یہ تصور بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ فرانس کی خوبصورت گلیوں میں بس کا انتظار اب محض وقت گزارنے کا نام نہیں رہا۔ وہاں کچھ بس اسٹاپس کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ انتظار کرنے والا شخص خود ایک چھوٹا سا پاور پلانٹ بن جاتا ہے۔ اس منفرد منصوبے کے تحت بس اسٹاپ پر ایسی آرام دہ پیڈل سیٹیں لگائی گئی ہیں جن پر بیٹھ کر لوگ ہلکی پھلکی ورزش کر سکتے ہیں۔ یہ صرف جسمانی حرکت نہیں، بلکہ توانائی پیدا کرنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔
عام طور پر بس کا انتظار ہمیں بور کر دیتا ہے۔ لوگ موبائل فون پر اسکرول کرتے ہیں، یا خاموشی سے کھڑے رہتے ہیں۔ مگر فرانس میں اس سوچ کو بدلا گیا۔ یہاں شہری ڈیزائن کو انسانی صحت اور ماحول دوست حل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ پیڈل سیٹ پر بیٹھ کر جیسے ہی کوئی شخص پاؤں چلانا شروع کرتا ہے، اس کی جسمانی طاقت ایک خاص نظام کے ذریعے بجلی میں بدلنے لگتی ہے۔ یہ بجلی فوری طور پر بس اسٹاپ پر موجود لائٹس، ڈیجیٹل اسکرینز یا چارجنگ پوائنٹس کو فراہم کی جاتی ہے۔
اس منصوبے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی دباؤ کے بغیر لوگوں کو حرکت پر آمادہ کرتا ہے۔ نہ تو یہ زبردستی ہے اور نہ ہی کوئی مشکل ورزش۔ بس چند منٹ کا ہلکا سا پیڈل، جو دل کی دھڑکن کو بہتر بناتا ہے اور جسم کو تازگی دیتا ہے۔ لوگ خود محسوس کرتے ہیں کہ وہ انتظار کے وقت کو کسی مثبت کام میں بدل رہے ہیں۔ یہی احساس انہیں خوشی اور اطمینان دیتا ہے۔
یہ نظام تکنیکی طور پر بھی خاصا دلچسپ ہے۔ پیڈل کے ساتھ ایک جنریٹر جڑا ہوتا ہے جو حرکت کو محفوظ طریقے سے بجلی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ بجلی فوراً استعمال ہو جاتی ہے، یعنی اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بیٹری سسٹمز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح توانائی کا ضیاع کم سے کم ہوتا ہے۔ ایک عام شہری شاید یہ نہ سوچے کہ اس کے چند منٹ کے پیڈل سے واقعی کچھ فرق پڑ سکتا ہے، مگر جب یہی عمل سینکڑوں لوگ روزانہ دہراتے ہیں تو مجموعی طور پر ایک قابلِ ذکر مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔
ماحول کے حوالے سے یہ ایک مثبت قدم ہے۔ دنیا بھر میں شہروں کو بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور آلودگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر عوامی مقامات پر چھوٹے پیمانے پر توانائی پیدا کی جائے تو اس کا بوجھ مرکزی پاور گرڈ پر کم ہو سکتا ہے۔ فرانس کا یہ تجربہ دکھاتا ہے کہ ماحول دوست حل ہمیشہ مہنگے یا پیچیدہ نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی تخلیقی سوچ اور سادہ ڈیزائن بھی بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اور فائدہ سماجی رویوں میں تبدیلی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کی ذاتی کوشش سے روشنی جل رہی ہے یا موبائل چارج ہو رہا ہے تو انہیں توانائی کی قدر کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بجلی کو ایک مفت اور لامحدود چیز کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ شعور آگے چل کر گھروں اور دفاتر میں بھی توانائی کے بہتر استعمال کی طرف لے جا سکتا ہے۔
شہری زندگی میں صحت ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ زیادہ تر لوگ دن بھر بیٹھے رہتے ہیں، جس کے اثرات جسم پر آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔ بس اسٹاپ پر لگے یہ پیڈل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ تھوڑی سی حرکت بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اگر روزانہ کے معمول میں چند منٹ کی سرگرمی شامل ہو جائے تو طویل مدت میں اس کے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔
فرانس کا یہ خیال دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔ اگر اسکولوں، پارکس، ریلوے اسٹیشنز اور دیگر عوامی مقامات پر ایسے سسٹمز لگائے جائیں تو نہ صرف توانائی پیدا ہو سکتی ہے بلکہ لوگوں میں صحت مند عادات بھی فروغ پا سکتی ہیں۔ یہ تصور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جدید مسائل کے حل کے لیے جدید سوچ ضروری ہے، مگر اس کا مطلب ہمیشہ پیچیدہ ٹیکنالوجی نہیں ہوتا۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فرانس کے ان بس اسٹاپس نے انتظار کے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب انتظار وقت کا ضیاع نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ ایک موقع اپنے جسم کے لیے کچھ کرنے کا، ماحول کے لیے مثبت قدم اٹھانے کا، اور اس بات کو سمجھنے کا کہ چھوٹی کوششیں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ شاید آنے والے وقت میں دنیا کے مزید شہر اس خیال کو اپنائیں اور روزمرہ زندگی کو زیادہ بامقصد بنا دیں۔
