پنجاب میں تھانہ کلچر کی تاریخ بدلنے والا فیصلہ


پنجاب حکومت نے بالآخر وہ قدم اٹھا لیا ہے جس کا مطالبہ عوام کافی عرصے سے کر رہے تھے۔ صوبے میں تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے باضابطہ فیصلے کر لیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد کے احکامات بھی جاری ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب میں رہنے والے عام شہریوں کے لیے یہ فیصلے نہایت خوش آئند سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کا براہ راست تعلق عوام کے روزمرہ مسائل، عزتِ نفس اور انصاف تک آسان رسائی سے ہے۔

سب سے اہم فیصلہ ہر تھانے میں پینک بٹن نصب کرنے کا ہے۔ اس پینک بٹن کا مقصد یہ ہوگا کہ اگر کوئی شہری تھانے آ کر خود کو پریشان، خوف زدہ یا بے بس محسوس کرے، یا اسے لگے کہ اس کی بات نہیں سنی جا رہی، تو وہ بلا جھجھک اس بٹن کو دبا سکے۔ جیسے ہی پینک بٹن دبایا جائے گا، شہری کا رابطہ فوری طور پر وزیراعلیٰ کے دفتر سے قائم ہو جائے گا۔ وہاں موجود متعلقہ عملہ شکایت سنے گا اور موقع پر ہی کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو اعتماد ملے گا بلکہ تھانوں میں موجود عملے کو بھی احساس ہوگا کہ ان کے رویے اور طرزِ عمل کی براہ راست نگرانی ہو رہی ہے۔

اسی سلسلے میں ایک اور بڑا قدم باڈی کیمروں کا استعمال ہے۔ اب پنجاب پولیس کے وہ تمام افسران جو فیلڈ میں ڈیوٹی انجام دیں گے، چاہے وہ پٹرولنگ پر ہوں یا کسی کارروائی کے لیے روانہ ہوں، ان کے جسم پر باڈی کیم نصب ہوگا۔ یہ کیمرے ہر لمحہ ریکارڈنگ کریں گے، تاکہ بعد میں کسی بھی شکایت کی صورت میں حقیقت کو جانچا جا سکے۔ اگر کسی شہری نے پولیس اہلکار کے خلاف بدسلوکی یا ناجائز رویے کی شکایت کی، تو ریکارڈنگ کے ذریعے واضح ہو جائے گا کہ غلطی کس کی تھی۔ اس سے پولیس اہلکاروں کے رویے میں بہتری آئے گی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ یہ نظام عام طور پر مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے، اور اب پنجاب میں بھی اس کی عملی شکل نظر آئے گی۔

پنجاب حکومت پولیس خدمت مراکز کو مزید بہتر بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ ان مراکز سے سالانہ کروڑوں افراد فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ یہاں شہریوں کے کام بغیر سفارش اور رشوت کے انجام دیے جاتے ہیں۔ صرف ٹوکن لے کر چند منٹوں میں شناختی دستاویزات، کلیئرنس یا دیگر ضروری امور مکمل ہو جاتے ہیں۔ اب ان مراکز کی سہولیات کو مزید جدید بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کم وقت میں بہتر خدمات حاصل کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم سہولت یہ بھی متعارف کروائی جا رہی ہے کہ اگر کسی شہری کا شناختی کارڈ، موبائل فون یا کوئی اور اہم چیز گم ہو جائے، تو اسے رپورٹ درج کروانے کے لیے تھانے یا خدمت مرکز جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب یہ گمشدگی رپورٹ گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے بھی درج کی جا سکے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر بزرگوں، خواتین اور دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔

ایف آئی آر، ریڈز اور دیگر قانونی کارروائیوں کے نظام میں بھی تبدیلیاں زیرِ غور ہیں۔ چونکہ یہ ایک صدیوں پرانا نظام ہے، اس لیے اسے یکدم تبدیل کرنا آسان نہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ مرحلہ وار اصلاحات کی جائیں گی تاکہ نظام زیادہ شفاف، تیز اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ جو برسوں سے سامنے آتا رہا ہے، وہ تفتیشی فنڈز کی کمی ہے۔ ماضی میں پولیس افسران اکثر شکایت کرتے تھے کہ انہیں تفتیش کے لیے مناسب فنڈز نہیں ملتے، جس کی وجہ سے تحقیقات متاثر ہوتی ہیں۔ اب پنجاب حکومت نے اس معاملے پر سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ جو بھی تفتیشی افسر کیس پر کام کرے گا، اسے بروقت فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکے اور تفتیش کسی دباؤ کے بغیر مکمل ہو۔

سب سے نمایاں اور علامتی تبدیلی پولیس کے رویے سے متعلق ہے۔ اب تھانوں اور فیلڈ میں کسی بھی پولیس اہلکار کو عام شہری کو غیر مناسب القابات سے پکارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہر شہری کو احترام کے ساتھ “جناب صاحب” کہہ کر مخاطب کیا جائے گا۔ یہ ایک چھوٹی سی بات لگتی ہے، مگر اس کا اثر بہت گہرا ہوگا، کیونکہ عزت اور احترام ہی کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ تمام فیصلے اس بات کی علامت ہیں کہ پنجاب حکومت پولیس نظام کو عوام دوست بنانے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔ اگر ان احکامات پر صحیح معنوں میں عملدرآمد ہو گیا تو یہ نہ صرف تھانہ کلچر کو بدل دے گا بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا بھی قائم کرے گا۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.