ہالینڈ ایک ایسا ملک ہے جو پانی کے ساتھ اپنی جدوجہد اور دوستی دونوں کے لیے مشہور ہے۔ صدیوں سے وہاں کے لوگ سمندر اور دریاؤں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے پانی سے توانائی حاصل کرنا ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے ایسی ٹربائنز تیار کی ہیں جو بجلی بھی پیدا کرتی ہیں اور مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کو نقصان بھی نہیں پہنچاتیں۔
عام طور پر جب ہم ہائیڈرو پاور یا پانی سے بجلی بنانے کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں تیز رفتار گھومنے والے بڑے بلیڈ آتے ہیں۔ یہ بلیڈ پانی کے بہاؤ سے حرکت میں آتے ہیں اور جنریٹر کو چلاتے ہیں۔ لیکن ان روایتی نظاموں میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پانی میں موجود مچھلیاں اکثر ان بلیڈز سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتی ہیں یا ہلاک ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر وہ مقامات جہاں دریاؤں میں مچھلیوں کی افزائش یا نقل و حرکت زیادہ ہوتی ہے، وہاں یہ مسئلہ ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔
ہالینڈ کے ماہرین نے اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر ایک مختلف طرز کی ٹربائن تیار کی۔ ان ٹربائنز کا ڈیزائن روایتی بلیڈز سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تیز رفتاری سے نہیں گھومتیں بلکہ آہستہ آہستہ حرکت کرتی ہیں۔ ان کی ساخت اس طرح رکھی گئی ہے کہ پانی کا بہاؤ مچھلیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے۔ یعنی یا تو مچھلیاں ٹربائن کے بیچ سے آرام سے گزر جاتی ہیں یا انہیں کنارے کی طرف موڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ کسی خطرے سے بچ سکیں۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر دریاؤں، نہروں اور سمندری مدوجزر والے علاقوں کے لیے موزوں ہے۔ ان جگہوں پر ماحولیاتی توازن بہت نازک ہوتا ہے۔ اگر وہاں کسی بھی قسم کی بڑی تعمیر یا تیز رفتار مشینری لگائی جائے تو پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ہالینڈ کی یہ نئی ٹربائن اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو زیادہ تبدیل نہیں کرتی۔ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بہتے ہوئے پانی سے توانائی حاصل کی جائے، بغیر اس کے کہ ماحول کو نقصان پہنچے۔
ان ٹربائنز کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ صاف اور قابلِ تجدید بجلی پیدا کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں کوئلے اور تیل جیسے ایندھن پر انحصار کم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ پانی، سورج اور ہوا جیسے قدرتی وسائل سے بجلی پیدا کرنا ایک بہتر حل ہے۔ مگر اگر قابلِ تجدید توانائی بھی ماحول کو نقصان پہنچانے لگے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ کا یہ اقدام بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ ٹربائنز نہ صرف مچھلیوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ پورے آبی نظام کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ آبی پودے، چھوٹے جاندار اور دیگر مخلوقات بھی اس نظام سے کم سے کم متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کا عمل ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر انجام دیا جا رہا ہے، نہ کہ اس کے خلاف جا کر۔
سائنس دانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کی ٹیکنالوجی کو دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اپنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں دریا اور نہریں توانائی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر ہر ملک اپنی ضروریات کے مطابق ماحول دوست ڈیزائن اپنائے تو توانائی اور قدرت کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
ہالینڈ کی یہ مثال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی اور تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ درست منصوبہ بندی اور تخلیقی سوچ کے ذریعے ہم ایسے حل نکال سکتے ہیں جو دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ صاف توانائی حاصل کرنا ضروری ہے، مگر حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر مچھلیاں، پرندے اور دیگر جاندار محفوظ رہیں گے تو قدرتی نظام بھی مضبوط رہے گا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہالینڈ کی مچھلی دوست ٹربائنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان اگر چاہے تو ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے جو فائدہ بھی دے اور نقصان بھی نہ پہنچائے۔ یہ صرف ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے، جس میں قدرت کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
