10 ہزار فٹ کی بلندی سے گر کر زندہ بچنے والی لڑکی: ایمیزون کے جنگل میں 11 دن کی جنگ


اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں جہاز کے اندر نہیں ہوں۔ میں ہوا میں معلق تھی، لیکن اب بھی اپنی سیٹ سے بندھی ہوئی۔ ایسا نہیں تھا کہ میں جہاز سے گر گئی تھی، بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے جہاز مجھے چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ہو۔ چاروں طرف بادل تھے، تیز ہوا تھی، اور میں اپنی نشست سمیت آسمان میں گھوم رہی تھی۔ پھر نیچے کی طرف تیزی سے گرنے لگی۔ اس لمحے مجھے پورا اندازہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

24 دسمبر 1971 کی دوپہر، پیرو کے اوپر پھیلے گھنے جنگلات کے آسمان میں ایک مسافر طیارہ شدید طوفان میں پھنس چکا تھا۔ یہ فلائٹ LANSA کی 508 تھی۔ جہاز میں 91 افراد سوار تھے، جن میں خاندان، بچے اور وہ لوگ شامل تھے جو کرسمس اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنے جا رہے تھے۔ اچانک آسمان سے بجلی گری اور جہاز کے فیول ٹینک سے ٹکرا گئی۔ چند لمحوں میں طیارہ فضا ہی میں ٹکڑوں میں بکھر گیا۔

ان بکھرتے ملبوں کے درمیان ایک سیٹ بادلوں کے بیچ گھومتی ہوئی نیچے آ رہی تھی، اور اس سے بندھی تھی سترہ سالہ لڑکی Juliane Koepcke۔ تقریباً دس ہزار فٹ، یعنی لگ بھگ تین کلومیٹر کی بلندی سے بغیر پیراشوٹ کے گرنا۔ سائنسی اعتبار سے ایسی بلندی سے زندہ بچنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر وہ زندہ بچ گئی۔ اصل آزمائش اس وقت شروع ہوئی جب وہ زمین پر گری۔

جب اسے ہوش آیا تو وہ گھنے جنگل کی زمین پر پڑی تھی۔ اس کی آنکھ کے گرد شدید سوجن تھی، کالر بون ٹوٹ چکی تھی، جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ جڑی تین نشستوں کی قطار بکھر چکی تھی۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا، جو اسی پرواز میں اس کے ساتھ تھیں، مگر جواب میں صرف جنگل کی آوازیں سنائی دیں۔ نمی، کیڑوں کی بھنبھناہٹ اور دور کہیں پرندوں کی چیخیں۔

یہ جنگل کوئی عام جگہ نہیں تھی۔ یہ تھا Amazon rainforest، جسے بعض لوگ گرین ہیل بھی کہتے ہیں۔ یہاں نمی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کپڑے اور زخم کبھی خشک نہیں ہوتے۔ زہریلے سانپ، خطرناک حشرات اور درندے ہر سمت موجود ہوتے ہیں۔ مگر جولیانے عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کے والدین، Hans-Wilhelm Koepcke اور Maria Koepcke، دونوں ماہر حیاتیات تھے اور برسوں سے ایمیزون میں تحقیق کر رہے تھے۔ اس کا بچپن جنگل کے بیچ گزرا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر کبھی راستہ بھول جاؤ تو پانی تلاش کرو، کیونکہ چھوٹا نالہ بڑی ندی تک لے جاتا ہے اور بڑی ندی انسانوں تک۔

اس کے پاس کھانے کے نام پر صرف ایک چھوٹا سا کینڈی پیکٹ تھا۔ وہ چاہتی تو کسی جگہ بیٹھ کر مدد کا انتظار کرتی، مگر اس نے چلنے کا فیصلہ کیا۔ زخمی حالت، دھندلی نظر اور شدید کمزوری کے باوجود وہ ایک چھوٹے بہتے پانی کے راستے کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ گرمی اور بارش کے باعث زخموں میں انفیکشن بڑھ رہا تھا۔ ایک دن اس نے گدھوں کی آواز سنی اور اس سمت گئی تو جہاز کے مزید ٹکڑے اور لاشیں دیکھیں۔ تب اسے احساس ہوا کہ شاید اس کی ماں زندہ نہیں بچیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بلندی سے گر کر وہ بچی کیسے؟ اس کے پیچھے چند سائنسی عوامل تھے۔ پہلی بات، جس سیٹ سے وہ بندھی تھی وہ ہوا میں گھومتی ہوئی نیچے آئی، جس سے رفتار کچھ کم ہوئی۔ دوسرا، طوفان کے نیچے اوپر کی سمت اٹھتی ہوئی ہوا نے گرنے کی رفتار کو جزوی طور پر روکا۔ تیسرا، وہ سیدھا سخت زمین پر نہیں گری بلکہ پہلے درختوں کی گھنی چھتری سے ٹکرائی، پھر بیلوں اور شاخوں سے ہوتی ہوئی نیچے پہنچی۔ یوں فطرت نے اس کے گرنے کو آہستہ کر دیا۔

جنگل میں سب سے بڑا خطرہ اس کے زخم تھے۔ نمی کے باعث ان میں کیڑے پڑ چکے تھے۔ گیارہویں دن وہ ایک دریا کے کنارے پہنچی جہاں اسے ایک کشتی اور ایک جھونپڑی نظر آئی۔ اندر پٹرول کا ڈبہ رکھا تھا۔ اس نے ہمت کر کے پٹرول اپنے زخموں پر ڈالا تاکہ کیڑے نکل جائیں۔ درد ناقابل برداشت تھا، مگر اسی عمل نے انفیکشن کم کیا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے درجنوں کیڑے نکالے اور بے ہوش ہو گئی۔

اگلے دن تین مقامی لکڑہارے وہاں پہنچے۔ پہلے وہ اسے دیکھ کر گھبرا گئے، مگر جب اس نے ہسپانوی زبان میں بتایا کہ وہ ہوائی حادثے کی زندہ بچ جانے والی مسافر ہے تو انہوں نے فوراً مدد کی۔ گیارہ دن بعد وہ محفوظ تھی۔

اس حادثے کا ایک کڑوا پہلو یہ بھی تھا کہ کچھ اور مسافر ابتدائی جھٹکے سے بچ گئے تھے، مگر وہ ایک جگہ بیٹھے مدد کا انتظار کرتے رہے۔ جنگل میں انتظار اکثر موت کا دوسرا نام ہے۔ جولیانے نے حرکت کی، اور اسی حرکت نے اسے زندگی دی۔

بعد میں وہ جرمنی منتقل ہو گئیں اور اپنے والدین کی طرح حیاتیات کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ جس جنگل نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا، وہ آج اسی ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوف فطری ہے، مگر فیصلہ کن لمحوں میں سوچ اور عمل زندگی بچا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا بہتا پانی ہمیں امید کی بڑی ندی تک پہنچا دیتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.