جب ہیرے برسے: سائنس دانوں نے زمین پر ڈائمنڈ رین بنا دی


کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کسی سیارے پر ہیرے بارش کی طرح برستے ہوں؟ سننے میں یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، مگر حالیہ سائنسی تجربات نے اس خیال کو حقیقت کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ امریکہ کے SLAC نیشنل ایکسیلیریٹر لیبارٹری میں ماہرینِ طبیعیات نے ایک ایسا تجربہ کیا جس میں طاقتور لیزرز کی مدد سے ایک سادہ سی پلاسٹک کی بوتل کے اندر “ڈائمنڈ رین” یعنی ہیرے جیسی بارش پیدا کی گئی۔ اس کامیابی نے بیرونی سیاروں کی دنیا کو سمجھنے میں ایک اہم قدم ثابت کیا ہے۔

سائنس دانوں کا خیال تھا کہ نیپچون اور یورینس جیسے برفیلے دیو ہیکل سیاروں پر دباؤ اور درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہاں کاربن ایٹمز خاص حالات میں جڑ کر ہیرے بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک نظریہ تھا۔ اسے عملی طور پر ثابت کرنا آسان نہیں تھا، کیونکہ ان سیاروں جیسا ماحول زمین پر پیدا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اسی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے SLAC کے محققین نے ایک منفرد تجربہ ترتیب دیا۔

انہوں نے ایک خاص قسم کا پلاسٹک استعمال کیا جس میں کاربن اور ہائیڈروجن موجود ہوتے ہیں۔ اس پلاسٹک کو انتہائی طاقتور لیزر شعاعوں سے نشانہ بنایا گیا۔ جب لیزر نے اس مواد پر ضرب لگائی تو لمحوں میں زبردست دباؤ اور حرارت پیدا ہوئی، جو نیپچون اور یورینس جیسے سیاروں کے اندرونی ماحول سے مشابہ تھی۔ ان چند نینو سیکنڈز میں کاربن ایٹمز نے نئی ترتیب اختیار کی اور ننھے ننھے ہیرے تشکیل پانے لگے۔

یہ منظر عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں تھا، مگر جدید آلات نے اس عمل کو ریکارڈ کیا۔ اس سے واضح ہوا کہ مخصوص حالات میں واقعی کاربن ہیرے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اور یہ عمل قدرتی طور پر ان سیاروں کے اندر جاری ہو سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہاں واقعی ہیرے بارش کی صورت میں گہرائیوں میں گرتے ہوں گے۔

یہ دریافت صرف ایک دلچسپ خبر نہیں، بلکہ سیاروی سائنس کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ نیپچون اور یورینس جیسے سیاروں کی اندرونی ساخت کیسی ہو سکتی ہے۔ اگر وہاں ہیرے بنتے اور نیچے کی طرف گرتے ہیں تو ممکن ہے کہ ان سیاروں کے مرکز میں ہیرے کی ایک موٹی تہہ موجود ہو۔ یہ خیال جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی سائنسی طور پر قابلِ غور بھی۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس تجربے نے ثابت کیا کہ ہم زمین پر بھی ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں جو پہلے صرف خلا میں ممکن سمجھے جاتے تھے۔ طاقتور لیزرز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنس دان مادے کے رویے کو انتہائی حالات میں جانچ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف خلائی تحقیق میں مدد ملتی ہے بلکہ مواد کی سائنس اور توانائی کے شعبے میں بھی نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس تجربے کا مقصد ہیرے تیار کر کے زیورات بنانا نہیں تھا۔ اگرچہ سننے میں دلچسپ لگتا ہے کہ ہم “ہوا سے ہیرے” بنا سکتے ہیں، مگر اصل مقصد سیاروں کی فطرت کو سمجھنا تھا۔ سائنسی تحقیق اکثر ایسے نتائج سامنے لاتی ہے جو عام تصور سے کہیں زیادہ حیران کن ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے برسوں کی محنت اور باریک بینی شامل ہوتی ہے۔

یہ کامیابی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ کائنات میں قدرتی عمل کتنے منفرد اور غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ زمین پر بارش پانی کی ہوتی ہے، مگر کہیں اور کاربن کے قطرے ہیرے کی شکل اختیار کر کے برس سکتے ہیں۔ ہر سیارہ اپنی الگ کہانی رکھتا ہے، اور سائنس دان ان کہانیوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ SLAC کے اس تجربے نے ایک نظریے کو عملی ثبوت میں بدل دیا۔ اس نے دکھایا کہ سائنس محض قیاس آرائی نہیں بلکہ تجربے اور مشاہدے پر مبنی علم ہے۔ جب طاقتور لیزرز نے ایک سادہ پلاسٹک کے ٹکڑے کو نشانہ بنایا تو اس کے اندر وہی عمل ہوا جو اربوں کلومیٹر دور کسی سیارے کی گہرائی میں جاری ہو سکتا ہے۔ یہ انسان کی جستجو اور علم کی تلاش کی ایک اور مثال ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.