چیک جمع کرانے گیا شخص، اور بات پولیس تک پہنچ گئی


جنوری 2020 میں Detroit کے رہائشی سانٹورے تھامس ایک بینک برانچ میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں بڑی مالیت کے چند چیک تھے جو انہیں اپنے کام کی جگہ پر امتیازی سلوک کے مقدمے میں سمجھوتے کے بعد ملے تھے۔ ان کا مقصد سادہ تھا: چیک جمع کرانا اور اپنی رقم محفوظ کرنا۔ مگر جو کچھ وہاں ہوا، اس نے معاملے کو ایک نئی سمت دے دی۔

وہ TCF Bank کی برانچ میں گئے جو Livonia میں واقع تھی۔ تھامس کے مطابق، بینک عملے نے چیک قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے سوالات کیے گئے جیسے وہ کسی دھوکے میں ملوث ہوں۔ وہ خود کو ایک صارف کی بجائے مشتبہ شخص کی طرح محسوس کرنے لگے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب پولیس کو بلایا گیا۔


Read this also 

جامنی شہد: فطرت کی میٹھی اور پراسرار حیرت

تھامس کا مؤقف تھا کہ انہوں نے تمام ضروری دستاویزات فراہم کیں اور چیک بھی قانونی طور پر جاری ہوئے تھے۔ اس کے باوجود انہیں بینک کے اندر غیر معمولی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کیونکہ وہ سیاہ فام ہیں۔ ان کے بقول، اگر وہ کسی اور نسل سے تعلق رکھتے تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

واقعے کے بعد انہوں نے بینک کے خلاف نیا مقدمہ دائر کیا، جس میں نسلی امتیاز اور نسلی پروفائلنگ کا الزام لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں شدید ذہنی اذیت دی اور عوامی طور پر شرمندگی کا احساس دلایا۔ ایک شخص جو اپنی قانونی کمائی جمع کرانے آیا تھا، اسے پولیس کی موجودگی میں وضاحتیں دینی پڑیں۔ ان کے مطابق یہ صرف مالی معاملہ نہیں تھا بلکہ عزت اور برابری کا سوال تھا۔

یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور مقامی کمیونٹی میں ردعمل پیدا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے اس واقعے پر سوال اٹھائے اور کہا کہ مالی اداروں کو ہر گاہک کے ساتھ یکساں اور باوقار سلوک کرنا چاہیے۔ دباؤ بڑھنے پر بینک نے عوامی طور پر معذرت کی۔ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پولیس کو بلانا مناسب فیصلہ نہیں تھا اور اس سے صورتحال غیر ضروری طور پر خراب ہوئی۔

یہ واقعہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کر گیا کہ کیا بعض اوقات ادارہ جاتی رویوں میں تعصب شامل ہو سکتا ہے۔ مالیاتی ادارے عوام کے اعتماد پر قائم ہوتے ہیں۔ جب کوئی صارف اپنے جائز حق کے ساتھ ان کے پاس جاتا ہے تو اسے عزت اور پیشہ ورانہ برتاؤ کی توقع ہوتی ہے۔

سانٹورے تھامس کے لیے یہ معاملہ صرف چیک جمع کرانے کا نہیں رہا۔ یہ ان کے لیے ایک اصولی مؤقف بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ کسی اور کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قانونی کارروائی کا مقصد صرف معاوضہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک پیغام دینا بھی تھا کہ برابری اور احترام ہر شہری کا حق ہے۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک عام سا دن بھی غیر معمولی بن سکتا ہے۔ ایک بینک برانچ میں پیش آنے والا واقعہ وسیع تر سماجی بحث کا سبب بن گیا۔ آخرکار معافی سامنے آئی، مگر سوال اب بھی موجود ہیں کہ ایسے واقعات کو روکا کیسے جائے۔ معاشرے کی بہتری اسی میں ہے کہ ہر فرد کو، چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو، یکساں احترام اور انصاف ملے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.