آسمان کبھی کبھی ایسا منظر پیش کرتا ہے جو برسوں یاد رہتا ہے۔ 28 فروری 2026 کی شام بھی کچھ ایسی ہی ہونے والی ہے۔ اس دن سورج غروب ہونے کے بعد افق پر ایک نایاب فلکیاتی ترتیب دکھائی دے گی، جب چھ سیارے ایک ہی خط کے قریب نظر آئیں گے۔ یہ خط دراصل سورج کے ظاہری راستے کو ظاہر کرتا ہے جسے ماہرین فلکیات "دائرہ البروج" کہتے ہیں۔ زمین سے دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوگا جیسے یہ سب سیارے ایک ہی قطار میں سجے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ خلا میں یہ سیارے حقیقتاً ایک سیدھی لکیر میں کھڑے نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان فاصلے کروڑوں اور اربوں کلومیٹر پر محیط ہوتے ہیں۔ مگر زمین سے دیکھنے کے زاویے کی وجہ سے وہ ایک ہی حصے میں جمع دکھائی دیتے ہیں۔ اسی بصری ترتیب کو عام طور پر سیاروی پریڈ کہا جاتا ہے۔ ایسے مواقع ہر سال نہیں آتے، اسی لیے ماہرین اور شوقین افراد اس تاریخ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
اس فلکیاتی منظر میں شامل پہلا سیارہ عطارد ہوگا۔ یہ سورج کے سب سے قریب ہے اور غروب آفتاب کے فوراً بعد افق کے بہت قریب نظر آئے گا۔ اسے دیکھنے کے لیے صاف اور کھلا مغربی افق ضروری ہوگا کیونکہ یہ زیادہ دیر تک دکھائی نہیں دیتا۔
زہرہ اس شام کا سب سے نمایاں کردار ہوگا۔ یہ عام طور پر شام کے وقت سب سے زیادہ روشن جسم کے طور پر نظر آتا ہے۔ اگر آپ آسمان پر سب سے چمکتا ہوا نقطہ دیکھیں تو غالب امکان ہے کہ وہ زہرہ ہی ہو۔ اسے تلاش کرنا آسان ہوگا اور اسی کو بنیاد بنا کر باقی سیاروں کی سمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مشتری بھی اس قطار میں شامل ہوگا۔ یہ بڑا اور روشن سیارہ ہے اور آنکھ سے صاف پہچانا جا سکتا ہے۔ اس کی چمک مستقل اور واضح ہوتی ہے، اس لیے آسمان پر اسے ڈھونڈنا مشکل نہیں ہوگا۔
زحل اپنی ہلکی سنہری جھلک کے ساتھ دکھائی دے گا۔ اگرچہ ننگی آنکھ سے یہ ایک روشن نقطے کی طرح نظر آئے گا، مگر اگر آپ کے پاس دوربین ہو تو اس کے مشہور حلقے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ لمحہ خاص طور پر شوقین فلکیات کے لیے یادگار ہوگا۔
یورینس قدرے مدھم ہے، اس لیے اسے دیکھنے کے لیے کم از کم ایک اچھی دوربین درکار ہوگی۔ شہر کی روشنیوں سے دور کسی تاریک مقام پر جا کر اسے تلاش کرنا بہتر رہے گا۔ نیپچون اس سے بھی زیادہ دھندلا ہوگا اور اسے دیکھنے کے لیے چھوٹی دوربین کے بجائے ٹیلی اسکوپ زیادہ موزوں رہے گی۔
اگر آپ اس نادر منظر کو دیکھنا چاہتے ہیں تو سورج غروب ہونے کے تقریباً تیس سے ساٹھ منٹ بعد باہر نکلیں۔ مغرب یا جنوب مغرب کی سمت رخ کریں اور کوشش کریں کہ سامنے کھلا افق ہو۔ سب سے پہلے زہرہ کو تلاش کریں، پھر اسی راستے پر نظر دوڑاتے ہوئے باقی سیاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اگر ممکن ہو تو شہر کی تیز روشنیوں سے دور کسی کھلی جگہ کا انتخاب کریں تاکہ آسمان زیادہ صاف دکھائی دے۔
یہ لمحہ صرف فلکیاتی مشاہدہ نہیں بلکہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ ہم ایک وسیع کائنات کا حصہ ہیں۔ روزمرہ کی مصروفیات میں ہم اکثر اوپر دیکھنا بھول جاتے ہیں، مگر ایسے مواقع ہمیں رک کر آسمان کا نظارہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ چھ سیاروں کا ایک ساتھ دکھائی دینا قدرت کی ایک خاموش پیشکش ہے، جو ہمیں حیرت اور تجسس سے بھر دیتی ہے۔
کیمرہ رکھنے والوں کے لیے بھی یہ بہترین موقع ہوگا۔ اگر آپ کے پاس ٹرائی پوڈ اور لمبی ایکسپوژر کی سہولت ہو تو آپ اس نادر ترتیب کو محفوظ کر سکتے ہیں۔ مگر اگر کچھ بھی نہ ہو تو صرف اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ لینا ہی کافی ہے۔
اپنی تاریخ یاد رکھیں، وقت نوٹ کریں اور اس شام چند لمحے آسمان کے نام کر دیں۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔
