ناخن: ایک چھوٹی چیز، مگر صحت کی سب سے خاموش رپورٹ


زیادہ تر لوگ ناخنوں کو ایک معمولی سی چیز سمجھتے ہیں۔ کبھی خارش کرنے کے کام آتے ہیں، کبھی کسی چیز کو کھرچنے کے لیے، اور کبھی صرف اس لیے کاٹ دیے جاتے ہیں کہ لمبے ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ناخن انسانی جسم کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے حیاتیاتی اوزاروں میں سے ایک ہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو آسان بناتی ہے بلکہ ہماری صحت کے بارے میں خاموشی سے بہت کچھ بتا رہی ہوتی ہے۔

اگر آپ غور کریں تو ناخن دراصل کراتین نامی پروٹین سے بنتے ہیں۔ یہی وہی مادہ ہے جس سے ہمارے بال بنتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بال نرم ہوتے ہیں جبکہ ناخن سخت۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ناخن ہم باہر دیکھتے اور کاٹتے ہیں، وہ حقیقت میں زندہ ہی نہیں ہوتے۔ جی ہاں، ناخن کا وہ حصہ جو انگلی سے باہر نکلا ہوتا ہے، مردہ خلیات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اصل زندگی تو جلد کے اندر چل رہی ہوتی ہے، ایک جگہ جسے نیل میٹرکس کہا جاتا ہے۔ یہ نیل میٹرکس ایک فیکٹری کی طرح کام کرتی ہے جہاں ہر لمحہ نئی خلیات بنتی رہتی ہیں۔ یہ نئی خلیات پرانی خلیات کو آگے کی طرف دھکیلتی ہیں۔ جیسے جیسے یہ خلیات آگے بڑھتی ہیں، وہ سخت ہو جاتی ہیں اور ہم انہیں ناخن کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ناخن خود مردہ خلیات ہیں تو پھر وہ بڑھتے کیسے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ناخن نہیں بڑھتے بلکہ آپ کا جسم بڑھتا ہے۔ نیل میٹرکس مسلسل نئی خلیات بناتی رہتی ہے، اور یہی عمل ہمیں یہ محسوس کرواتا ہے کہ ناخن لمبے ہو رہے ہیں۔

اسی وجہ سے بچوں کے ناخن بہت تیزی سے بڑھتے ہیں، کیونکہ ان کا جسم تیزی سے نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔ حمل کے دوران خواتین میں ناخنوں کی رفتار بڑھ جاتی ہے کیونکہ جسم میں ہارمونز کی سطح بدل جاتی ہے۔ اس کے برعکس، بیماری، ذہنی دباؤ، یا شدید تھکن کے دوران ناخنوں کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ناخن جسم کے اندرونی حالات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

اب اگر ہم ارتقا کے زاویے سے دیکھیں تو معاملہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے۔ ہمارے قدیم اجداد کے پاس نوکیلے پنجے یا claws ہوتے تھے، جو شکار پکڑنے اور دفاع کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ جب انسان نے اوزار بنانا اور استعمال کرنا سیکھ لیا، تو ان پنجوں کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ لیکن ناخن ختم نہیں ہوئے۔ کیوں؟ کیونکہ ناخن نے ایک نیا اور زیادہ قیمتی کردار سنبھال لیا۔

ناخن ہماری انگلیوں کو وہ باریک مہارت دیتے ہیں جس کے بغیر بہت سے کام ممکن ہی نہیں۔ سوئی میں دھاگہ ڈالنا، چھوٹی چیز اٹھانا، لکھنا، بٹن بند کرنا، موبائل اسکرین استعمال کرنا، یہ سب کام ناخنوں کی مدد سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔ اگر ناخن نہ ہوں تو ہماری انگلیاں اتنی حساس اور کارآمد نہ رہیں۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ناخن صرف کام کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تشخیص کا ایک خاموش آلہ بھی ہیں۔ کئی ڈاکٹر مریض کا خون ٹیسٹ کرنے سے پہلے اس کے ناخن دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے۔ نیلگوں یا نیلے رنگ کے ناخن آکسیجن کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پیلے ناخن کسی انفیکشن یا فنگس کی علامت ہو سکتے ہیں۔ ناخنوں پر سفید دھبے اکثر غذائی کمی یا معدنیات کی عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں۔

کبھی کبھی ناخنوں کا ٹوٹنا، ان میں لکیریں آ جانا، یا ان کا غیر معمولی موٹا ہو جانا بھی جسم میں کسی مسئلے کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ناخن ایک خاموش زبان بولتے ہیں، جو ہر روز آپ کی صحت کی کہانی سنا رہے ہوتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم انہیں غور سے دیکھیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر ناخنوں کو صرف خوبصورتی یا صفائی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ نیل پالش، نیل آرٹ اور فیشن تو بہت ہے، مگر یہ سمجھ کم ہے کہ ناخن دراصل ہماری جسمانی حالت کی ایک رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم اندر سے کتنے مضبوط یا کمزور ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ قدرت نے اتنی چھوٹی سی چیز میں اتنی بڑی معلومات چھپا دی ہیں۔ ناخن نہ چیختے ہیں، نہ شکایت کرتے ہیں، بس خاموشی سے اشارے دیتے رہتے ہیں۔ اگر ہم ان اشاروں کو سمجھنا سیکھ لیں، تو بہت سی بیماریوں کو وقت سے پہلے پہچانا جا سکتا ہے۔

آخر میں بات بالکل صاف ہے۔ آپ کے ناخن صرف خارش کرنے یا کاٹنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ آپ کے جسم کا ایک اہم حیاتیاتی اوزار ہیں، ایک زندہ رپورٹ، اور ایک خاموش پیغام رساں۔ اگلی بار جب آپ اپنے ناخن دیکھیں، تو انہیں معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ آپ کو آپ کی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا رہے ہوں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.