ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ کانوں کا کام صرف آواز سننا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن اور گہری ہے۔ آپ کے کان دراصل آپ کے جسم کے توازن کو کنٹرول کرنے والا ایک نہایت اہم نظام ہیں۔ اگر کانوں کا یہ نظام صرف ایک سیکنڈ کے لیے بھی کام کرنا بند کر دے تو انسان کھڑے کھڑے گر سکتا ہے، اور اسے اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ آخر ہوا کیا ہے۔
انسانی جسم میں توازن برقرار رکھنے کا ایک خاص نظام ہوتا ہے جسے ویسٹی بیولر سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ نظام کان کے اندر موجود ہوتا ہے اور مسلسل دماغ کو یہ معلومات دیتا رہتا ہے کہ آپ کس حالت میں ہیں۔ آپ سیدھے کھڑے ہیں، چل رہے ہیں، گھوم رہے ہیں یا ساکن ہیں، یہ سب فیصلے اسی نظام کی مدد سے ہوتے ہیں۔ یہی سسٹم یہ بھی طے کرتا ہے کہ آپ کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں وہ حقیقت ہے یا صرف ایک دھوکہ۔
کان کے اندر تین خم دار نالیاں ہوتی ہیں جنہیں سیمی سرکلر کینالز کہا جاتا ہے۔ ان نالیوں کے اندر ایک خاص قسم کا مائع بھرا ہوتا ہے۔ جب آپ اپنا سر ہلاتے ہیں، جھکتے ہیں یا گھومتے ہیں تو یہ مائع بھی حرکت کرتا ہے۔ اس حرکت کے ذریعے دماغ کو سگنلز ملتے ہیں کہ جسم کس سمت میں جا رہا ہے اور اس وقت اس کی پوزیشن کیا ہے۔ دماغ انہی سگنلز کی بنیاد پر جسم کے پٹھوں کو ہدایات دیتا ہے تاکہ آپ کا توازن برقرار رہے۔
اب ذرا اس کا حیران کن پہلو سمجھیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ مائع دماغ کو غلط سگنلز بھیجنے لگے تو دماغ یہ سمجھ لیتا ہے کہ جسم میں کوئی خطرناک خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی لمحے دماغ کا دفاعی نظام متحرک ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں چکر آنا، متلی محسوس ہونا اور الٹی جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں سفر کے دوران یا تیز گھومنے پر موشن سکنس ہو جاتی ہے۔ اس وقت آنکھیں کہتی ہیں کہ سب ٹھیک ہے، لیکن کان دماغ کو بتاتے ہیں کہ کچھ غلط ہو رہا ہے، اور اسی تضاد سے دماغ گھبرا جاتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں سننے کی صلاحیت کی۔ کان کے اندر نہایت باریک اور ننھے بالوں جیسے خلیے ہوتے ہیں جنہیں ہیئر سیلز کہا جاتا ہے۔ یہی خلیے آواز کی لہروں کو برقی سگنلز میں بدل کر دماغ تک پہنچاتے ہیں، تاکہ ہم آواز کو سمجھ سکیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ خلیے اگر ایک بار خراب ہو جائیں یا مر جائیں تو دوبارہ پیدا نہیں ہوتے۔
تیز آوازیں، زیادہ دیر تک ہیڈفون کا استعمال، اونچی موسیقی اور شور والی جگہیں آہستہ آہستہ ان ہیئر سیلز کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ نقصان خاموشی سے ہوتا ہے۔ انسان کو اکثر اس وقت احساس ہوتا ہے جب نقصان مستقل ہو چکا ہوتا ہے اور سماعت واپس آنا ممکن نہیں رہتی۔
سب سے خوفناک صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب کان کا اندرونی حصہ مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دے۔ ایسی حالت میں انسان نہ ٹھیک طرح چل سکتا ہے، نہ سیدھا کھڑا رہ سکتا ہے، اور کئی مرتبہ بے ہوشی تک طاری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دماغ کو یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ جسم کہاں ہے اور کس سمت میں حرکت کر رہا ہے۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کان صرف آواز سننے کا ذریعہ نہیں ہیں۔ یہ آپ کی دنیا کو متوازن رکھتے ہیں، آپ کے قدموں کو زمین پر مضبوط رکھتے ہیں، اور آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ اگر کانوں کا توازن بگڑ جائے تو انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا گھوم رہی ہو۔
لہٰذا کانوں کی حفاظت صرف سماعت کے لیے نہیں بلکہ پورے جسمانی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ یہ وہ خاموش محافظ ہیں جو ہر لمحہ آپ کو گرنے سے بچاتے ہیں، چاہے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔
