چاول کے دانے جتنا روبوٹ: گردے کی پتھری کے علاج میں سائنس کا حیران کن انقلاب

چاول کے دانے جتنا روبوٹ: گردے کی پتھری کے علاج میں سائنس کا حیران کن انقلاب

کینیڈا کے سائنس دانوں نے طب کی دنیا میں ایک ایسا انقلابی قدم اٹھایا ہے جو مستقبل میں گردے کی پتھری کے علاج کا پورا تصور بدل سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کے محققین نے چاول کے دانے جتنا ایک ننھا سا مقناطیسی روبوٹ تیار کیا ہے، جو بغیر کسی آپریشن کے گردے کی پتھری کے علاج میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ایجاد ان لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے جو پتھری کے دردناک اور مہنگے علاج سے گزرتے ہیں۔

یہ ننھا روبوٹ بظاہر سادہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پیچھے جدید سائنس اور انجینئرنگ کا کمال چھپا ہوا ہے۔ محققین کے مطابق یہ روبوٹ نرم ہائیڈروجل سے بنی باریک پٹیوں پر مشتمل ہے، جن کے اندر نہایت چھوٹے مقناطیس نصب کیے گئے ہیں۔ یہی مقناطیس اس روبوٹ کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹر بیرونی مقناطیسی میدانوں کے ذریعے اسے انسانی جسم کے اندر مخصوص راستوں سے گزار سکتے ہیں، یہاں تک کہ یہ سیدھا گردے کی پتھری تک پہنچ جاتا ہے۔

اس طریقۂ علاج کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کے چیرا لگانے یا سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ عام طور پر گردے کی پتھری کے علاج کے لیے یا تو شاک ویو تھراپی استعمال کی جاتی ہے، جس میں تیز لہروں کے ذریعے پتھری توڑی جاتی ہے، یا پھر پیچیدہ سرجری کی جاتی ہے۔ دونوں طریقے تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بعد مریض کو کافی وقت تک آرام کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ ننھا روبوٹ ایک خاموش علاج کی طرح کام کرتا ہے۔

جب یہ مقناطیسی روبوٹ اپنی منزل یعنی پتھری تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں اپنا اصل کام شروع کرتا ہے۔ اس میں یوریئز نامی انزائم موجود ہوتے ہیں، جو پیشاب کی کیمیائی ساخت میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ انزائم پیشاب کے پی ایچ لیول کو بدل دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں یورک ایسڈ سے بنی پتھری آہستہ آہستہ گھلنا شروع ہو جاتی ہے۔ یوں پتھری کو توڑنے کے بجائے اسے قدرتی انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف واٹرلو کے سائنس دانوں نے اس روبوٹ کو ابھی انسانوں پر آزمانے کے بجائے جدید تھری ڈی پرنٹڈ ماڈلز میں ٹیسٹ کیا ہے۔ یہ ماڈلز انسانی پیشاب کی نالی کی ساخت سے مشابہ بنائے گئے تھے تاکہ نتائج زیادہ حقیقت کے قریب ہوں۔ تجربات کے دوران دیکھا گیا کہ صرف پانچ دن کے اندر اندر پتھری کے سائز میں تقریباً 30 فیصد تک کمی آ گئی۔ یہ نتیجہ ماہرین کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ طریقہ کامیابی سے عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ علاج نہ صرف تیز ہوگا بلکہ کہیں زیادہ محفوظ بھی ثابت ہوگا۔ مریض کو نہ شدید درد سے گزرنا پڑے گا، نہ لمبے عرصے تک اسپتال میں رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ، چونکہ روبوٹ براہِ راست پتھری کو نشانہ بناتا ہے، اس لیے دوا کے پورے جسم پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات بھی کم ہو جائیں گے۔

ایک اور اہم فائدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ طریقہ گردے کی پتھری کے دوبارہ بننے کے امکانات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ عام طور پر منہ کے ذریعے لی جانے والی ادویات پورے جسم میں پھیل جاتی ہیں اور بعض اوقات مطلوبہ جگہ پر مؤثر مقدار میں نہیں پہنچ پاتیں۔ اس کے برعکس، یہ روبوٹ سیدھا مسئلے کی جڑ تک پہنچتا ہے، جس سے علاج زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے اور مریض کی مجموعی صحت بہتر رہ سکتی ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ انجینئرین کے مطابق یہ ایجاد ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس پر مزید تحقیق اور انسانی آزمائشیں ہونا باقی ہیں، تاکہ اس کی مکمل حفاظت اور افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ماہرین پر امید ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی یورولوجی کے شعبے میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔

یہ ننھا سا روبوٹ اس بات کی مثال ہے کہ جدید سائنس کس طرح انسانی تکلیف کو کم کرنے کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب گردے کی پتھری کو ایک ناگزیر اور تکلیف دہ مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب ایسے حل سامنے آ رہے ہیں جو نہ صرف درد کم کرتے ہیں بلکہ علاج کو آسان اور محفوظ بھی بناتے ہیں۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گردے کی پتھری کا علاج کسی بڑی طبی مداخلت کے بجائے ایک سادہ اور ذہین طریقے سے ممکن ہو سکے گا۔ یوں ایک چاول کے دانے جتنا روبوٹ ہزاروں مریضوں کی زندگی میں سکون اور راحت لا سکتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.