چالیس سال تک پھیپھڑے میں چھپا رہا بچپن کا کھلونا



2017 میں برطانیہ کے شہر Preston سے تعلق رکھنے والا 47 سالہ شخص ایک ایسے مسئلے کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گیا جو بظاہر عام سا لگتا تھا۔ اسے کافی عرصے سے کھانسی تھی جو کسی صورت ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ شروع میں اس نے اسے معمولی نزلہ یا موسم کی تبدیلی سمجھا، مگر جب کھانسی مسلسل برقرار رہی تو اس نے طبی معائنہ کروانے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹروں نے احتیاطاً اس کا ایکسرے کیا۔ رپورٹ دیکھتے ہی سب کے چہروں پر سنجیدگی آ گئی۔ پھیپھڑے میں ایک عجیب سا سایہ یا گانٹھ نظر آ رہی تھی۔ چونکہ مریض ماضی میں سگریٹ نوشی کر چکا تھا، اس لیے سب سے پہلا خدشہ کینسر کا ہی تھا۔ اس کے لیے یہ خبر کسی جھٹکے سے کم نہ تھی۔ چند لمحوں میں اس کے ذہن میں کئی اندیشے گھوم گئے۔

مزید جانچ کے لیے برونکوسکوپی نامی عمل کیا گیا، جس میں ایک باریک کیمرہ نما آلہ سانس کی نالی کے اندر ڈالا جاتا ہے تاکہ براہِ راست دیکھا جا سکے کہ مسئلہ کیا ہے۔ سب کو امید تھی کہ اصل وجہ سامنے آ جائے گی، مگر جو منظر سامنے آیا وہ کسی فلمی کہانی سے کم نہیں تھا۔

ڈاکٹروں نے اس کی سانس کی نالی سے ایک ننھا سا پلاسٹک کا ٹریفک کون نکالا۔ یہ وہی چھوٹا سا کھلونا تھا جو بچوں کے سیٹ میں شامل ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ مریض کو یاد آیا کہ بچپن میں، تقریباً سات سال کی عمر میں، وہ ایسے ہی کھلونوں سے کھیلتا تھا۔ غالب گمان یہی تھا کہ اسی دوران یہ چھوٹا سا پلاسٹک کون اس کے حلق میں چلا گیا اور سانس کے راستے میں جا پھنسا۔

سب سے چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ یہ کھلونا تقریباً چالیس سال تک اس کے جسم کے اندر موجود رہا، اور اسے اس کا اندازہ تک نہ ہوا۔ انسانی جسم نے شاید وقت کے ساتھ اس غیر ملکی چیز کے گرد خود کو ڈھال لیا تھا۔ سانس کی نالی نے اپنی ساخت میں معمولی تبدیلی کر کے اسے اپنے اندر سمو لیا، جس کی وجہ سے شدید علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ صرف ایک ہلکی مگر مستقل کھانسی اس کا اشارہ تھی، جسے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

جب یہ پلاسٹک کا ٹکڑا نکال دیا گیا اور مکمل جانچ کے بعد یہ تصدیق ہو گئی کہ کینسر جیسی کوئی بیماری موجود نہیں، تو اس شخص نے سکھ کا سانس لیا۔ اگلے چند مہینوں میں اس کی کھانسی تقریباً ختم ہو گئی۔ تقریباً چار ماہ کے اندر اندر اس کی حالت واضح طور پر بہتر ہو چکی تھی۔

یہ واقعہ اس بات کی حیرت انگیز مثال ہے کہ انسانی جسم کتنی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ کبھی کبھی جسم کسی غیر معمولی چیز کو برسوں تک برداشت کر لیتا ہے اور خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سبق بھی ملتا ہے کہ معمولی نظر آنے والی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

سوچیے، اگر وہ شخص ڈاکٹر کے پاس نہ جاتا تو شاید اسے کبھی معلوم نہ ہوتا کہ اس کے پھیپھڑے میں بچپن کا ایک کھلونا چھپا ہوا ہے۔ ایک سادہ سی کھانسی نے ایک حیران کن راز کو بے نقاب کر دیا۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحت کے معاملے میں لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے، اور یہ بھی کہ انسانی جسم واقعی کبھی کبھی ناقابلِ یقین راز اپنے اندر سموئے رکھتا ہے۔

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.