مکڑی کے جال کا راز: فولاد سے مضبوط اور ربڑ سے زیادہ لچکدار ٹیکنالوجی


قدرت کے بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہوتے ہیں، مگر ہم ان کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتے۔ مکڑی کا جالا بھی ایسا ہی ایک معجزہ ہے۔ بظاہر یہ باریک اور کمزور دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اپنی جسامت کے لحاظ سے فولاد سے زیادہ مضبوط اور ربڑ کی طرح لچکدار ہوتا ہے۔ برسوں سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر اس ریشم میں ایسی کون سی خاص بات ہے جو اسے اتنا غیر معمولی بناتی ہے۔ اب جا کر اس راز کی ایک اہم کڑی سامنے آئی ہے۔

حالیہ سائنسی تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا کہ مکڑی کے ریشم کے اندر نہایت چھوٹے پیمانے پر ایک خاص قسم کا سالماتی بند موجود ہوتا ہے، جسے سادہ الفاظ میں “قربانی دینے والا بند” کہا جا سکتا ہے۔ یہ بند عام حالات میں مضبوطی سے جڑا رہتا ہے، مگر جب اس پر اچانک دباؤ یا جھٹکا پڑتا ہے تو یہ سب سے پہلے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس ٹوٹنے کا مقصد کمزوری نہیں بلکہ توانائی کو جذب کرنا ہوتا ہے۔

ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی کیڑا تیزی سے اڑتا ہوا جال سے ٹکرا جائے تو پوری قوت ایک ہی لمحے میں ریشم پر پڑتی ہے۔ اگر ریشم سخت مگر بے لچک ہوتا تو وہ فوراً ٹوٹ جاتا۔ لیکن مکڑی کے ریشم میں موجود یہ سالماتی بند جھٹکے کی توانائی کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ وہ ٹوٹ کر اس زور کو پھیلا دیتا ہے، جس سے باقی ڈھانچہ محفوظ رہتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دباؤ ختم ہونے کے بعد یہ بند دوبارہ جڑ بھی سکتا ہے، گویا خود کو مرمت کر لیتا ہو۔

اسی خصوصیت کی وجہ سے مکڑی کا ریشم نہ صرف مضبوط بلکہ انتہائی لچکدار بھی ہے۔ یہ کھنچتا ہے، دباؤ برداشت کرتا ہے، اور پھر اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ اس میں سختی اور نرمی کا ایسا توازن ہے جو انسان نے مصنوعی طور پر بہت کم مواد میں حاصل کیا ہے۔

جب سائنس دانوں نے اس سالماتی نظام کو تفصیل سے سمجھا تو انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔ اگر ایک باریک سا جالا اتنی ذہانت سے اپنی حفاظت کر سکتا ہے تو کیوں نہ ہم بھی اسی اصول کو اپنی مصنوعات میں شامل کریں؟ چنانچہ ماہرین نے اس تصور کو استعمال کرتے ہوئے گاڑیوں کے چیسز، یعنی بنیادی ڈھانچے، کو زیادہ محفوظ بنانے پر کام شروع کر دیا ہے۔

روایتی طور پر گاڑیوں کو مضبوط بنانے کے لیے سخت دھاتیں استعمال کی جاتی ہیں، تاکہ حادثے کی صورت میں گاڑی کا ڈھانچہ محفوظ رہے۔ مگر سختی کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ دباؤ میں وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ مکڑی کے ریشم سے متاثر ہو کر انجینئر ایسے مواد تیار کر رہے ہیں جن میں “قربانی دینے والے بند” جیسا نظام ہو۔ یعنی تصادم کی صورت میں کچھ سالماتی حصے ٹوٹ کر جھٹکے کی توانائی کو جذب کریں، جبکہ باقی ڈھانچہ محفوظ رہے۔

اس طرح کی ٹیکنالوجی کا مقصد گاڑی کو ناقابلِ تباہی بنانا نہیں بلکہ مسافروں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اگر توانائی کو مؤثر طریقے سے تقسیم اور جذب کیا جائے تو حادثے کے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ یہی اصول مستقبل میں ہوائی جہازوں، حفاظتی لباس اور دیگر صنعتی مصنوعات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ دریافت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قدرت خود ایک بہترین انجینئر ہے۔ لاکھوں سال کے ارتقائی عمل نے مکڑی کے ریشم کو اس حد تک بہتر بنا دیا ہے کہ وہ بیک وقت مضبوط، ہلکا اور لچکدار ہے۔ انسان جب قدرتی نظاموں کا بغور مطالعہ کرتا ہے تو اسے ایسے حل ملتے ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور لگتے تھے۔

تحقیق شائع ہونے کے بعد ماہرین مواد کی سائنس کے شعبے میں اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ یہ صرف ایک حیاتیاتی راز کی دریافت نہیں بلکہ صنعتی ڈیزائن کے لیے ایک نیا راستہ ہے۔ جب ہم سالماتی سطح پر مادے کے رویے کو سمجھ لیتے ہیں تو ہم اپنی ضروریات کے مطابق اسے ڈھال بھی سکتے ہیں۔

آخرکار مکڑی کے اس باریک جال نے ہمیں ایک بڑی بات سکھائی ہے۔ طاقت کا مطلب صرف سختی نہیں ہوتا، اور لچک کمزوری کی علامت نہیں۔ اصل طاقت اس توازن میں ہے جہاں جھٹکا جذب بھی ہو اور ساخت برقرار بھی رہے۔ یہی راز اب لیبارٹریوں سے نکل کر کارخانوں اور سڑکوں تک پہنچ رہا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.