بغیر پائلٹ کے خود لینڈ ہونے والا فائٹر جیٹ: ہوا بازی کا ناقابلِ یقین معجزہ


ہوابازی کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو سننے میں افسانہ لگتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ پوری تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ 2 فروری 1970 کا دن بھی ایسا ہی تھا۔ سردیوں کی ایک صاف مگر یخ بستہ صبح، امریکا کی ریاست مونٹانا کے اوپر ایک تربیتی مشق جاری تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند منٹ بعد ایک ایسا واقعہ پیش آنے والا ہے جو دہائیوں تک زیر بحث رہے گا۔

اس روز امریکی فضائیہ کے ایک نوجوان پائلٹ Gary Foust اپنے سپرسونک انٹرسیپٹر جیٹ Convair F-106 Delta Dart اڑا رہے تھے۔ یہ طیارہ عام جہاز نہیں تھا۔ یہ سرد جنگ کے دور کا ایک تیز رفتار ہتھیار تھا، جو دشمن بمبار طیاروں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ آواز کی رفتار سے دوگنا تیز، یعنی میک 2 تک جا سکتا تھا، اور پچاس ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز کر سکتا تھا۔

اسکواڈرن کی بیس تھی Malmstrom Air Force Base، جو مونٹانا کے برفیلے میدانوں کے قریب واقع ہے۔ یہاں کے پائلٹس روزانہ سخت مشقیں کرتے تاکہ اگر کبھی سوویت حملہ ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔ اس دن بھی تین جیٹ طیارے فضا میں ایک ڈاگ فائٹ ٹریننگ کر رہے تھے۔ ایک پائلٹ مخالف کا کردار ادا کر رہا تھا اور باقی دو اس کا تعاقب کر رہے تھے۔

چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر تیز رفتار موڑ اور رولنگ منیوورز جاری تھے۔ ایسے منیوورز میں جی فورس بہت زیادہ ہوتی ہے اور ذرا سی غلطی جہاز کو بے قابو کر سکتی ہے۔ اسی دوران گیری فاؤسٹ کا جیٹ اچانک غیر مستحکم ہو گیا۔ جہاز ایک خطرناک فلیٹ اسپن میں چلا گیا۔ فلیٹ اسپن ایسی حالت ہوتی ہے جس میں طیارہ تقریباً افقی انداز میں گھومتا رہتا ہے اور ناک نیچے نہیں ہوتی، اس لیے اسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

فاؤسٹ نے تربیت کے مطابق اسپن ریکوری کے تمام مراحل آزمائے۔ کنٹرول سرفیسز ایڈجسٹ کیں، ڈریگ چُھوڑا، ٹرم سیٹنگ بدلی، مگر جہاز قابو میں نہ آیا۔ اونچائی تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ جب طیارہ پندرہ ہزار فٹ تک آ گیا تو ان کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا: ایجیکشن۔

انہوں نے ایجیکشن ہینڈل کھینچا اور راکٹ سیٹ نے انہیں لمحوں میں کاک پٹ سے باہر پھینک دیا۔ چند سیکنڈ بعد پیراشوٹ کھل گیا اور وہ برفیلے میدانوں کی طرف آہستہ آہستہ اترنے لگے۔ عام طور پر ایسی صورت میں طیارہ زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو جاتا ہے۔ مگر یہاں کہانی نے غیر متوقع موڑ لیا۔

جیسے ہی پائلٹ باہر نکلے، جہاز کا وزن کم ہوا اور اس کا سینٹر آف گریوٹی بدل گیا۔ ایجیکشن کے جھٹکے نے جہاز کی ناک کو نیچے کی طرف دھکیلا۔ اسی وقت پہلے سے سیٹ کی گئی ٹرم پوزیشن نے طیارے کو مستحکم کرنا شروع کر دیا۔ فلیٹ اسپن ٹوٹ گیا اور جیٹ سیدھی پرواز میں آ گیا۔ اب وہ بغیر پائلٹ کے خود بخود آگے بڑھ رہا تھا۔

رفتار تقریباً 175 ناٹس رہ گئی، جو لینڈنگ اپروچ جیسی ہوتی ہے۔ انجن ابھی بھی چل رہا تھا، مگر تھروٹل کم سطح پر تھا۔ طیارہ آہستہ آہستہ نیچے آیا اور مونٹانا کے قصبے بگ سینڈی کے قریب ایک برف سے ڈھکے کھیت کی طرف بڑھنے لگا۔ یہ کھیت ایک کسان کی ملکیت تھا، جس کا نام ایل ہاک بتایا جاتا ہے۔

جیٹ نے لینڈنگ گیئر نہیں کھولا، بلکہ پیٹ کے بل برف پر پھسلتا ہوا اترا۔ زمین کے قریب آنے پر گراؤنڈ ایفیکٹ نے نزول کی رفتار کم کر دی، اور حیرت انگیز طور پر جہاز نرم انداز میں رک گیا۔ نقصان نہ ہونے کے برابر تھا۔ انجن کچھ دیر تک چلتا رہا اور پھر ایندھن ختم ہونے پر بند ہو گیا۔

مقامی شیرف اور لوگ وہاں پہنچے تو حیران رہ گئے۔ ایک جدید جنگی طیارہ، بغیر پائلٹ کے، ان کے کھیت میں تقریباً صحیح سلامت کھڑا تھا۔ بیس سے رابطہ کیا گیا اور ہدایات ملیں کہ انجن کو خود بخود بند ہونے دیا جائے۔ بعد میں ریکوری ٹیم آئی، جہاز کے پر اتارے گئے اور اسے ٹرک کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

تحقیقات میں یہی نتیجہ نکلا کہ ایجیکشن کے بعد وزن کی تبدیلی اور ٹرم سیٹنگ نے مل کر جہاز کو مستحکم کر دیا۔ یہ محض خوش قسمتی نہیں تھی بلکہ ایروڈائنامکس اور فزکس کا غیر معمولی امتزاج تھا۔ تاہم بہت سے ماہرین آج بھی اسے ایک غیر معمولی واقعہ مانتے ہیں جس کی مکمل تفصیل سمجھنا آسان نہیں۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی طیارہ بعد میں مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں آیا۔ برسوں بعد جب فاؤسٹ کیریئر میں ترقی کر چکے تھے تو انہوں نے اسی جیٹ کو دوبارہ اڑایا۔ یہ لمحہ یقیناً ان کے لیے خاص ہوگا۔

بالآخر 1986 میں یہ طیارہ ریٹائر کر دیا گیا اور آج یہ National Museum of the United States Air Force میں نمائش کے لیے موجود ہے۔ اس کے نچلے حصے پر وہ خراشیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو اس غیر معمولی لینڈنگ کی یادگار ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات مشینیں بھی غیر متوقع طور پر ایسے فیصلے کر جاتی ہیں جو انسان کی سوچ سے باہر ہوتے ہیں۔ آج کے ڈرون اور خودکار نظاموں کے دور میں یہ قصہ اور بھی معنی خیز لگتا ہے۔ کبھی کبھی حالات خود کو سنبھال لیتے ہیں، بشرطیکہ فزکس اور قسمت ایک ہی صفحے پر آ جائیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.