ورلڈ کپ 2026: میکسیکو میں سیکیورٹی کے لیے روبوٹک کتے میدان میں


2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے دوران میکسیکو کے کچھ علاقوں میں سیکیورٹی کے لیے روبوٹک کتوں کی مدد لی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ جدید مشینیں میزبان شہروں کے اطراف گشت کریں گی اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی ابتدائی نشاندہی میں پولیس کا ساتھ دیں گی۔ خاص طور پر Guadalupe کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ چار چار ٹانگوں والے روبوٹ Monterrey کے میٹروپولیٹن علاقے میں تعینات کیے جائیں گے۔

یہ قدم آئندہ FIFA World Cup کی تیاریوں کا حصہ ہے، جس میں دنیا بھر سے شائقین میکسیکو آئیں گے۔ بڑے عالمی ایونٹس میں سیکیورٹی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہتا ہے، اسی لیے مقامی انتظامیہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا رہی ہے تاکہ انسانی اہلکاروں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

یہ روبوٹک یونٹس ایسے مقامات تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے جانا خطرناک یا مشکل ہو۔ تنگ گلیاں، مشکوک عمارتیں یا وہ جگہیں جہاں کسی خطرے کا اندیشہ ہو، وہاں یہ پہلے داخل ہو کر صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ان میں نصب کیمرے براہِ راست ویڈیو پولیس کنٹرول روم تک پہنچاتے ہیں، جس سے افسران فوری فیصلہ کر سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روبوٹ صرف نگرانی تک محدود نہیں۔ ضرورت پڑنے پر یہ مشتبہ افراد کو آواز کے ذریعے ہدایات بھی دے سکتے ہیں، جیسے ہاتھ اوپر کرنے یا زمین پر بیٹھنے کا حکم۔ اس سے پولیس اہلکار محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے کارروائی کر سکتے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان روبوٹس کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہوگا۔ ان کا مقصد صرف نگرانی اور خطرات کو کم کرنا ہے، نہ کہ براہِ راست طاقت کا استعمال۔

شہر کی انتظامیہ نے ان روبوٹک کتوں کی خریداری پر تقریباً 2.5 ملین پیسوس خرچ کیے، جو امریکی ڈالر میں لگ بھگ 145 ہزار بنتے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم معمولی نہیں، مگر حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے ایونٹ میں شہریوں اور سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی سے ایک بھی بڑا حادثہ ٹل جائے تو سرمایہ کاری سودمند ثابت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید روبوٹکس کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ امریکہ، ایشیا اور یورپ کے کئی شہروں میں ایسے روبوٹ پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ میکسیکو کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لاطینی امریکہ بھی سیکیورٹی کے میدان میں نئی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تاہم کچھ حلقوں کی جانب سے رازداری اور نگرانی کے دائرہ کار پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ شہری آزادیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ شفاف پالیسی اور واضح حدود بھی ضروری ہیں تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

مجموعی طور پر یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں کے بڑے مقابلے اب صرف میدان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کی تیاری میں جدید ترین ٹیکنالوجی بھی شامل ہوتی ہے۔ روبوٹک کتے شاید مستقبل کی پولیسنگ کی ایک جھلک ہوں، جہاں انسان اور مشین مل کر کام کریں گے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.