ذرا تصور کریں ایک ایسی ننھی سی مخلوق کا جو جنگل کی زمین تک محدود نہیں رہتی، بلکہ رات کے سناٹے میں درختوں کی چوٹیوں سے فضا میں کود جاتی ہے۔ اسے فلائنگ اسکوئرل کہا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرندوں کی طرح واقعی اڑتی نہیں۔ اس کے باوجود جو منظر یہ پیش کرتی ہے، وہ کسی اڑان سے کم نہیں ہوتا۔ یہ ننھا جانور قدرت کے ایک حیرت انگیز نظام کے تحت ہوا میں پھسلتا ہوا سفر کرتا ہے اور دیکھنے والے کو حیران کر دیتا ہے۔
فلائنگ اسکوئرل کے جسم میں ایک خاص جھلی ہوتی ہے جسے پیٹاگیئم کہا جاتا ہے۔ یہ نرم، بالوں سے ڈھکی ہوئی جھلی اس کے اگلے پنجوں سے لے کر پچھلے پنجوں تک پھیلی ہوتی ہے۔ جب یہ درخت سے چھلانگ لگاتی ہے تو یہی جھلی کھل کر ایک قدرتی پیرا گلائیڈر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہوا اس جھلی کے نیچے سے گزرتی ہے اور جانور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف پھسلنے لگتا ہے، بغیر کسی شور کے۔
یہ صلاحیت اسے عام گلہریوں سے بالکل مختلف بنا دیتی ہے۔ فلائنگ اسکوئرل اونچے درخت کی چوٹی سے چھلانگ لگا کر تقریباً نوے میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ یہ فاصلہ ایک پورے فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہوتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی چھلانگ میں ہو جاتا ہے، نہ کوئی پر پھڑپھڑانا اور نہ ہی کوئی آواز۔ رات کے اندھیرے میں یہ ایک سایے کی طرح حرکت کرتی ہے۔
فلائنگ اسکوئرل کی اصل مہارت صرف ہوا میں پھسلنے تک محدود نہیں۔ اس کی فضائی کنٹرول صلاحیت واقعی حیران کر دینے والی ہے۔ یہ جانور ہوا میں بے قابو ہو کر نہیں بہتا بلکہ پوری ہوشیاری سے اپنا راستہ چنتا ہے۔ اس کی چپٹی اور لمبی دم ایک اسٹیئرنگ کی طرح کام کرتی ہے، جس کی مدد سے یہ اپنی سمت بدل سکتا ہے۔
درختوں کے گھنے جھنڈ میں، جہاں شاخیں ایک دوسرے سے الجھی ہوتی ہیں، فلائنگ اسکوئرل انتہائی درستگی کے ساتھ اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کہاں سے گزرنا ہے اور کہاں مڑنا ہے۔ اس کی حرکت اتنی نپی تلی ہوتی ہے کہ وہ تنگ شاخوں کے درمیان سے بھی آسانی سے نکل جاتی ہے، جیسے کوئی ماہر پائلٹ مشکل راستے سے جہاز گزار رہا ہو۔
یہ صلاحیت خاص طور پر اس وقت کام آتی ہے جب کوئی شکاری اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ الو جیسے پرندے رات کے وقت خاموشی سے شکار کرتے ہیں اور فلائنگ اسکوئرل ان کے لیے ایک لذیذ ہدف ہو سکتی ہے۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اس ننھی مخلوق کی غیر معمولی مہارت سامنے آتی ہے۔ اگر الو قریب آ جائے تو فلائنگ اسکوئرل ہوا میں ہی اچانک تیز موڑ لے سکتی ہے، یہاں تک کہ ایک سو اسی درجے کا موڑ بھی۔
یہ اچانک موڑ شکاری کو چند لمحوں کے لیے الجھا دیتا ہے۔ الو ایک سمت میں جاتا ہے اور فلائنگ اسکوئرل پلک جھپکتے ہی دوسری سمت میں اندھیرے میں غائب ہو جاتی ہے۔ یہ منظر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی چھوٹا سا ہیرو فضا میں کرتب دکھا رہا ہو۔ اس کی تیزی اور پھرتی قدرت کے ایک شاندار دفاعی نظام کی مثال ہے۔
فلائنگ اسکوئرل زیادہ تر رات کے وقت متحرک ہوتی ہے۔ دن کے وقت یہ درختوں کے سوراخوں یا گھونسلوں میں آرام کرتی ہے، اور جیسے ہی رات گہری ہوتی ہے، یہ خوراک کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اس کی بڑی آنکھیں کم روشنی میں دیکھنے کے لیے بنی ہوتی ہیں، جس سے یہ اندھیرے میں بھی بخوبی راستہ پہچان لیتی ہے۔
یہ جانور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق خاص صلاحیتیں دی ہیں۔ فلائنگ اسکوئرل کے پاس پر نہیں ہیں، مگر اس کے باوجود اس نے ہوا میں سفر کرنے کا ایک انوکھا طریقہ سیکھ لیا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ طاقت یا جسامت میں نہیں ہوتی، بلکہ ذہانت اور درست ڈیزائن میں ہوتی ہے۔
اگر کبھی کسی نے جنگل میں رات کے وقت ایک درخت سے دوسرے درخت تک خاموشی سے پھسلتی ہوئی فلائنگ اسکوئرل کو دیکھا ہو، تو وہ منظر شاید کبھی نہ بھول سکے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرت کی دنیا میں حیرت انگیز کمالات ہر جگہ موجود ہیں، بس انہیں دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔
آخر میں، فلائنگ اسکوئرل ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اڑنے کے لیے پر ہونا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی توازن، درست سمت اور تھوڑی سی ہمت ہی کسی کو آسمان کا فن سکھا دیتی ہے۔ یہ ننھی سی مخلوق واقعی درختوں کی چھاؤں میں چھپا ہوا ایک خاموش عجوبہ ہے۔
