2013 میں امریکا کی ریاست Virginia سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک عام طبی معائنے کے لیے اسپتال گیا۔ اسے کولونوسکوپی کرانی تھی، جو بڑی آنت کا روٹین ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، بس احتیاطی جانچ تھی تاکہ صحت کے بارے میں تسلی ہو جائے۔ طریقہ کار کے بعد ڈاکٹر عموماً مریض کو کچھ ہدایات دیتے ہیں، اس لیے اس شخص نے سوچا کہ بہتر ہوگا وہ اپنے فون پر بعد از علاج مشورے ریکارڈ کر لے تاکہ بعد میں سکون سے سن سکے۔
عمل کے دوران اسے بیہوشی کی دوا دی گئی۔ وہ گہری نیند میں چلا گیا۔ مگر ایک چھوٹی سی بھول ہو گئی۔ اس نے ریکارڈنگ بند کرنا یاد نہیں رکھا۔ فون مسلسل چلتا رہا اور پورے عمل کی آواز محفوظ ہوتی رہی۔
Read this also
چالیس سال تک پھیپھڑے میں چھپا رہا بچپن کا کھلونا
یہ سب سن کر وہ شخص سکتے میں آ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس جگہ وہ اپنی صحت اور عزت کے تحفظ کے لیے گیا تھا، وہاں اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ طبی ماحول پیشہ ورانہ اور باوقار ہونا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب مریض مکمل طور پر بے بس ہو۔
اس نے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے متعلقہ ڈاکٹر اور عملے کے خلاف ہتکِ عزت اور طبی غفلت کا مقدمہ دائر کیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا اور 2015 میں اس پر باضابطہ سماعت ہوئی۔ تین دن تک دلائل، شواہد اور گواہوں کے بیانات سنے گئے۔ ریکارڈنگ عدالت میں بطور ثبوت پیش کی گئی، جس نے پورے واقعے کو واضح کر دیا۔
آخرکار جیوری نے مریض کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اسے پانچ لاکھ ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس شخص کے لیے انصاف کا باعث بنا بلکہ طبی اداروں کے لیے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ مریض کی عزت اور رازداری سب سے اہم ہے۔
مقدمے کے بعد وہ اینستھیزیولوجسٹ اس ادارے میں مزید کام نہیں کر سکا۔ یہ واقعہ طبی پیشے میں اخلاقی ذمہ داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ڈاکٹر اور طبی عملہ صرف علاج نہیں کرتے، بلکہ مریض کے اعتماد کے امین بھی ہوتے ہیں۔ بیہوشی کی حالت میں مریض مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، اس لیے پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنا بنیادی شرط ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی ایک معمولی سی احتیاط یا اتفاقی واقعہ بڑی حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ اگر فون بند کر دیا جاتا تو شاید یہ رویہ کبھی سامنے نہ آتا۔ اس واقعے نے صحت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت کو مزید واضح کیا۔
بالآخر، یہ صرف ایک مقدمہ نہیں تھا، بلکہ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ احترام اور انسانیت ہر پیشے میں لازم ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں کسی کی صحت اور وقار داؤ پر لگا ہو۔
