جرمنی کے ایک نوجوان اور باحوصلہ اسٹارٹ اپ نے ایک ایسی ایجاد متعارف کروائی ہے جو بظاہر سادہ لیکن اثر کے لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ یہ ایجاد ایک ایسا بیگ ہے جو ضرورت پڑنے پر مکمل طور پر ایک محفوظ، گرم اور آرام دہ سونے کے بستر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بے گھر افراد کو صرف ایک عارضی سہولت دینا نہیں بلکہ انہیں وقار، تحفظ اور خودمختاری فراہم کرنا ہے، خاص طور پر سرد اور سخت موسم میں۔
یورپ کے کئی بڑے شہروں میں سردیوں کے دوران بے گھر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پناہ گاہیں ہر کسی کے لیے دستیاب نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہاں جگہ کم پڑ جاتی ہے، اور کئی افراد ذاتی وجوہات کی بنا پر شیلٹرز میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ نیا ڈیزائن ایک عملی حل بن کر سامنے آیا ہے، جو بجلی کے گرڈ یا مستقل رہائش پر انحصار کیے بغیر بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے۔
یہ بیگ عام بیگ کی طرح دکھائی دیتا ہے، جسے کوئی بھی شخص آسانی سے اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی رات کا وقت ہو یا آرام کی ضرورت پیش آئے، یہی بیگ چند سادہ مراحل میں ایک مکمل سلیپنگ بیڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس بستر کو خاص طور پر واٹر پروف بنایا گیا ہے تاکہ بارش، برف یا نمی اندر داخل نہ ہو سکے۔ اس کے اندر تھرمل انسولیشن موجود ہے جو جسم کی حرارت کو محفوظ رکھتی ہے اور سردی کے شدید اثرات سے بچاتی ہے۔
Read This Also
آتش فشاں کے دل میں شارک: وہ دریافت جس نے سائنس کو حیران کر دیا
اس ایجاد کی سب سے نمایاں خوبی اس میں نصب سولر پینلز ہیں۔ دن کے وقت یہ پینلز سورج کی روشنی سے توانائی جمع کرتے ہیں، جو ایک چھوٹے مگر مؤثر بیٹری سسٹم میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ یہی توانائی رات کے وقت ایل ای ڈی لائٹس کو روشن کرتی ہے اور موبائل فون یا دیگر چھوٹے آلات کو چارج کرنے کے کام آتی ہے۔ بے گھر افراد کے لیے فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمرجنسی، روزگار کی تلاش اور سماجی خدمات تک رسائی کا ایک اہم وسیلہ بھی ہوتا ہے۔
ایل ای ڈی لائٹنگ نہ صرف روشنی فراہم کرتی ہے بلکہ تحفظ کا احساس بھی بڑھاتی ہے۔ اندھیرے میں روشنی ہونے سے انسان خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہے، اور آس پاس کے ماحول پر نظر رکھ سکتا ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جو سڑکوں، پارکوں یا کھلی جگہوں پر رات گزارتے ہیں۔
اس بیگ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے بار بار استعمال کیا جا سکے۔ یہ مضبوط مواد سے بنایا گیا ہے، جو آسانی سے خراب نہیں ہوتا اور مختلف موسمی حالات کو برداشت کر سکتا ہے۔ وزن کو بھی متوازن رکھا گیا ہے تاکہ اسے اٹھانا مشکل نہ ہو۔ مقصد یہ ہے کہ استعمال کرنے والا شخص خود کو بوجھ تلے دبا ہوا محسوس نہ کرے بلکہ ایک عملی سہولت حاصل کرے۔
اس منصوبے کے پیچھے کام کرنے والے ڈیزائنرز اور انجینئرز کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر افراد کو صرف ہمدردی کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ انہیں ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں جنہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس بیگ کی شکل و صورت بھی باوقار رکھی گئی ہے، تاکہ استعمال کرنے والا خود کو کمتر محسوس نہ کرے۔
یہ ایجاد ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف سہولت یا منافع نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت بھی ہو سکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر سوچا گیا یہ حل بڑے سماجی مسائل کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ اگر ایسی ایجادات کو حکومتی اور سماجی اداروں کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو بے گھر افراد کی زندگی میں حقیقی اور مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
آخرکار، یہ فولڈ ہونے والا بیگ صرف ایک پراڈکٹ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام کہ تھوڑی سی توجہ، درست نیت اور عملی ڈیزائن کے ذریعے ہم ان لوگوں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ ایجاد اس بات کی زندہ مثال ہے کہ جب ٹیکنالوجی اور انسانیت ایک ساتھ چلیں تو نتائج واقعی معنی خیز ہوتے ہیں۔
.png)