جب مشین نے اعصاب سے بات کرنا سیکھ لیا | مصنوعی نیورونز کا حیران کن انقلاب


سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا جا چکا ہے جو چند دہائیاں پہلے محض سائنس فکشن سمجھا جاتا تھا۔ انجینئرز اور محققین نے پہلی بار ایسے مصنوعی نیورونز تیار کر لیے ہیں جو براہِ راست زندہ حیاتیاتی خلیات سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ یہ مصنوعی نیورونز نہ صرف برقی سگنلز بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انہیں وصول بھی کر سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسانی اعصابی نظام میں موجود اصل نیورونز آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

عام طور پر انسانی دماغ اور اعصابی نظام اربوں نیورونز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر نیورون ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے جڑا ہوتا ہے۔ یہی سگنلز ہمارے سوچنے، محسوس کرنے، حرکت کرنے اور یاد رکھنے کے عمل کو ممکن بناتے ہیں۔ اب تک سائنس دان دماغی سرگرمی کو سمجھنے کے لیے مختلف الیکٹرانک آلات استعمال کرتے رہے ہیں، مگر ان آلات اور حیاتیاتی خلیات کے درمیان ایک واضح فاصلہ موجود تھا۔ مصنوعی نیورونز کی یہ نئی ایجاد اسی فاصلے کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

یہ مصنوعی نیورونز خاص مواد اور جدید مائیکرو ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا ڈیزائن اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ حقیقی نیورونز کی طرح برقی محرکات پر ردِعمل ظاہر کر سکیں۔ جب کوئی زندہ خلیہ برقی سگنل بھیجتا ہے تو مصنوعی نیورون اسے پہچان لیتا ہے، اور اسی کے جواب میں خود بھی سگنل پیدا کرتا ہے۔ اس دو طرفہ رابطے نے پہلی بار یہ ثابت کیا ہے کہ مشین اور جاندار خلیہ ایک ہی “زبان” میں بات کر سکتے ہیں۔

اس پیش رفت کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ افراد جو کسی حادثے یا بیماری کے باعث اپنے اعصاب کو نقصان پہنچا بیٹھے ہیں، مستقبل میں ایسے مصنوعی نیورونز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ نیورونز خراب یا ناکارہ اعصابی حصوں کی جگہ لے کر دماغ اور جسم کے درمیان رابطہ بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یوں فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ یا دیگر اعصابی مسائل کے شکار مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح مصنوعی اعضا، یعنی پروستھیٹکس، کے شعبے میں بھی یہ ایجاد انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔ آج کل مصنوعی ہاتھ یا ٹانگ حرکت تو کر سکتے ہیں، مگر ان میں احساس کی کمی ہوتی ہے۔ اگر مصنوعی نیورونز کو براہِ راست اعصابی نظام سے جوڑ دیا جائے تو ممکن ہے کہ مریض نہ صرف حرکت کر سکے بلکہ چھونے، دباؤ یا درجہ حرارت کا احساس بھی واپس حاصل کر لے۔ یہ انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔

برین–مشین انٹرفیس، یعنی دماغ اور مشین کے درمیان براہِ راست رابطے کا تصور، پہلے ہی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مصنوعی نیورونز اس تصور کو مزید حقیقت کے قریب لے آتے ہیں۔ مستقبل میں انسان صرف اپنے خیالات کے ذریعے کمپیوٹر، وہیل چیئر یا دیگر آلات کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو بولنے یا حرکت کرنے سے معذور ہیں۔

اس ایجاد نے بایو الیکٹرانکس کے نام سے ایک نئے میدان کو بھی وسعت دی ہے۔ بایو الیکٹرانکس دراصل حیاتیات اور الیکٹرانکس کے ملاپ کو کہا جاتا ہے، جہاں مشینی نظام جاندار خلیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ مصنوعی نیورونز اس شعبے کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں اور آنے والے برسوں میں مزید پیچیدہ اور ذہین نظاموں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ اخلاقی اور سماجی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ جب مشین اور انسان کے درمیان حدیں دھندلانے لگیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ انسان ہونے کی تعریف کیا رہ جائے گی؟ کیا دماغ میں مصنوعی نیورونز لگوانا شناخت یا شعور پر اثر ڈال سکتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سوالات پر تحقیق کے ساتھ ساتھ سنجیدہ مکالمہ بھی ضروری ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال انسانیت کے فائدے کے لیے ہو۔

مختصر یہ کہ مصنوعی نیورونز کی تخلیق سائنس کی تاریخ میں ایک غیر معمولی قدم ہے۔ یہ ایجاد نہ صرف انسانی جسم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ بیماریوں کے علاج، معذوری کے خاتمے اور انسان و مشین کے تعلق کی نئی تعریف بھی پیش کر سکتی ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ ٹیکنالوجی کس حد تک ہماری زندگیوں کو بدلتی ہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ حیاتیات اور مشین کے درمیان فاصلہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.