یہ ایک خاموش مگر معنی خیز کامیابی ہے، اُن مخلوقات کے لیے جو اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتیں۔ فرانس اور یورپی یونین کی عدالتوں نے پرندوں کے شکار میں جال اور گوند والے پھندوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ وہ طریقے تھے جو نہ صرف بے حد تکلیف دہ تھے بلکہ پہلے سے کمزور جنگلی پرندوں کی نسلوں کے لیے بھی خطرہ بن چکے تھے۔
کئی برسوں سے ماہرینِ ماحولیات اور جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد اس مسئلے پر جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ ایسے طریقے غیر ضروری اور غیر انسانی ہیں۔ جدید دور میں، جب انسان کے پاس متبادل راستے موجود ہیں، تو پھر ایسے ظالمانہ طریقوں کو جاری رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔
جال اور گوند والے پھندے بظاہر سادہ آلات ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ پرندے ان میں پھنس کر گھنٹوں بلکہ بعض اوقات دنوں تک تڑپتے رہتے ہیں۔ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں زخمی ہو جاتے ہیں، ان کے پر ٹوٹ جاتے ہیں، اور بعض اوقات وہ بھوک یا تھکن سے مر جاتے ہیں۔ یہ موت فوری نہیں ہوتی بلکہ طویل اذیت کے بعد آتی ہے۔ یہی پہلو اس بحث کا سب سے تکلیف دہ حصہ تھا۔
اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ یہ طریقے مخصوص پرندوں تک محدود نہیں رہتے۔ جو بھی پرندہ ان جالوں یا پھندوں کی زد میں آتا ہے، وہ شکار بن سکتا ہے۔ اس طرح نایاب یا پہلے سے خطرے میں موجود اقسام بھی متاثر ہوتی ہیں۔ قدرتی توازن کے لیے یہ ایک سنگین خطرہ تھا، کیونکہ ہر پرندہ اپنے ماحولیاتی کردار کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلے نے واضح پیغام دیا ہے کہ روایت یا پرانی عادت کسی عمل کو درست نہیں بنا دیتی۔ بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ طریقے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں، مگر عدالتوں نے انسانی ہمدردی اور سائنسی شواہد کو ترجیح دی۔ اس فیصلے میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اگر کوئی عمل غیر ضروری تکلیف کا سبب بنتا ہو تو اسے روکنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
یہ اقدام صرف قانونی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ میں تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ دنیا بھر میں اب جانوروں کے حقوق اور فلاح پر زیادہ سنجیدگی سے بات کی جا رہی ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انسان زمین کا واحد مالک نہیں بلکہ ایک شریک ہے۔ جب ہم کسی کمزور مخلوق کے تحفظ کے لیے قدم اٹھاتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ماحول کو بھی محفوظ بناتے ہیں۔
پرندے قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ وہ بیج پھیلاتے ہیں، کیڑوں کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر ان کی آبادی متاثر ہو تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی سلسلے پر پڑتے ہیں۔ اسی لیے ان کا تحفظ محض جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ سائنسی اور عملی ضرورت بھی ہے۔
اس فیصلے کے پیچھے برسوں کی تحقیق، عوامی آگاہی اور قانونی جدوجہد شامل ہے۔ کارکنوں نے شواہد اکٹھے کیے، عدالتوں میں مقدمات لڑے اور عوام کو بتایا کہ ان طریقوں کے نتیجے میں کتنی اذیت ہوتی ہے۔ یہ ثابت کیا گیا کہ متبادل اور زیادہ انسانی طریقے موجود ہیں، لہٰذا ظالمانہ طریقوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ایسے فیصلے عالمی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب یورپ جیسے خطے میں سخت قوانین نافذ ہوتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی اس سے سبق لیتے ہیں۔ یوں ایک ملک کا قدم بین الاقوامی رجحان کو جنم دے سکتا ہے۔ اس طرح جانوروں کے حقوق کے لیے ایک وسیع تر فضا بنتی ہے۔
یقیناً ہر تبدیلی کے ساتھ اختلاف بھی سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگ اسے اپنی روایات یا معاشی مفادات کے خلاف سمجھ سکتے ہیں۔ مگر طویل مدت میں دیکھا جائے تو فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہی پائیدار راستہ ہے۔ اگر ہم قدرتی حیات کو کمزور کریں گے تو اس کے اثرات بالآخر ہم تک ہی پہنچیں گے۔
یہ فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ اس وسیع تر دنیا کے لیے بھی معنی رکھتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ جب عدالتیں ان مخلوقات کے حق میں کھڑی ہوتی ہیں جو بول نہیں سکتیں، تو یہ معاشرے کی اخلاقی بلوغت کی علامت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ہمیں زیادہ ذمہ دار اور حساس بناتا ہے۔
آخرکار یہ ایک خاموش فتح ہے، شور شرابے کے بغیر حاصل کی گئی کامیابی۔ اس میں کوئی جشن نہیں، مگر ایک اطمینان ضرور ہے کہ کمزور آوازوں کو سنا گیا۔ پرندے شاید ہمارے فیصلوں سے آگاہ نہ ہوں، مگر ان کی آزاد پرواز اس بات کی گواہی دے گی کہ انسان نے ایک بار پھر ہمدردی کا راستہ چنا۔
