فن لینڈ نے بے گھر افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جو راستہ اپنایا ہے، وہ دنیا بھر میں ایک مثال بن چکا ہے۔ اس ملک نے روایتی سوچ کو بدلتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ گھر ہونا کسی انعام یا شرط سے مشروط نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اسی سوچ کے تحت فن لینڈ نے “ہاؤسنگ فرسٹ” ماڈل متعارف کروایا، جس نے بے گھری کے مسئلے کو جڑ سے حل کرنے کی کوشش کی۔
روایتی نظام میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ بے گھر افراد کو پہلے نشے کی لت چھوڑنی ہوگی، نوکری تلاش کرنی ہوگی یا اپنی زندگی میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی، تب جا کر انہیں رہائش دی جائے گی۔ مگر فن لینڈ نے اس سوچ کو الٹ دیا۔ یہاں سب سے پہلا قدم مستقل اور محفوظ رہائش فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جب تک انسان کے پاس اپنا گھر نہ ہو، وہ اپنی زندگی کے دیگر مسائل حل کرنے کے قابل ہی نہیں ہو سکتا۔
ہاؤسنگ فرسٹ ماڈل کے تحت بے گھر افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں رکھنے کے بجائے مستقل گھروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ گھر کرائے کے فلیٹس یا چھوٹے اپارٹمنٹس ہوتے ہیں، جہاں رہنے والے افراد باقاعدہ معاہدے کے تحت بطور کرایہ دار رہتے ہیں۔ انہیں “مریض” یا “کلائنٹ” نہیں بلکہ عام شہری سمجھا جاتا ہے، جن کے حقوق اور ذمہ داریاں وہی ہوتی ہیں جو کسی بھی دوسرے فرد کی ہوتی ہیں۔
صرف گھر دینا ہی اس ماڈل کا مقصد نہیں، بلکہ اس کے ساتھ مکمل معاون نظام بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ان گھروں میں رہنے والے افراد کو صحت کی سہولیات، ذہنی صحت کی کونسلنگ، نشے سے چھٹکارے کے پروگرام، اور روزگار تلاش کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ یہ تمام سہولیات زبردستی مسلط نہیں کی جاتیں بلکہ ضرورت اور مرضی کے مطابق دستیاب ہوتی ہیں۔ اس سے افراد کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق فن لینڈ میں اس پالیسی کے بعد بے گھری کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مستقل رہائش فراہم کرنا حکومت کے لیے طویل مدت میں زیادہ سستا ثابت ہوا۔ عارضی پناہ گاہیں، ایمرجنسی اسپتال کے دورے، پولیس مداخلت، اور بحران سے نمٹنے کے دیگر اقدامات حکومت پر کہیں زیادہ بوجھ ڈالتے تھے۔ جب لوگوں کو مستقل گھر مل گیا تو یہ اخراجات خود بخود کم ہونے لگے۔
مستقل رہائش نے افراد کی ذہنی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ ایک محفوظ اور پرامن جگہ ملنے سے لوگوں میں خود اعتمادی بحال ہوئی۔ بہت سے افراد نے دوبارہ تعلیم حاصل کی، نوکریاں تلاش کیں، اور سماج کا فعال حصہ بن گئے۔ جہاں عارضی پناہ گاہیں انسان کو غیر یقینی اور خوف کی حالت میں رکھتی ہیں، وہیں مستقل گھر زندگی میں استحکام اور امید پیدا کرتے ہیں۔
فن لینڈ کا تجربہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ بے گھری کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ پالیسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر ریاست چاہے تو مناسب منصوبہ بندی، سیاسی عزم، اور انسانی ہمدردی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہاؤسنگ فرسٹ ماڈل صرف ایک سماجی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی مؤقف بھی ہے، جو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر انسان عزت اور تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک اب فن لینڈ کے ماڈل کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی اصول سب کے لیے ایک جیسے ہو سکتے ہیں: انسان کو سب سے پہلے گھر دیں، پھر اس کی زندگی بہتر بنانے کے راستے خود بخود کھلتے جائیں گے۔ فن لینڈ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمدردی اور معاشی سمجھ بوجھ ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔
