الاسکا کے برف پوش علاقوں میں پائے جانے والے لکڑی کے مینڈک قدرت کے اُن عجیب و غریب کرشموں میں سے ہیں جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ شدید سردیوں میں، جب درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے گر جاتا ہے اور زمین برف کی موٹی تہہ میں تبدیل ہو جاتی ہے، یہی مینڈک ایک ایسا عمل اختیار کرتے ہیں جو عام فہم سے بالاتر ہے۔ یہ مینڈک سردیوں کے آغاز پر آہستہ آہستہ جم جاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا پورا جسم برف بن جاتا ہے۔
اس حالت میں ان کا دل دھڑکنا بند ہو جاتا ہے، سانس رک جاتی ہے، خون کا بہاؤ ختم ہو جاتا ہے، اور بظاہر یوں لگتا ہے جیسے زندگی کا نام و نشان باقی نہیں رہا۔ مگر حقیقت میں یہ موت نہیں بلکہ زندگی کی ایک انتہائی منفرد صورت ہے۔ یہ مینڈک خود کو مکمل طور پر منجمد کر لیتے ہیں، اور مہینوں تک اسی حالت میں رہتے ہیں۔
اس حیران کن بقا کے پیچھے ایک قدرتی کیمیائی نظام کام کرتا ہے۔ لکڑی کے مینڈک اپنے جسم میں خاص قسم کے قدرتی اینٹی فریز کیمیکلز پیدا کرتے ہیں، جن میں گلوکوز اور دیگر شوگرز شامل ہوتی ہیں۔ جیسے ہی سردی بڑھتی ہے، یہ مادے تیزی سے ان کے خلیوں میں پھیل جاتے ہیں۔ ان کا کام خلیوں کو پھٹنے یا خراب ہونے سے بچانا ہوتا ہے، کیونکہ عام طور پر جب پانی جم جاتا ہے تو خلیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
ان اینٹی فریز مادّوں کی بدولت مینڈک کے خلیے محفوظ رہتے ہیں، حالانکہ خلیوں کے باہر برف جم چکی ہوتی ہے۔ اندرونی ساخت ایک خاص توازن میں رہتی ہے، جس سے جسم دوبارہ فعال ہونے کے قابل رہتا ہے۔ یہ ایک نہایت نازک اور خطرناک عمل ہے، کیونکہ ذرا سی بھی گڑبڑ مینڈک کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
سردیوں کے مہینوں میں یہ مینڈک جنگل کی زمین، پتوں کے نیچے یا برف میں دفن حالت میں پڑے رہتے ہیں۔ نہ انہیں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، نہ حرکت کی، اور نہ ہی کسی قسم کی بیرونی سرگرمی کی۔ ان کا جسم ایک طرح سے “وقفے” میں چلا جاتا ہے، جہاں توانائی کی کھپت تقریباً صفر ہو جاتی ہے۔
جیسے ہی بہار آتی ہے اور درجۂ حرارت بڑھنے لگتا ہے، قدرت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ برف پگھلتی ہے، زمین نرم ہونے لگتی ہے، اور مینڈک کا جسم آہستہ آہستہ پگھلنے لگتا ہے۔ سب سے پہلے دل دوبارہ دھڑکنا شروع کرتا ہے، پھر خون کی روانی بحال ہوتی ہے، اور چند گھنٹوں یا دنوں کے اندر اندر یہ مینڈک دوبارہ حرکت کرنے لگتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پورے عمل کے بعد یہ ایسے اچھل کود کرنے لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
یہ صلاحیت زمین پر بہت کم جانداروں میں پائی جاتی ہے۔ زیادہ تر جانور شدید سردی میں یا تو ہجرت کر جاتے ہیں یا پھر ہائبرنیشن کی حالت میں چلے جاتے ہیں، مگر مکمل طور پر جم جانا اور پھر زندہ واپس آ جانا ایک نہایت نایاب حیاتیاتی موافقت ہے۔ لکڑی کے مینڈک اس صلاحیت کی بدولت الاسکا جیسے انتہائی سرد خطوں میں بھی کامیابی سے زندہ رہتے ہیں۔
سائنس دان اس قدرتی عمل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان مینڈکوں پر ہونے والی تحقیق نہ صرف حیاتیات کی سمجھ کو بڑھا رہی ہے بلکہ طب کے میدان میں بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر انسان کے خلیوں کو بھی اسی طرح محفوظ رکھا جا سکے تو مستقبل میں اعضاء کی پیوندکاری، طویل المدتی طبی نگہداشت، اور حتیٰ کہ ہنگامی حالتوں میں جان بچانے کے نئے طریقے دریافت ہو سکتے ہیں۔
لکڑی کے مینڈک ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی صرف حرکت یا سانس کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔ یہ جاندار زندگی اور موت کے درمیان ایک ایسی باریک لکیر پر چلتے ہیں جو ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے۔ واقعی، یہ مینڈک اس سوال کو نئی شکل دیتے ہیں کہ “زندہ ہونا” آخر ہوتا کیا ہے۔
