سورج سے ایٹمی طاقت: جاپان کا سولر سپر پینل جو توانائی کا مستقبل بدل دے

سورج سے ایٹمی طاقت: جاپان کا سولر سپر پینل جو توانائی کا مستقبل بدل دے

جاپان کے توانائی سے وابستہ سائنس دانوں نے ایک ایسی پیش رفت کا اعلان کیا ہے جس نے پوری دنیا میں صاف توانائی کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ایجاد کوئی عام سولر پینل نہیں بلکہ ایک انتہائی طاقتور “سولر سپر پینل” ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بیس جوہری ری ایکٹروں کے برابر ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی عملی سطح پر کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بجلی پیدا کرنے کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔

عام طور پر جو سولر پینلز ہم آج دیکھتے ہیں، وہ سورج کی روشنی کا صرف ایک محدود حصہ ہی بجلی میں تبدیل کر پاتے ہیں۔ عالمی سطح پر سولر پینلز کی اوسط کارکردگی زیادہ سے زیادہ 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی روشنی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ مگر جاپانی سائنس دانوں کی اس نئی ٹیکنالوجی نے اس مسئلے کو بالکل نئے انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس جدید سولر سپر پینل میں ملٹی لیئر کوانٹم فوٹو وولٹائک سیلز استعمال کیے گئے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، یہ سیلز سورج کی روشنی کو صرف ایک سطح پر جذب کرنے کے بجائے کئی تہوں میں تقسیم کر کے استعمال کرتے ہیں۔ ہر تہہ روشنی کے مختلف حصے کو بجلی میں تبدیل کرتی ہے، جس سے مجموعی کارکردگی حیران کن حد تک بڑھ جاتی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ پینلز 60 فیصد سے بھی زیادہ کارکردگی کے ساتھ توانائی پیدا کر سکتے ہیں، جو موجودہ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ایک بڑی جست ہے۔


Read This also

ایک بیگ، ایک بستر، ایک امید: بے گھر افراد کے لیے جرمنی کی انقلابی ایجاد

یہی غیر معمولی کارکردگی اس ٹیکنالوجی کو خاص بناتی ہے۔ زیادہ بجلی، کم جگہ، اور کم وسائل کے ساتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ توانائی پیدا کرنے کے لیے وسیع زمین یا بڑے انفراسٹرکچر کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ ایسے پینلز شہری علاقوں، صنعتی زونز، اور یہاں تک کہ محدود جگہوں پر بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سولر سپر پینلز کو صرف زمین کے لیے ہی نہیں بلکہ خلا میں استعمال کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خلا میں سورج کی روشنی زیادہ مسلسل اور طاقتور ہوتی ہے، اس لیے وہاں ایسے پینلز غیر معمولی نتائج دے سکتے ہیں۔ مستقبل میں سیٹلائٹس، اسپیس اسٹیشنز، اور دیگر خلائی منصوبے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یوں توانائی کی خود کفالت خلا میں بھی ایک حقیقت بن سکتی ہے۔

زمین پر اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا اثر فوسل فیولز پر انحصار میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس نہ صرف محدود وسائل ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلی کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ اگر سولر سپر پینلز بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگیں تو بجلی پیدا کرنے کے لیے آلودہ ایندھن کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف کاربن اخراج میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

جاپان پہلے ہی قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں اپنی سنجیدگی اور جدت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس نئی ایجاد نے اس کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اس بات کی علامت ہے کہ جاپان صرف توانائی کے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ رہا بلکہ دنیا کو ایک نیا راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ پیش رفت دوسرے ممالک کو بھی نئی سوچ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر قابلِ عمل ہو گئی تو یہ صاف توانائی کے شعبے میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ بجلی کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، توانائی زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے، اور ترقی پذیر ممالک کو بھی سستی اور صاف توانائی تک رسائی مل سکتی ہے۔ یہ سب عوامل مل کر عالمی معیشت اور ماحول دونوں پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

البتہ ہر بڑی ایجاد کی طرح اس ٹیکنالوجی کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر پیداوار، لاگت، اور طویل مدتی پائیداری جیسے سوالات ابھی تحقیق کے مراحل میں ہیں۔ مگر جاپانی سائنس دانوں کا اعتماد ہے کہ ان مسائل پر بھی وقت کے ساتھ قابو پا لیا جائے گا، جیسے ماضی میں دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہوا۔

یہ سولر سپر پینل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ توانائی کا مستقبل شاید ہماری توقع سے کہیں زیادہ روشن ہو سکتا ہے۔ جہاں کبھی بجلی کے لیے ایندھن جلانا ناگزیر سمجھا جاتا تھا، وہاں اب سورج کی روشنی ہی کافی ہو سکتی ہے۔ یہ ایجاد صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ اس امید کی علامت ہے کہ انسان اپنی ذہانت سے قدرت کے ساتھ بہتر تعلق قائم کر سکتا ہے۔

اگر یہ خواب حقیقت میں بدل گیا تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں وہ دور یاد کر کے حیران ہوں جب صاف اور لامحدود توانائی موجود ہونے کے باوجود ہم آلودگی پھیلانے والے ذرائع پر انحصار کرتے تھے۔ جاپان کی یہ پیش رفت اسی روشن مستقبل کی ایک جھلک ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.