اسپین نے حال ہی میں توانائی کے شعبے میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ملک نے مسلسل نو گھنٹوں تک اپنی پوری قومی بجلی کی ضرورت صرف قابلِ تجدید ذرائع سے پوری کی۔ ایک بڑی اور صنعتی معیشت کے لیے یہ معمولی بات نہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ صاف توانائی اب صرف ایک خواب یا نظریہ نہیں رہی بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے سب سے بڑا کردار ہوا اور سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کا تھا۔ اسپین کے مختلف علاقوں میں وسیع و عریض ونڈ فارمز نصب ہیں جہاں تیز اور مسلسل چلنے والی ہوائیں بجلی پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح ملک میں سورج کی روشنی کی شدت کافی زیادہ ہے، جس کی بدولت شمسی پینلز سے خاطر خواہ توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ ان دونوں ذرائع کو پن بجلی نے بھی سہارا دیا، جس نے نظام کو متوازن رکھنے میں مدد کی۔
اسپین کو جغرافیائی طور پر کچھ خاص فوائد حاصل ہیں۔ یہاں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں سال بھر ہوائیں نسبتاً مستقل رفتار سے چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح سورج کی روشنی بھی وافر مقدار میں دستیاب ہے، خاص طور پر جنوبی حصوں میں۔ مزید یہ کہ اسپین کا بجلی کا نظام یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ منسلک ہے، جس سے ضرورت پڑنے پر سرحد پار توانائی کا تبادلہ ممکن ہو جاتا ہے۔ ان عوامل نے اس ریکارڈ کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ریکارڈ کے ان نو گھنٹوں کے دوران بجلی کی طلب مکمل طور پر قابلِ تجدید ذرائع سے پوری کی گئی۔ اس عرصے میں نہ کوئلہ استعمال ہوا، نہ گیس اور نہ ہی جوہری توانائی پر انحصار کیا گیا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ عام طور پر بڑے صنعتی ممالک میں بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مختلف ذرائع کا امتزاج استعمال کیا جاتا ہے۔ اسپین نے دکھایا کہ سازگار حالات میں صرف صاف توانائی بھی نظام کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔
تاہم یہ کامیابی صرف ہوا اور سورج کی وجہ سے ممکن نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے جدید گرڈ مینجمنٹ سسٹمز بھی کارفرما تھے۔ بجلی کی پیداوار اور طلب کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کیا گیا۔ ماہرین نے پیشگی اندازہ لگایا کہ کس وقت کتنی بجلی درکار ہوگی اور اسی حساب سے پیداوار کو منظم کیا گیا۔ اس عمل کو ریئل ٹائم ڈیمانڈ فورکاسٹنگ کہا جاتا ہے، جو جدید توانائی کے نظام کا اہم حصہ ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی پیداوار مستقل نہیں ہوتی۔ ہوا کبھی تیز چلتی ہے تو کبھی سست پڑ جاتی ہے، اور سورج رات کے وقت موجود نہیں ہوتا۔ ایسے میں گرڈ کے فریکوئنسی اور وولٹیج کو متوازن رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اسپین کے گرڈ آپریٹرز نے اس دوران بڑی مہارت سے نظام کو سنبھالا، تاکہ کسی قسم کی تکنیکی خرابی یا بلیک آؤٹ کا خطرہ پیدا نہ ہو۔
ماہرین اس کامیابی کو سراہتے ہوئے یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ نو گھنٹے پورے سال کے برابر نہیں ہوتے۔ سردیوں اور گرمیوں میں طلب میں فرق آتا ہے۔ رات کے اوقات میں شمسی توانائی دستیاب نہیں ہوتی، اور بعض اوقات کئی دنوں تک ہوائیں بھی کمزور رہ سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں بیک اپ کے طور پر توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید حل درکار ہوتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے اسپین بیٹری اسٹوریج اور طویل دورانیے کے ذخیرہ نظاموں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ گرڈ اسکیل بیٹریاں اضافی بجلی کو محفوظ کر کے بعد میں استعمال کے قابل بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ گرین ہائیڈروجن جیسے متبادل بھی زیرِ غور ہیں، جو مستقبل میں توانائی کے ذخیرے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یورپی ممالک کے ساتھ مزید مضبوط روابط بھی نظام کو لچکدار بنانے میں مدد دیں گے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی محض علامتی نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ زیادہ تر قابلِ تجدید ذرائع پر مشتمل بجلی کا نظام اب عملی طور پر ممکن ہے۔ اگر ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام میں مزید بہتری آتی رہی تو آئندہ برسوں میں ایسے دن عام ہو سکتے ہیں جب یورپ کے کئی ممالک اپنی بجلی مکمل طور پر صاف توانائی سے حاصل کریں۔
مختصر یہ کہ اسپین نے یہ دکھا دیا ہے کہ درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال سے توانائی کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ یہ قدم نہ صرف ماحولیاتی بہتری کی جانب پیش رفت ہے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بھی ہے۔
