تیز درختوں کی دوڑ: کیا ہمارے جنگلات کمزور ہو رہے ہیں؟


دنیا کے جنگلات خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔ بظاہر سب کچھ ویسا ہی لگتا ہے: درخت کھڑے ہیں، سبزہ موجود ہے، پرندے اڑ رہے ہیں۔ مگر اندر ہی اندر ایک مقابلہ جاری ہے، اور اس دوڑ میں سست رفتار، قدیم درخت پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ حالیہ بڑے سائنسی تجزیے میں تقریباً 31 ہزار درختوں کی اقسام کا جائزہ لیا گیا، جس سے پتا چلا کہ جنگلات تیزی سے بڑھنے والے درختوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

یہ تیز رفتار درخت جلدی اگتے ہیں، کم وقت میں اونچائی حاصل کر لیتے ہیں اور زیادہ روشنی جذب کر لیتے ہیں۔ وہ زمین پر تیزی سے پھیلتے ہیں اور دوسرے پودوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت بات لگ سکتی ہے، کیونکہ زیادہ درخت زیادہ سبزہ دکھاتے ہیں۔ مگر کہانی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

قدیم اور آہستہ بڑھنے والے درخت عام طور پر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ان کی لکڑی گھنی ہوتی ہے، جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ طویل عرصے تک کاربن کو اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم ڈھال بناتی ہے۔ جب ایسے درخت کم ہوتے ہیں اور ان کی جگہ تیز رفتار مگر کمزور درخت لے لیتے ہیں تو جنگل کی مجموعی طاقت متاثر ہوتی ہے۔

تیزی سے بڑھنے والے درخت اکثر کم عمر ہوتے ہیں۔ وہ جلدی جوان ہوتے ہیں، مگر جلدی مر بھی جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کاربن کو زیادہ عرصے تک ذخیرہ نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرنے میں جنگلات کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان طویل مدت میں موسمیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ تبدیلی کیوں ہو رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بارش کے انداز میں تبدیلی، زمین کا استعمال بدلنا اور جنگلات کی کٹائی جیسے عوامل ماحول کو اس انداز میں تبدیل کر رہے ہیں کہ تیز رفتار اقسام کو فائدہ مل رہا ہے۔ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق جلد ڈھل جاتی ہیں، جبکہ قدیم اقسام کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

اس صورتحال کو کچھ ماہرین “جنگل کا جوان ہونا” قرار دیتے ہیں، مگر یہ جوانی کمزوری کے ساتھ آ رہی ہے۔ ایک ایسا جنگل جس میں زیادہ تر درخت کم عمر اور ہلکی لکڑی والے ہوں، وہ طوفانوں، آگ اور بیماریوں کے مقابلے میں کم مزاحمت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، پرانے اور گھنے درخت ایک مستحکم ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں جو پورے ماحولیاتی نظام کو سہارا دیتا ہے۔

قدیم درخت صرف کاربن ذخیرہ نہیں کرتے بلکہ وہ بے شمار جانداروں کا گھر بھی ہوتے ہیں۔ پرندے، کیڑے، فنگس اور دیگر مخلوقات ان کی شاخوں اور تنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ جب ایسے درخت کم ہوتے ہیں تو حیاتیاتی تنوع بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح مسئلہ صرف درختوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا ماحولیاتی نظام اس کا اثر محسوس کرتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ تیز رفتار درخت غیر ضروری ہیں۔ وہ بھی اپنے مقام پر اہم ہیں اور کئی حالات میں زمین کو جلد سبز بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ مگر اگر توازن بگڑ جائے اور زیادہ تر جنگل انہی اقسام پر مشتمل ہو جائے تو استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ قدرتی نظام ہمیشہ تنوع اور توازن پر قائم رہتے ہیں۔

سائنس دان اس رجحان کو ارتقائی عمل کا حصہ قرار دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی ہمارے موجودہ ماحولیاتی چیلنجز کے لیے موزوں ہے؟ اگر ارتقا ایسے درختوں کو ترجیح دے رہا ہے جو جلد بڑھتے ہیں مگر کمزور ہیں، تو ہمیں اپنی جنگلاتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ شجرکاری کے منصوبوں میں صرف رفتار نہیں بلکہ پائیداری کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

آخرکار جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جال ہیں جو زمین کے درجہ حرارت، پانی کے چکر اور ہوا کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر اس جال کی بنیاد کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس خاموش تبدیلی کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے اقدامات کریں جو جنگلات کو متوازن اور مضبوط رکھ سکیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.