آئس لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت ہر قدم پر اپنی طاقت اور نرمی دونوں دکھاتی ہے۔ آتش فشاں زمین، برفانی ہوائیں، سیاہ لاوا کے میدان اور ان پر پھیلی نرم سبز کائی اس سرزمین کو منفرد بناتی ہے۔ حال ہی میں یہاں ایک ایسا فیصلہ کیا گیا جس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ حکام نے ایک ہائی وے کے حصے کا راستہ بدل دیا، صرف اس لیے کہ وہاں موجود ایک قدیم کائی کے میدان کو نقصان سے بچایا جا سکے، جس کی عمر تقریباً دو سو سال بتائی جاتی ہے۔
یہ کائی عام پودوں جیسی نہیں ہوتی۔ آئس لینڈ کے سخت موسم میں یہ نہایت آہستہ آہستہ بڑھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں کائی سال بھر میں صرف چند ملی میٹر ہی آگے بڑھ پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کائی آج ہمیں نظر آتی ہے، وہ کئی نسلوں کی خاموش محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس پر گاڑی چڑھ جائے یا تعمیراتی کام کے دوران یہ کچل دی جائے تو اس کا دوبارہ اُگنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے آئس لینڈ میں کائی کو خاص قانونی تحفظ حاصل ہے۔ بہت سے علاقوں میں اس پر چلنا، گاڑی گزارنا یا کسی بھی قسم کی تعمیر کرنا قانوناً جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ قوانین صرف خوبصورتی بچانے کے لیے نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ کائی زمین کو مضبوط بناتی ہے، نمی کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے اور آتش فشانی مٹی کو بہنے سے روکتی ہے۔
Read This also
آسمان میں چلتی فیکٹری: وہ مشین جو کھائیوں کے اوپر پل بناتی ہے
جب منصوبہ سازوں نے اس ہائی وے کا نقشہ بنایا تو انہیں اندازہ ہوا کہ مجوزہ سڑک براہ راست ایک نازک کائی کے میدان سے گزرے گی۔ ایک آسان راستہ یہ تھا کہ کائی کو ہٹا کر سڑک بنا دی جائے، جیسا کہ دنیا کے کئی حصوں میں کیا جاتا ہے۔ لیکن آئس لینڈ میں سوچنے کا انداز مختلف ہے۔ یہاں فیصلہ یہ ہوا کہ قدرت کو انسان کی سہولت پر قربان نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ سڑک کے نقشے میں تبدیلی کی گئی۔ راستہ موڑا گیا، منصوبہ دوبارہ تیار ہوا اور اضافی لاگت بھی برداشت کی گئی۔ اگرچہ یہ فیصلہ مہنگا اور وقت طلب تھا، لیکن حکام کے نزدیک یہ مستقبل میں ہونے والے نقصان سے کہیں بہتر تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک سڑک دوبارہ بنائی جا سکتی ہے، مگر صدیوں پرانی کائی واپس نہیں لائی جا سکتی۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق کائی کا کردار صرف زمین کو سبز دکھانے تک محدود نہیں۔ یہ آتش فشانی علاقوں میں مٹی کو بکھرنے سے بچاتی ہے، بارش کے پانی کو جذب کر کے آہستہ آہستہ چھوڑتی ہے اور یوں سیلاب اور کٹاؤ کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ اگر یہ قدرتی تہہ ختم ہو جائے تو تیز ہوائیں مٹی کو اُڑا لے جاتی ہیں، زمین بنجر ہو جاتی ہے اور پورا علاقہ ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔
آئس لینڈ کا یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔ درست منصوبہ بندی اور دور اندیشی کے ساتھ دونوں کو ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ سوچ غالب رہی کہ وقتی سہولت کے بجائے طویل مدتی فائدے کو ترجیح دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں فطرت کو صرف وسائل نہیں بلکہ ایک امانت سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں ترقی کا مطلب درخت کاٹنا، زمین ہموار کرنا اور قدرتی مناظر کو بدل دینا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آئس لینڈ نے دکھایا کہ ترقی کا ایک اور راستہ بھی ممکن ہے۔ ایسا راستہ جہاں انسان اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے قدرت کا احترام بھی کرے۔ یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم نے زمین کو صرف استعمال کے لیے نہیں بلکہ سنبھال کر رکھنے کے لیے پایا ہے۔
آخرکار، اس ہائی وے کا راستہ بدلنا محض ایک انجینئرنگ فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اخلاقی انتخاب تھا۔ یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل ترقی وہی ہے جو زمین کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ آئس لینڈ کی یہ مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو سڑکیں بھی مڑ سکتی ہیں، لیکن فطرت کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
.png)