سے ایک ہے جو انسان کو عاجزی سکھاتے ہیں۔ جتنا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ معلوم ہے، اتنا ہی فطرت ہمیں حیران کر دیتی ہے۔ شارک کا آتش فشاں میں رہنا اس بات کی علامت ہے کہ زندگی ہمیشہ راستہ تلاش کر لیتی ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.