کیا روٹی کا خمیر مریخ پر پہلی زندگی بنے گا؟


مریخ کے بارے میں انسان کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں۔ برسوں سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا وہاں کبھی زندگی موجود تھی، یا کیا مستقبل میں ہم وہاں زندگی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ حالیہ تحقیق نے اس بحث میں ایک دلچسپ موڑ ڈال دیا ہے۔ ایک تجربے میں عام بیکری میں استعمال ہونے والا خمیر، جس سے ہم روٹی بناتے ہیں، مریخ جیسے سخت حالات میں نہ صرف زندہ رہا بلکہ اس نے خود کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی اپنا لیا۔

یہ تجربہ مریخ کی فضا اور سطح کی نقل تیار کر کے کیا گیا۔ مریخ پر سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہیں، کیونکہ وہاں اوزون جیسی حفاظتی تہہ موجود نہیں۔ اس کے علاوہ مریخی مٹی میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جو زمین کے جانداروں کے لیے زہریلے ثابت ہو سکتے ہیں۔ محققین نے خمیر کو انہی جیسے حالات میں رکھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

عام توقع یہ تھی کہ خمیر فوراً ختم ہو جائے گا، کیونکہ وہ ایک سادہ سا جاندار ہے جو عموماً معتدل ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہوا۔ خمیر نے اپنے گرد ایک حفاظتی تہہ بنائی اور شدید شعاعوں کے باوجود زندہ رہنے میں کامیاب رہا۔ اس رویے نے سائنس دانوں کو چونکا دیا، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سادہ جاندار توقع سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

خمیر دراصل ایک یک خلوی جاندار ہے جو زمین پر صدیوں سے خوراک کی تیاری میں استعمال ہو رہا ہے۔ مگر اس کی حیاتیاتی صلاحیتیں صرف روٹی اور مشروبات تک محدود نہیں۔ یہ تیزی سے افزائش کر سکتا ہے، کم وسائل میں زندہ رہ سکتا ہے اور سخت حالات کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے خلائی تحقیق کے لیے دلچسپ امیدوار بناتی ہیں۔

مریخ کو انسانوں کے لیے قابلِ رہائش بنانے کا تصور جسے “ٹیرافارمنگ” کہا جاتا ہے، ابھی نظریاتی مرحلے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ کے ماحول کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ وہاں زندگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہو سکیں۔ اگر کوئی ایسا جاندار موجود ہو جو ابتدائی طور پر مریخ کی سخت فضا میں زندہ رہ سکے تو وہ اس عمل کا پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

خمیر کی یہ بقا اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ شاید ہم مستقبل میں ایسے سادہ جانداروں کو مریخ پر بھیج سکیں جو وہاں کی مٹی کے ساتھ تعامل کر کے ماحول میں تبدیلی لائیں۔ مثال کے طور پر وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کسی اور شکل میں تبدیل کریں، یا نامیاتی مرکبات پیدا کریں جو بعد میں پودوں کے لیے بنیاد بن سکیں۔ یہ سب ابھی ابتدائی تصورات ہیں، مگر تحقیق کا دروازہ کھل چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی دوسرے سیارے پر زمینی جاندار بھیجنے سے پہلے سائنسی اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ اگر مریخ پر پہلے سے کسی قسم کی مائیکرو اسکوپک زندگی موجود ہو تو اسے نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے خلائی ایجنسیاں سیاروی تحفظ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرتی ہیں۔

اس تحقیق کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمیں زمین پر موجود سادہ جانداروں کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم انہیں معمولی سمجھتے ہیں، مگر وہ انتہائی حالات میں بھی ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خمیر نے یہ ثابت کیا کہ زندگی کی بقا کا دائرہ ہماری توقع سے کہیں وسیع ہو سکتا ہے۔

آخرکار یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ روٹی کا خمیر واقعی مریخ کی پہلی زندگی بن جائے گا۔ مگر اس تجربے نے ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ شاید مستقبل میں جب انسان مریخ کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو اس سے پہلے وہاں کسی سادہ مائیکروب نے خاموشی سے اپنی موجودگی درج کرا دی ہو۔ زندگی کا آغاز کبھی کبھی انتہائی سادہ شکل میں ہوتا ہے، اور شاید مریخ پر بھی ایسا ہی ہو۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.