پاکٹ شارک: سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ننھا سا راز


2019 میں سمندری حیات کے ماہرین نے شارک کی ایک ایسی قسم کو باضابطہ طور پر متعارف کرایا جس نے سائنسی دنیا کو حیران کر دیا۔ اس نایاب مخلوق کو “پاکٹ شارک” کا نام دیا گیا۔ یہ شارک اتنی چھوٹی ہے کہ اس کی لمبائی پندرہ سینٹی میٹر سے بھی کم ہوتی ہے، یعنی یہ سائنسی طور پر دریافت ہونے والی شارک کی سب سے چھوٹی اقسام میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی دریافت خلیجِ میکسیکو میں ملنے والے چند نمونوں کی بنیاد پر ہوئی، اور اس نے گہرے سمندر کی حیاتیاتی دنیا کے بارے میں ہمارے علم میں ایک نیا باب کھول دیا۔

عام طور پر شارک کا تصور ایک بڑے، طاقتور اور خوفناک جانور کے طور پر کیا جاتا ہے، مگر پاکٹ شارک اس تصور کو بالکل بدل دیتی ہے۔ یہ ننھی سی مخلوق گہرے سمندر کی تاریکی میں رہتی ہے، جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی۔ ایسے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے اسے خاص قسم کی جسمانی اور حیاتیاتی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں، جو اسے دیگر مچھلیوں سے منفرد بناتی ہیں۔

پاکٹ شارک کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت اس کے جسم کے دونوں جانب موجود چھوٹے چھوٹے غدود نما خانے ہیں، جو اس کے اگلے پروں کے قریب پائے جاتے ہیں۔ انہی خانوں کی وجہ سے اسے “پاکٹ” شارک کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خانے ایک خاص قسم کا روشن مادہ خارج کرتے ہیں، جو سمندر کی گہرائیوں میں اندھیرے کے دوران چمک سکتا ہے۔ اگرچہ اس بات کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ روشنی دشمنوں کو دھوکہ دینے یا ان سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہوگی۔

گہرے سمندر میں جہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، وہاں ایسی چمکدار صلاحیت کسی بھی جاندار کے لیے زندگی اور موت کا فرق بن سکتی ہے۔ یہ روشن مادہ شاید شکاری کو چند لمحوں کے لیے الجھا دے، جس سے پاکٹ شارک کو فرار کا موقع مل جاتا ہو۔ کچھ سائنس دان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ روشنی شکار کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، مگر اس پر تحقیق ابھی جاری ہے۔

پاکٹ شارک کا تعلق شارک کے ایک خاص خاندان “ڈالاٹیائیڈی” سے ہے۔ اس خاندان میں شامل زیادہ تر شارک چھوٹی جسامت کی ہوتی ہیں اور گہرے سمندر میں رہنے کے لیے خاص ارتقائی صلاحیتیں رکھتی ہیں۔ ان میں سے کئی اقسام اپنی غیر معمولی عادات اور جسمانی ساخت کی وجہ سے پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہیں، مگر پاکٹ شارک ان سب میں سب سے زیادہ پراسرار سمجھی جاتی ہے۔

یہ شارک ایک ہزار میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں پائی جاتی ہے۔ اس گہرائی پر دباؤ انتہائی زیادہ ہوتا ہے، اور درجہ حرارت بھی خاصا کم۔ ایسے حالات میں زندہ رہنا عام مخلوقات کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا ان جانداروں سے سامنا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ زیادہ تر معلومات ان نمونوں سے حاصل کی جاتی ہیں جو اتفاقاً ماہی گیری کے دوران یا سائنسی مہمات میں مل جاتے ہیں۔

پاکٹ شارک کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی تحقیق زندہ حالت میں نہیں کی جا سکی۔ سائنس دانوں کو برسوں تک محفوظ کیے گئے نمونوں پر انحصار کرنا پڑا۔ ان نمونوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، تب جا کر اس نئی قسم کی شناخت ممکن ہو سکی۔ چونکہ گہرے سمندر کی تحقیق نہایت مہنگی اور تکنیکی طور پر مشکل ہے، اس لیے ایسی دریافتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ سمندر کی گہرائی کا تقریباً اسی فیصد حصہ آج بھی انسان کے لیے نامعلوم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بے شمار جاندار ایسے ہو سکتے ہیں جنہیں ہم نے ابھی تک دیکھا ہی نہیں۔ پاکٹ شارک کی دریافت اس بات کی واضح مثال ہے کہ زمین کے سمندر اب بھی رازوں سے بھرے ہوئے ہیں، اور ہر نئی دریافت ہمیں قدرت کے بارے میں ایک نئی سمجھ دیتی ہے۔

ایسی مخلوقات کی دریافت نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم ہوتی ہے بلکہ یہ ہمیں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت بھی یاد دلاتی ہے۔ گہرے سمندر کے ماحول کو آج کل کئی خطرات لاحق ہیں، جن میں آلودگی، سمندری کان کنی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اگر ان علاقوں کو نقصان پہنچا تو ممکن ہے کہ بہت سی نایاب اور انوکھی اقسام ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں، اس سے پہلے کہ ہم انہیں جان بھی سکیں۔

پاکٹ شارک ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زمین پر زندگی صرف وہ نہیں جو ہمیں نظر آتی ہے۔ ہماری آنکھوں سے اوجھل، سمندر کی تاریک گہرائیوں میں ایسی دنیا موجود ہے جو حیرت، تنوع اور جدت سے بھری ہوئی ہے۔ ہر نئی دریافت ہمیں عاجزی سکھاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ انسان ابھی قدرت کے رازوں کو سمجھنے کے سفر کے آغاز ہی میں ہے۔

آخر میں، پاکٹ شارک صرف ایک چھوٹی سی مچھلی نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ علامت اس بات کی کہ سائنس ابھی بھی دریافت کے عمل میں ہے، اور یہ کہ سمندر کی گہرائیاں ہمیں آئندہ بھی حیران کرتی رہیں گی۔ اگر ہم نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کی حفاظت نہ کی تو ممکن ہے کہ ایسی کہانیاں صرف کتابوں تک محدود رہ جائیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.