یہ خبر واقعی خوشی منانے کے قابل ہے، کیونکہ قدرت کے تحفظ کی دنیا میں ایسی کامیابیاں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ دیو قامت پانڈا، جو برسوں تک معدومیت کے خطرے سے دوچار رہا، اب باضابطہ طور پر “خطرے سے دوچار” جانوروں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی اعلان نہیں، بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ میں ایک بڑی پیش رفت کی علامت ہے۔
گزشتہ دس برسوں کے دوران دنیا بھر میں پانڈا کی آبادی میں تقریباً سترہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ طویل المدت منصوبہ بندی، مسلسل محنت اور سنجیدہ حفاظتی اقدامات کا ثمر ہے۔ چین میں بانس کے قدرتی جنگلات کا تحفظ، غیر قانونی شکار کے خلاف سخت کارروائیاں، اور بین الاقوامی سطح پر تعاون نے مل کر اس نایاب جانور کو دوبارہ زندگی کی امید دی ہے۔
ایک وقت تھا جب پانڈا کی بقا ایک ہاری ہوئی جنگ محسوس ہوتی تھی۔ جنگلات کی کٹائی، انسانی آبادی کا پھیلاؤ اور قدرتی مسکن کی تباہی نے پانڈا کو آہستہ آہستہ محدود علاقوں تک قید کر دیا تھا۔ چونکہ پانڈا کی خوراک کا زیادہ تر دارومدار بانس پر ہوتا ہے، اس لیے بانس کے جنگلات کی کمی اس کے لیے براہِ راست خطرہ بن گئی۔ ماہرین کو خدشہ تھا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خوبصورت جانور آنے والی نسلوں کے لیے صرف تصویروں میں رہ جائے گا۔
لیکن پھر ایک مختلف راستہ اختیار کیا گیا۔ حکومتوں، ماہرینِ ماحولیات اور عالمی تنظیموں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ پانڈا کے مسکن کو ہر قیمت پر محفوظ بنایا جائے گا۔ بانس کے جنگلات کو قانونی تحفظ دیا گیا، نیشنل پارکس قائم کیے گئے، اور ایسے جنگلی راستے بنائے گئے جن کے ذریعے پانڈا مختلف علاقوں کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ اس سے نہ صرف ان کی خوراک تک رسائی بہتر ہوئی بلکہ افزائشِ نسل کے مواقع بھی بڑھے۔
غیر قانونی شکار کے خلاف اقدامات نے بھی اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ سخت قوانین، نگرانی کے جدید نظام اور مقامی آبادی کی شمولیت نے شکاریوں کے لیے راستے بند کر دیے۔ لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ پانڈا صرف ایک جانور نہیں، بلکہ ایک قدرتی ورثہ ہے جس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔
بین الاقوامی تعاون بھی اس کہانی کا ایک اہم حصہ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے چڑیا گھروں اور تحقیقی اداروں نے پانڈا کے تحفظ، تحقیق اور افزائشِ نسل کے منصوبوں میں حصہ لیا۔ اس عالمی یکجہتی نے یہ ثابت کیا کہ جب انسان مل کر کسی مقصد کے لیے کام کریں تو نتائج واقعی حیران کن ہو سکتے ہیں۔
یہ کامیابی صرف پانڈا تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے کہ اگر انسان منافع کے بجائے تحفظ کو ترجیح دے، تو قدرت خود کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک بار اگر کوئی نسل زوال کا شکار ہو جائے تو واپسی ممکن نہیں، مگر پانڈا کی مثال اس سوچ کو غلط ثابت کرتی ہے۔
پانڈا کی بحالی ہمیں امید دلاتی ہے کہ دنیا کے دیگر خطرے سے دوچار جانوروں کے لیے بھی راستہ موجود ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ فیصلے وقت پر ہوں، نیت صاف ہو، اور اقدامات مستقل ہوں۔ عارضی مہمات یا نمائشی اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ اصل فرق وہی کوششیں ڈالتی ہیں جو برسوں تک خاموشی سے جاری رہیں۔
اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ انسان اور قدرت کے تعلق کو ایک نئے زاویے سے دکھاتی ہے۔ ہم اکثر خود کو قدرت کا مالک سمجھ بیٹھتے ہیں، مگر پانڈا کی بحالی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم دراصل اس نظام کا ایک حصہ ہیں۔ جب ہم تحفظ کا انتخاب کرتے ہیں تو فائدہ صرف جانوروں کو نہیں، بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کو ہوتا ہے۔
آج جب پانڈا دوبارہ محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے، تو یہ صرف ایک نسل کی کامیابی نہیں، بلکہ امید کی واپسی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت میں کی گئی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک نسل بچی ہے، اور اس کے ساتھ یہ یقین بھی بحال ہوا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو قدرت کے ساتھ اپنا بگڑا ہوا رشتہ درست کر سکتے ہیں۔
