کبھی کبھی کائنات ہمارے سامنے سے گزر جاتی ہے اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ حال ہی میں ماہرین فلکیات نے ایک ایسے خلائی پتھر کے بارے میں انکشاف کیا جو زمین اور چاند کے درمیان سے گزرا، مگر ہماری نگرانی کے نظام اسے بروقت پہچان نہ سکے۔ اسے “ڈارک کومیٹ” یعنی سیاہ دمدار سیارچہ کہا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے چونکا دینے والا ہے کیونکہ ہماری سیاروی دفاعی ٹیکنالوجی عموماً ایسے اجسام کو ڈھونڈنے کے لیے بنائی گئی ہے جو سورج کی روشنی میں چمکتے ہیں، جبکہ یہ جسم غیر معمولی طور پر سیاہ تھا۔
عام طور پر جب کوئی شہابی پتھر یا دمدار سیارہ زمین کے قریب آتا ہے تو وہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ دوربینیں اسی روشنی کو پکڑ کر اس کی سمت اور رفتار کا اندازہ لگاتی ہیں۔ لیکن اس خاص جسم کی سطح مدھم سیاہ تھی، جیسے اس پر روشنی ٹھہر ہی نہ پاتی ہو۔ یہی وجہ بنی کہ وہ ہماری نظر سے تقریباً اوجھل رہا۔
ماہرین کے مطابق اس سیارچے میں ایک اور عجیب بات بھی تھی۔ اس سے معمولی مقدار میں گیس خارج ہو رہی تھی، جسے عام زبان میں “آؤٹ گیسنگ” کہا جاتا ہے۔ عموماً جب کسی دمدار سیارے سے گیس نکلتی ہے تو وہ ایک ہلکی سی دم یا چمک پیدا کرتی ہے، جس سے اسے پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر اس بار گیس کا اخراج اتنا کم اور غیر نمایاں تھا کہ روایتی آلات اسے واضح طور پر محسوس نہ کر سکے۔
یہ خلائی جسم زمین اور چاند کے درمیان سے گزرا۔ فلکیاتی پیمانے پر یہ فاصلہ زیادہ نہیں سمجھا جاتا۔ اگرچہ یہ زمین سے ٹکرایا نہیں، مگر اس کا بغیر کسی پیشگی انتباہ کے گزر جانا ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ کیا ہماری دفاعی تیاری مکمل ہے؟ یا ہمیں اپنی نگرانی کے طریقوں میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے؟
سیاروی دفاعی نظام دراصل دنیا بھر کی خلائی ایجنسیوں اور رصدگاہوں کا مشترکہ نیٹ ورک ہوتا ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ آسمان پر نظر رکھیں اور ایسے اجسام کی بروقت نشاندہی کریں جو زمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان نظاموں کی زیادہ توجہ چمکدار اور تیز رفتار اجسام پر ہوتی ہے، کیونکہ وہ نسبتاً آسانی سے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی جسم روشنی کم منعکس کرے یا اس کا رنگ گہرا ہو تو وہ پس منظر میں مدغم ہو سکتا ہے۔
اس واقعے نے سائنس دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ صرف روشنی پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ مستقبل میں شاید ایسے سینسرز اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو جو حرارت، کششِ ثقل یا دیگر اشاروں کی بنیاد پر بھی چھوٹے اور سیاہ اجسام کو شناخت کر سکیں۔ خلائی تحقیق کا میدان مسلسل ترقی کر رہا ہے، اور ہر نیا واقعہ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خلا بے حد وسیع ہے اور اس میں بے شمار چھوٹے بڑے اجسام گردش کر رہے ہیں۔ ہر گزرتا ہوا پتھر خطرہ نہیں ہوتا، مگر اس کی بروقت شناخت ہمیں ذہنی سکون اور حفاظتی تیاری فراہم کرتی ہے۔ اس “ڈارک کومیٹ” کے معاملے میں خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے ایک کمزوری ضرور نمایاں کر دی۔
سوشل میڈیا پر اس خبر نے کافی توجہ حاصل کی، مگر ماہرین نے اسے معلوماتی تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ سائنسی حقیقت کو واضح کرنا ہے۔ سائنس میں ہر دریافت ایک قدم آگے بڑھنے کا موقع ہوتی ہے۔ اگر کوئی خامی سامنے آتی ہے تو وہ آئندہ بہتری کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔
زمین کی حفاظت کا نظام مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا، بلکہ اس نے ہمیں یہ دکھایا کہ کائنات میں تنوع کتنا زیادہ ہے۔ ہر خلائی جسم ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ چمکتے ہیں، کچھ مدھم رہتے ہیں، اور کچھ اپنی موجودگی کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔ یہی تنوع تحقیق کو دلچسپ بھی بناتا ہے اور چیلنج بھی۔
آخرکار یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ابھی کائنات کو مکمل طور پر نہیں جانتے۔ ہماری ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، مگر سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ ایک خاموش، سیاہ خلائی مسافر زمین اور چاند کے درمیان سے گزرا اور ہمیں یہ سبق دے گیا کہ نگرانی کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
