امریکہ کی ایک عدالت نے ایک ایسے شخص کے حق میں بیس ملین ڈالر سے زیادہ ہرجانہ دینے کا فیصلہ سنایا جسے کبھی نظام نے زندہ ہوتے ہوئے بھی فراموش کر دیا تھا۔ بھارتی کرنسی میں یہ رقم تقریباً ایک ارب اسی کروڑ روپے بنتی ہے۔ رقم بڑی ہے، فیصلہ تاریخی ہے، مگر سوال وہی رہتا ہے: کیا پیسہ کھویا ہوا وقت واپس لا سکتا ہے؟ کیا وہ ذہنی زخم بھر سکتا ہے جو تنہائی نے برسوں میں دیے ہوں؟ اور کیا انصاف ہمیشہ وقت پر ملتا ہے، یا کبھی کبھی بہت دیر سے؟
یہ کہانی اس شخص کی ہے جس کا نام ہے Steven Slevin۔ سن 2005 میں وہ ایک عام آدمی تھے۔ عمر تقریباً ستاون برس۔ زندگی میں کچھ مسائل ضرور تھے، ذہنی دباؤ بھی تھا، مگر وہ کوئی خطرناک مجرم نہیں تھے۔ ایک دن نیو میکسیکو کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے پولیس نے انہیں روکا۔ الزام تھا کہ وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے ہیں اور جس گاڑی میں تھے وہ ممکنہ طور پر چوری کی رپورٹ میں درج ہے۔ انہوں نے وضاحت دینے کی کوشش کی، مگر بات نہ سنی گئی۔ انہیں گرفتار کر کے Doña Ana County Detention Center منتقل کر دیا گیا۔
عام طور پر ایسے کیس میں اگلے دن عدالت میں پیشی ہوتی ہے۔ ضمانت یا تاریخ ملتی ہے اور قانونی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ سلیون بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔ مگر وہ “اگلا دن” کبھی نہیں آیا۔ جیل پہنچنے کے بعد ابتدائی معائنہ ہوا۔ عملے نے نوٹ کیا کہ وہ اداس اور خاموش ہیں۔ مناسب طبی مدد دینے کے بجائے انہیں تنہائی کی قید میں ڈال دیا گیا، جسے انتظامی علیحدگی کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا سیل، کنکریٹ کی دیواریں، ایک لوہے کا بیت الخلا، ایک پتلا گدا، اور باہر کی دنیا سے مکمل کٹاؤ۔
شروع میں انہیں یقین تھا کہ کوئی غلطی ہوئی ہے جو جلد درست ہو جائے گی۔ وہ دروازے کی آواز سن کر چونک جاتے، سوچتے شاید وکیل آیا ہو، شاید پیشی ہو۔ مگر ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ انہوں نے کاغذ کے پرچوں پر درخواستیں لکھیں: ڈاکٹر چاہیے، وکیل سے بات کرنی ہے، عدالت کی تاریخ بتائیں۔ جواب نہ آیا۔ یوں لگا جیسے ریکارڈ سے ان کا نام غائب ہو گیا ہو۔
تنہائی انسان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ چند ہفتوں میں ہی وہ وقت کا اندازہ کھونے لگے۔ دن اور رات میں فرق مٹنے لگا۔ انہیں باقاعدگی سے نہانے کی سہولت بھی نہیں ملتی تھی۔ صفائی نہ ہونے سے جلد پر فنگس پھیلنے لگا۔ جسم کمزور ہوتا گیا۔ ایک دن شدید دانت درد شروع ہوا۔ مدد نہ ملی تو انہوں نے مایوسی میں خود اپنا خراب دانت نکال دیا۔ یہ عمل کسی فلمی منظر کی طرح نہیں، بلکہ ایک زندہ انسان کی انتہا درجے کی بے بسی تھی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ طویل تنہائی فریبِ نظر اور آوازیں سننے جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ سلیون کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ دیواروں سے باتیں کرنے لگے۔ وزن تیزی سے کم ہوا۔ داڑھی بے ترتیب بڑھتی گئی۔ باہر دنیا بدلتی رہی، مگر ان کے لیے ہر دن ایک جیسا تھا۔ کل ملا کر بائیس ماہ، یعنی تقریباً چھ سو ستر دن، وہ اسی سیل میں رہے۔
جون 2007 میں اچانک دروازہ کھلا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ رہا کیے جا رہے ہیں۔ کوئی باقاعدہ مقدمہ نہیں چلا، الزامات خارج کر دیے گئے۔ دراصل ان کی جسمانی اور ذہنی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ عدالت نے مقدمہ آگے بڑھانے کے بجائے رہائی کو بہتر سمجھا۔ وہ جیل سے نکلے تو جسم کمزور، ذہن ٹوٹا ہوا اور جیب خالی تھی۔
رہائی کے بعد بھی مسائل ختم نہ ہوئے۔ انہیں ہجوم سے خوف آنے لگا۔ رات کو روشنی بند کر کے سونا مشکل تھا۔ بعد از صدمے کی کیفیت نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اسی دوران ان کی ملاقات ایک شہری حقوق کے وکیل سے ہوئی، جس نے کیس اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ مقدمہ آسان نہ تھا۔ جیل انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مناسب دیکھ بھال کی، بلکہ انہیں خودکشی سے بچانے کے لیے الگ رکھا۔ مگر ریکارڈ اور تصاویر کچھ اور کہانی سنا رہی تھیں۔
عدالت میں وہ تصاویر پیش کی گئیں جن میں ایک صحت مند شخص آہستہ آہستہ ٹوٹ کر بکھرتا نظر آتا تھا۔ درخواستوں کے فارم بھی سامنے آئے جن پر عملے کے دستخط تھے مگر کارروائی نہ تھی۔ جیوری نے زیادہ دیر نہ لگائی۔ فیصلہ سلیون کے حق میں آیا اور لاکھوں ڈالر ہرجانہ مقرر ہوا، جو بعد میں کچھ کم کر دیا گیا مگر پھر بھی بہت بڑی رقم تھی۔
یہ فیصلہ صرف ایک شخص کی جیت نہیں تھا۔ اس کے بعد جیل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ذہنی صحت کے جائزے کے بغیر طویل تنہائی ممکن نہ رہی۔ سلیون مکمل طور پر پہلے جیسے نہ ہو سکے، مگر ان کی جدوجہد نے دوسروں کے لیے راستہ بدلا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نظام کبھی کبھی غلطی کرتا ہے، اور جب کرتا ہے تو اس کی قیمت انسان اپنی زندگی سے چکاتا ہے۔ انصاف مل بھی جائے تو کھویا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ مگر سچ سامنے آ جائے تو کم از کم آئندہ کسی اور کے ساتھ وہی ظلم دہرانا مشکل ہو جاتا ہے۔
