گوگل کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے کوانٹم کمپیوٹنگ کے ایک تجربے نے دنیا بھر میں سائنسی اور فکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تجربے میں گوگل کے تیار کردہ کوانٹم چِپ نے ایک نہایت مخصوص اور پیچیدہ حسابی مسئلہ محض چند منٹوں میں حل کر لیا، جس کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر یہی کام کسی روایتی سپر کمپیوٹر کو سونپا جائے تو اسے مکمل کرنے میں کائنات کی موجودہ عمر سے بھی زیادہ وقت لگ جائے۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے بعض سائنس دانوں نے وقت کا تخمینہ دس سیپٹیلیئن سال کے قریب بتایا ہے، جو انسانی تصور سے کہیں آگے کی مدت ہے۔
یہ تجربہ دراصل ایک خاص معیار پر مبنی تھا جسے کوانٹم سیمپلنگ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا کوانٹم نظام واقعی روایتی کمپیوٹرز سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے یا نہیں۔ اس قسم کے تجربات کا فوری طور پر کوئی عملی یا روزمرہ استعمال موجود نہیں، مگر یہ اس بات کا ثبوت ضرور فراہم کرتے ہیں کہ کوانٹم کمپیوٹرز بعض مخصوص مسائل میں کلاسیکل کمپیوٹنگ کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اسی مرحلے کو سائنسی زبان میں “کوانٹم سپریمیسی” کہا جاتا ہے۔
کوانٹم سپریمیسی کا تصور یہ نہیں کہ کوانٹم کمپیوٹر ہر لحاظ سے عام کمپیوٹرز سے بہتر ہو گئے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ خاص اقسام کے حسابی مسائل ایسے ہیں جن میں کوانٹم مشینیں ناقابلِ تصور حد تک تیز ثابت ہو سکتی ہیں۔ گوگل کا یہ تجربہ اسی نظریے کی ایک مضبوط مثال سمجھا جا رہا ہے۔ اس کامیابی نے کوانٹم کمپیوٹنگ کو محض ایک نظری خیال سے نکال کر عملی حقیقت کے اور بھی قریب کر دیا ہے۔
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا، سائنسی جرائد اور عوامی مباحثوں میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں۔ کچھ ماہرینِ طبیعیات اور مبصرین نے اس تجربے کو کوانٹم مکینکس کی گہری تشریحات سے جوڑنے کی کوشش کی، جن میں ملٹی ورس یعنی متوازی کائناتوں کا نظریہ بھی شامل ہے۔ اس نظریے کے مطابق کوانٹم کمپیوٹر ایک ہی وقت میں کئی ممکنہ حالتوں کو جانچ سکتا ہے، گویا وہ مختلف حقیقتوں میں بیک وقت حساب کر رہا ہو۔
تاہم سائنس دانوں کی اکثریت اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ سب نظریاتی تشریحات ہیں، جنہیں حتمی سچ نہیں سمجھا جا سکتا۔ گوگل کے تجربے نے متوازی کائناتوں کے وجود کو ثابت نہیں کیا، بلکہ صرف یہ دکھایا ہے کہ کوانٹم فزکس کے اصولوں پر مبنی کمپیوٹنگ روایتی طبیعیات کی حدود سے آگے جا سکتی ہے۔ ملٹی ورس کی باتیں ابھی تک فلسفیانہ اور نظری سطح پر ہیں، نہ کہ اس تجربے کا براہِ راست نتیجہ۔
اس کے باوجود، یہ پیش رفت اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ مستقبل میں کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، میٹیریلز سائنس میں نئے اور زیادہ مضبوط مواد کی دریافت، کرپٹوگرافی میں ڈیٹا سیکیورٹی کے نئے طریقے، اور دوا سازی میں پیچیدہ مالیکیولز کی تیز رفتار جانچ ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ مسائل جنہیں حل کرنے میں آج برسوں لگ جاتے ہیں، مستقبل میں شاید چند گھنٹوں یا منٹوں میں حل ہو سکیں۔
ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ کوانٹم کمپیوٹنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ عملی اور تجارتی سطح پر اس کے استعمال میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ کوانٹم مشینوں کو مستحکم بنانا، غلطیوں کو کم کرنا، اور انہیں بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال بنانا ابھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مگر اس کے باوجود، پیش رفت سست نہیں بلکہ مسلسل اور قابلِ پیمائش ہے۔
گوگل کا یہ تجربہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کمپیوٹنگ ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ دور وہ ہے جہاں صرف کلاسیکل فزکس کے قوانین کافی نہیں رہے، بلکہ کوانٹم قوانین کو سمجھنا اور استعمال کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کامیابی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم متوازی کائناتوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ انسانی علم اور ٹیکنالوجی ایک نئی حد کو چھو چکی ہے۔
مختصر یہ کہ یہ بریک تھرو ہمیں مستقبل کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں حساب، تحقیق اور دریافت کے معنی یکسر بدل سکتے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹنگ نے ابھی اپنے سفر کا آغاز کیا ہے، مگر اس کے اثرات آنے والی دہائیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔
