ہم عام طور پر پی ایچ ڈی کا تصور ایک ضخیم مقالے سے جوڑتے ہیں، جو برسوں کی تحقیق کے بعد لائبریری کی شیلف پر رکھ دیا جاتا ہے۔ مگر اگر یہی ڈگری کسی ایسی چیز پر ختم ہو جو واقعی دنیا کے کام آ سکے تو؟ چین میں انجینئرنگ کی تعلیم کے میدان میں ایک نیا تجربہ اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کچھ جامعات میں یہ راستہ اپنایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹریٹ کے طلبہ روایتی تھیسس لکھنے کے بجائے کوئی مکمل، فعال اور قابلِ استعمال پراڈکٹ تیار کریں۔ یعنی تحقیق صرف نظری مباحث تک محدود نہ رہے، بلکہ ایک مشین، ٹیکنالوجی یا ایسا حل بن کر سامنے آئے جسے فوری طور پر صنعت یا معاشرہ استعمال کر سکے۔
اس تبدیلی کا مقصد تحقیق اور عملی زندگی کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں میں ہونے والی اعلیٰ تحقیق کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہے، جبکہ صنعت کو عملی حل درکار ہوتے ہیں۔ اس نئے ماڈل کے ذریعے طلبہ کو ابتدا ہی سے اس سوچ کے ساتھ تربیت دی جا رہی ہے کہ ان کا کام حقیقی دنیا کے مسائل حل کرے۔
یقیناً اس طریقے کے اپنے چیلنجز بھی ہیں۔ تعلیمی معیار، سائنسی گہرائی اور تخلیقی آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مگر حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیق کا نتیجہ ایک ایسا آلہ، سسٹم یا سافٹ ویئر ہو جو براہِ راست فائدہ دے، تو اس کی قدر اور اثر دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم کا تصور بدل رہا ہے۔ اب صرف نظری علم کافی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اس علم کو عملی شکل دینا بھی اہم ہو گیا ہے۔ طلبہ کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ وہ صرف ترقی کا مطالعہ نہ کریں، بلکہ خود ترقی کی تعمیر کریں۔
تیزی سے بدلتی دنیا میں مسائل بھی پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ توانائی، ماحولیاتی تبدیلی، صحت اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں فوری اور مؤثر حل درکار ہیں۔ ایسے میں اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنی تحقیق کو براہِ راست مصنوعات اور حل کی صورت میں پیش کریں، تو اس کا فائدہ وسیع پیمانے پر ہو سکتا ہے۔
آخرکار یہ تجربہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے: علم کی اصل قدر کیا ہے؟ شاید جواب یہ ہے کہ علم تب مکمل ہوتا ہے جب وہ معاشرے میں تبدیلی لا سکے۔ اگر تعلیم نئی راہیں تلاش کر رہی ہے تو اس کا مقصد یہی ہے کہ آنے والی نسل صرف خیالات نہ گھڑے، بلکہ انہیں حقیقت میں ڈھالے۔
