پرانے فون بوتھ سے نئی امید تک: اسپین کا تعلیمی انقلاب


شہروں کی گلیوں میں کھڑے پرانے فون بوتھ کبھی رابطے کا اہم ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ لوگ ان کے اندر جا کر سکون سے کال کیا کرتے، پیغامات دیتے اور اپنے پیاروں سے جڑتے تھے۔ مگر موبائل فون کے عام ہونے کے بعد یہ بوتھ آہستہ آہستہ بے کار ہو گئے۔ کئی جگہوں پر وہ ویران کھڑے رہے، جیسے وقت نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ لیکن اسپین نے ان بھولی بسری جگہوں کو ایک نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا، اور یوں ایک سادہ سا خیال ایک بڑی تبدیلی میں بدل گیا۔

اسپین کے مختلف شہروں میں ان پرانے فون بوتھ کو چھوٹے مگر کارآمد مطالعہ کمروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ شیشے کی وہی چھوٹی سی جگہ اب طلبہ اور نوجوانوں کے لیے ایک پرسکون گوشہ بن چکی ہے جہاں وہ بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں یا اپنے اسائنمنٹس مکمل کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام بظاہر معمولی لگ سکتا ہے، مگر اس کے اثرات کافی گہرے ہیں۔

ان نئے مائیکرو اسٹڈی اسپیسز میں بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اندر ایک آرام دہ نشست، چھوٹا سا ورک ڈیسک اور وائی فائی کنکشن موجود ہوتا ہے۔ کچھ جگہوں پر بجلی کے ساکٹس بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ لیپ ٹاپ یا موبائل چارج کیا جا سکے۔ یوں ایک محدود سی جگہ طالب علم کے لیے مکمل تعلیمی ماحول میں ڈھل جاتی ہے۔

ہر گھر میں پڑھائی کے لیے مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا۔ کئی نوجوان ایسے ہیں جن کے گھروں میں شور شرابہ ہوتا ہے، یا ایک ہی کمرے میں کئی افراد رہتے ہیں۔ بعض خاندانوں کے پاس تیز رفتار انٹرنیٹ بھی نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے آن لائن تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ چھوٹے اسٹڈی بوتھ ایک بڑی سہولت بن کر سامنے آئے ہیں۔ طالب علم چند گھنٹوں کے لیے یہاں آ کر سکون سے پڑھ سکتے ہیں۔

ان بوتھ کو عموماً عوامی مقامات پر نصب کیا جا رہا ہے، جیسے پارکوں کے قریب، بس اسٹاپس کے پاس یا مرکزی سڑکوں کے اطراف۔ اس سے نوجوانوں کو دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنے ہی علاقے میں ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد جگہ حاصل کر لیتے ہیں جہاں وہ توجہ کے ساتھ تعلیم پر وقت صرف کر سکیں۔

اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو اس کی کم لاگت اور پائیداری ہے۔ چونکہ پہلے سے موجود ڈھانچے کو دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر نئی تعمیر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے اخراجات کم رہتے ہیں اور ماحولیاتی اثرات بھی محدود ہوتے ہیں۔ پرانی شہری تنصیبات کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں نئے مقصد کے لیے ڈھال دینا ایک سمجھدار حکمت عملی ہے۔

خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس منصوبے سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل وسائل تک رسائی آج کی تعلیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی کے پاس انٹرنیٹ یا مناسب جگہ نہ ہو تو وہ پیچھے رہ سکتا ہے۔ یہ چھوٹے مطالعہ مراکز اس فرق کو کم کرنے کی کوشش ہیں، تاکہ ہر نوجوان کو سیکھنے کا برابر موقع مل سکے۔

یہ خیال اس بات کی مثال ہے کہ ترقی ہمیشہ بڑے منصوبوں سے نہیں آتی۔ کبھی کبھار اصل تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم موجود چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ایک ویران فون بوتھ کو دیکھ کر اکثر لوگ اسے ہٹانے کا سوچتے، مگر یہاں اسے علم کے مرکز میں بدل دیا گیا۔

ان شیشے کے چھوٹے کمروں میں اب صرف آواز نہیں گونجتی بلکہ خواب پلتے ہیں۔ یہاں بیٹھا کوئی نوجوان امتحان کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، کوئی آن لائن لیکچر سن رہا ہوتا ہے، اور کوئی اپنے مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ جگہیں خاموش ضرور ہیں، مگر ان کے اندر امید کی ایک نئی آواز سنائی دیتی ہے۔

مختصر یہ کہ اسپین کا یہ اقدام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری ترقی صرف نئی عمارتیں بنانے کا نام نہیں۔ اصل بات سوچ کی تبدیلی ہے۔ جب ہم پرانی چیزوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے موقع سمجھنے لگیں، تو وہی فراموش شدہ ڈھانچے مستقبل کے دروازے بن سکتے ہیں۔ ان چھوٹے بوتھ میں اب پرائیویسی، رابطہ اور امید اکٹھے ہو چکے ہیں، اور یہی امتزاج نوجوان نسل کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.